Connect with us

بہار

الیکشن کمیشن کے خصوصی مبصر نے سیاسی جماعتوں اور EROs کے ساتھ کی میٹنگ

Published

on

(پی این این)
سونپور :الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خصوصی مبصر برائے الیکٹورل رول سنئیر آئی پی ایس نجم الہدی نے ضلع کے اپنے دوسرے دورہ کے دوران کلکٹریٹ آڈیٹوریم میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور ودھان سبھا کے ای آر او کے ساتھ جائزہ میٹنگ کیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بڑی اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ہم آپ کی مدد سے ہی کام کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا سے بڑی امید تھی کہ سیاسی جماعتوں کے بی ایل اے ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔لیکن ان کی سطح سے کوئی دعویٰ اعتراض موصول نہیں ہوا۔انہوں نے پارٹی کے نمائندوں سے اس کی وجہ پوچھی۔لوگوں نے بتایا کہ بی ایل اے نے بی ایل اوز کے ساتھ میٹنگ کر کے فیلڈ میں کام کیا ہے۔ان کے تعاون سے مسودہ فہرست میں تصحیح کا کام جاری ہے۔
ہدی نے کہا کہ فیلڈ سے ملنے والی فیڈ بیک کو پارٹیوں کی قیادت کو بھی دینی چاہیے۔اس سے بیانیہ اور حقیقت واضح ہو جائے گی۔خصوصی نظر ثانی ایک بہت بڑی مہم ہے۔لیکن آپ سب نے اجتماعی کوششوں سے اس کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا ہے۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کا واضح ارادہ ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کو چھوڑا نہ جائے۔پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد کمیشن اور عوام کا اعتماد بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کوتاہیوں کے حوالے سے بہت چوکنا ہے۔انہیں مکمل شفافیت کے ساتھ درست طریقے سے حل کرنے کا کام حتمی ووٹر لسٹ شائع ہونے سے پہلے مکمل کرنا ہوگا۔یہ مہم ڈیلیٹ کرنے کی نہیں بلکہ انضمام کے بارے میں ہے۔
قبل ازیں ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال نے PPT کے ذریعے اب تک کی سرگرمیوں کو پوائنٹ وائز پیش کیا۔ضلعی پروفائل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل 28,61,026 ووٹرز کے نام ڈرافٹ رول میں شامل کیے گئے ہیں۔اس میں 15,07,649 مرد،13,53,362 خواتین،15 تیسری جنس،24,842 معذور، 85 سال سے زیادہ عمر کے 16,879 ووٹرز،11,039 سروس ووٹرز شامل ہیں۔دعویٰ اعتراض کے دوران کل 21268 فارم-6،9226 فارم-7 اور 15221 فارم-8 موصول ہوئے ہیں۔ان کی نمٹارے کا عمل جاری ہے۔دعوؤں اور اعتراضات کے لیے کل 30 خصوصی کیمپ چلائے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر بی جے پی کے ضلع صدر رنجیت کمار سنگھ،آر جے ڈی آفس سکریٹری اپیندر کمار، کانگریس کے آشیش کمار و فیروز اقبال،جے ڈی یو جنرل سکریٹری پربھاش شنکر،بی ایس پی کے ضلع صدر منوج رام،آر ایل ایس پی کے ضلع صدر ڈاکٹر اشوک کشواہا،ایل جے پی کے نائب صدر مرتیونجے کمار سنگھ،ضلع پبلک ریلیشن آفیسر رویندر کمار،ڈی ایم ڈبلو او روی پرکاش،ایکما ای آر او ششی کمار،ترئیان ای آر او دھننجے ترپاٹھی،مڑھوڑہ ای آر او ندھی راج،چھپرہ ای آر او نتیش کمار،گرکھا ای آر او اوم پرکاش،امنور ای آر او شیو کمار پنڈت،پرسا ای آر او رادھے شیام کمار مشرا اور سونپور ای آر او اسنگدھا نیہا وغیرہ موجود تھے۔

بہار

بہار مدرسہ بورڈ کی تیاریاں مکمل،وسطانیہ امتحان 11 جنوری سے

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی :بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے زیرِ اہتمام ہونے والے وُسطانیہ (آٹھویں) سال 2026 کے امتحان کا اعلان جاری کر دیا گیا ہے۔ امتحان 11 سے 15 جنوری 2026 تک مسلسل دو نشستوں میں منعقد ہوگا۔ پہلی نشست صبح 10 بجے سے 12 بجے تک جبکہ دوسری نشست دوپہر 2 بجے سے 4 بجے تک ہوگی۔ ضلع بھر کے مقررہ امتحان مراکز پر امتحان پُرامن اور منظم انداز میں لینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سیتامڑھی ضلع کے مختلف تسلیم شدہ مدارس سے بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اس امتحان میں شریک ہوں گے۔ بورڈ کی جانب سے امتحان کو شفاف، نقل سے پاک اور وقت کی پابندی کے ساتھ منعقد کرانے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سوالیہ پرچوں کی رازداری، جوابی کاپیوں کی محفوظ نقل و حمل اور امتحانی مراکز پر سخت نگرانی کے واضح ہدایت جاری کیے گئے ہیں۔ امتحان کے دوران ہر مرکز پر مرکزِ نگران اور دیگر عملے کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ساتھ ہی امتحانی مراکز پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری رہنما اصول نافذ کیے گئے ہیں۔ طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وقت سے پہلے مرکزِ امتحان پر پہنچیں، ایڈمٹ کارڈ ساتھ رکھیں اور بورڈ کے تمام قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے سیکرٹری عبدالسلام انصاری، مدرسہ حمیدیہ دارالْبنات حسینہ مہسول، سیتامڑھی کے پرنسپل مولانا ضیاءُالرحمن قاسمی اور مدرسہ رحمانیہ مہسول کے سابق صدر محمد ارمان علی نے کہا کہ وُسطانیہ امتحان مدرسہ تعلیم کی بنیادی اور اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے طلبہ کی علمی صلاحیتوں اور تعلیمی معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ امتحان کے سلسلے میں طلبہ میں جوش و خروش پایا جاتا ہے اور وہ بھرپور تیاری کے ساتھ امتحان میں شرکت کے لیے پُرعزم ہیں۔

Continue Reading

بہار

بہار میں کیمپ لگا کر بنائے جارہے ہیں مفت آیوشمان کارڈ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ:رکن پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڈی کے توسط سے آیوشمان کارڈ رجسٹریشن کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔20 نکاتی پروگرام کے چیئرمین دھرمیندر سنگھ چوہان کی نمائندگی میں دیوریا گاؤں میں ونود سنگھ کی رہائش پر منعقدہ کیمپ میں 204 مستفیدین کے مفت آیوشمان کارڈ بنائے گئے۔
اس موقع پر چوہان نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ڈریم پراجیکٹ آیوشمان بھارت تک ہر کسی تک رسائی کے لیے کام کر رہے ہیں۔جب سے وزیر اعظم نے غریبوں کے علاج کے لیے آیوشمان کارڈ کا آغاز کیا ہے سارن لوک سبھا حلقہ میں ایم پی کے کارکن گاؤں گاؤں جا رہے ہیں۔ایک دن پہلے اپنی اشتہار گاڑی سے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے اور پھر لوگوں کا رجسٹریشن کرنے کے لیے اگلے دن سروس گاڑی کے ساتھ مکمل نظام کو بھیجا جاتا ہے۔آن دی اسپاٹ لوگوں کا فری رجسٹریشن کیا جاتا ہے۔15 دن کے بعد ایم پی کنٹرول روم ان تمام لوگوں کو مطلع کرتا ہے جن کے کارڈ بن چکے ہوتے ہیں۔انہیں کارڈ تقسیم کئے جاتے ہیں۔
چوہان نے کہا کہ آیوشمان کارڈ غریبوں کے لیے ایک وردان ثابت ہو رہا ہے۔یہ اسکیم غریبوں کو پیسے کی کمی کی وجہ سے اپنی جان گنوانے سے بچاتی ہے۔کیمپ کو کامیاب بنانے میں بی جے وائی ایم کے سابق ضلع صدر گاما سنگھ،ڈاکٹر تارکیشور تیواری،سابق منڈل صدر سنجے تیواری وارثی،راج کمار تیواری،جنرل سکریٹری پریا کانت کشواہا،نائب صدر راکیش سنگھ نے تعاون کیا۔موقع پر راہل کمار،اوم پرکاش،وکاس،سوربھ،برجیش اور ایم پی کنٹرول روم کے معاون وغیرہ موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

گورنر کے نام زمین رجسٹری کرنا گویا زمین کی ملکیت حکومت کو منتقل کرنا ہے:امارت شرعیہ

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے ایک پریس بیان میں کہاہے کہ بعض علاقوں سے یہ اطلاع مل رہی ہے کہ مسلمان مسجد ، مدرسہ ، قبرستان او ر عید گاہ وغیرہ کی زمین گورنر صاحب کے نام رجسٹری کرنے کی پہل کر رہے ہیں اور ان کی سوچ یہ ہے کہ اس سے زمین محفوظ رہے گی اور مدارس ومساجد کابھی تحفظ ہوگا،یہ اقدام درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ گورنر کے نام جو زمین رجسٹری ہوتی ہے اس کی ملکیت حکومت کو منتقل ہو جاتی ہے اور اس جائداد کے سلسلہ میں سارا اختیار حکومت کا ہوتا ہے، موجودہ صورت حال میں ایسا اقدام نہ تو مذہبی نقطۂ نظر سے درست ہے اور نہ اس طریقہ سے ذاتی زمینوں یا اوقاف کی زمین کا تحفظ ہو سکتا ہے ، بلکہ آنے والے دنوں میں بے شمار خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لئے ایسے اقدام سے گریز کیا جائے ، مدارس ومساجد ، عید گاہ وقبرستان ملی سرمائے ہیں ان کا صحیح نظم ونسق اور تحفظ خود مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ،اس لئے ضرورت ہے کہ ایسی زمینوں کے کاغذات کو قانونی اعتبار سے مستحکم رکھا جائے ،انتظامیہ کمیٹی کی شکل میں ٹرسٹ بنا کر ان کے نظام کو شریعت کی روشنی میں چلایا جائے ، امارت شرعیہ سمیت دیگر ملی تنظیمیں مسلسل ایسے امور کے بارے میں رہنمائی کر رہی ہیں ، ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھایا جائے اور صلاح ومشورہ کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایاجائے ۔
ناظم صاحب نے مزید کہا کہ مخدوم گرامی امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی اس سلسلہ میں بے حد فکر مند ہیں اور اوقاف کے رجسٹریشن،غیر رجسٹرڈ زمینوں کے تحفظ کے طریقۂ کار اور جو زمینیں کسی طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں یا اس کے کاغذات موجود نہیں ہیں ،ان سے متعلق قانونی و شرعی نقطۂ نظر سے غور و فکر کر رہے ہیں اور جلد ہی ان امور سے متعلق مناسب رہنمائی فراہم کرائی جائے گی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network