Connect with us

اتر پردیش

اے ایم یو میں قومی یوم کھیل پر رنگا رنگ تقریبات اور کھیل سرگرمیوں کا اہتمام

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں قومی یوم کھیل جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ یہ دن ہاکی کے جادوگر میجر دھیان چند کے یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے، جنہوں نے ہاکی میں ہندوستان کو تین اولمپک گولڈ میڈل دلاکر ملک کا نام روشن کیا۔ اس موقع پر اے ایم یو کی یونیورسٹی گیمز کمیٹی، کالجوں اور مختلف اسکولوں نے ہاکی کے میچ، ٹورنامنٹ، فٹنس سرگرمیوں، اور خصوصی اسمبلی کا اہتمام کیا۔
گیمز کمیٹی کے زیر اہتمام یونیورسٹی ہاکی گراؤنڈ میں اے ایم یو بلیو اور اے ایم یو یلو کے درمیان ہاکی میچ کھیلا گیا۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر رفیع الدین، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر اور مہمانان اعزازی کے طور پر پروفیسر معین الدین، رکن ایگزیکٹیو کونسل اور پروفیسر ایس امجد علی رضوی، سکریٹری، یونیورسٹی گیمز کمیٹی موجود تھے۔ ان کے علاوہ پروفیسر غلام سرور ہاشمی، صدر ہاکی کلب؛ پروفیسر محمد شمیم، صدر ہائیکنگ کلب؛ پروفیسر محمد انس، صدر فٹ بال کلب؛ جناب انیس الرحمن، ڈپٹی ڈائریکٹر؛ جناب ارشد محمود، ڈاکٹر محمد محسن، ڈاکٹر شمشاد عالم اسسٹنٹ ڈائریکٹر؛ اور جناب مظہر القمر، جمنازیم انسٹرکٹر بھی موجود رہے۔ میچ کے ریفری محمد سیف تھے، اور اختتام پر پروفیسر غلام سرور ہاشمی نے شکریہ کے کلمات ادا کیے۔
دوسری طرف یونیورسٹی کی نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) اکائی نے ایک یادگاری پروگرام منعقد کیا، جس میں ٹیم ورک، عزم و ہمت اور مجموعی ترقی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر محمد محسن خان، این ایس ایس کوآرڈینیٹر نے کی جبکہ ڈاکٹر نوشاد نجیب کنوینر تھے۔
کلیدی خطاب میں نعیم احمد نے کہا کہ کھیل جسمانی، ذہنی، اور جذباتی صحت کی تشکیل میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ کھیلوں کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈسپلن، ٹیم ورک اور حوصلہ مندی زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری صفات ہیں۔ ڈاکٹر محمد حنیف اور ڈاکٹر منصور عالم صدیقی نے صحت اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں پابندی کے ساتھ شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر عبدالجبار نے اظہار تشکر کیا۔
قومی یوم کھیل پر ویمنس کالج میں اوپن ڈسٹرکٹ ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ (سنگلز) کا اہتمام کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں پروفیسر برج بھوشن سنگھ بطور مہمانِ خصوصی اور ڈاکٹر جمیل احمد بطور مہمانِ اعزازی شریک ہوئے۔ ویمنس کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی کی سرپرستی میں منعقدہ اس پروگرام کی آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر نازیہ خان، اسسٹنٹ ڈائرکٹر تھیں۔ کوآرڈینیٹرز میں آفریں نعیم، نبیلہ خان، اور ساریکا شامل تھیں، جبکہ تقریب کی میزبانی کامنہ اور مہوش نے کی۔ یہ ٹورنامنٹ 30 اگست تک جاری رہے گا، جس میں ایم یو اور ضلع کے مختلف اسکولوں اور کالجوں کی طالبات شرکت کررہی ہیں۔
یونیورسٹی کے اسکولوں میں بھی طلبہ نے مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور ثقافتی پروگراموں میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ ایم یو گرلز اسکول کی پرنسپل مسز آمنہ ملک اور وائس پرنسپل مس الکا اگروال کی نگرانی میں ایک خصوصی اسمبلی منعقد کی گئی، جس میں بارہویں جماعت کی طالبہ سدرہ ناز نے خطاب کیا۔ اسمبلی کے بعد اول تا پنجم جماعت کی طالبات کے لئے ٹگ آف وار، میوزیکل چیئر، بُک بیلنسنگ ریس، اسپون ریس، فراگ ریس، اور تین ٹانگوں پر دوڑ کے مقابلے منعقد کئے گئے۔ پروگرام کے کوآرڈنیٹر محمد عمران خان تھے۔
اسی کڑی میں 30 اگست کو سینئر طالبات کے درمیان انٹر ہاؤس مقابلے ہوں گے۔ نویں سے بارہویں جماعت کی طالبات ٹگ آف وار، کرکٹ اور والی بال کے مقابلوں میں حصہ لیں گے جبکہ چھٹی سے آٹھویں جماعت کی طالبات کے لئے کھوکھو کا مقابلہ ہوگا۔
ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) میں یوم کھیل پروگرام کی افتتاحی تقریب اسٹوڈنٹس یونین ہال میں منعقد ہوئی جس میں پروفیسر قدسیہ تحسین، ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائرکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ وائس پرنسپل ڈاکٹر صبا حسن نے شکریہ کے کلمات ادا کیے۔ پہلے دن ہاکی کے میچ اور ٹریک ایونٹس ہوئے۔ کرکٹ، والی بال، رسی کود، اور یوگ سیشن میں بھی طالبات حصہ لے رہی ہیں۔ کھیلوں کے انچارج ذیشان نواب، کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فرحت پروین، پرو پروکٹر مس فخرہ یاسین اور ہاؤس انچارجوں کی نگرانی میں یہ مقابلے منعقد ہورہے ہیں۔
عبداللہ اسکول میں ہندی، انگریزی، اور اردو میں تقریروں کے ساتھ یوم کھیل کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا، جس کے بعد دوڑ، مسئلہ حل کرنے کی سرگرمی، اور بیڈمنٹن کے مقابلے ہوئے۔ سپرنٹنڈنٹ محترمہ عمرہ ظہیر نے بچوں کو فٹنس کا حلف دلایا۔ گیمز ٹیچر جناب محمد عظیم حمید نے پروگراموں کے انعقاد میں تعاون کیا۔
ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) میں اسپورٹس ڈے کے دوران ہاکی اور فٹ بال کے میچ، اور چھوٹے طلبہ کے لیے دوڑ کا اہتمام کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید خرم نثار مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ پرنسپل ڈاکٹر ثمینہ نے طلبہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ پروگرام کا انتظام جناب رئیس احمد اور مس ندا عثمانی نے سنبھالا اورحلیمہ رزاق نے معاونت کی۔
احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں بھی تین روزہ یوم کھیل تقریبات کا آغاز ایک خصوصی اسمبلی سے ہوا، جس کی قیادت کھیلوں کی انچارج مس ثنا رضا نے کی۔ انھوں نے طلبہ کو فٹنس کا حلف دلایا۔ ریلے ریس، رسی کود، سیک ریس، اور لیمن ریس میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ پرنسپل ڈاکٹر نائلہ رشید نے اپنے خطاب میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کے ساتھ ہی جناب سید شاہ رخ حسین نے اولمپکس اور پیرا اولمپکس کے بارے میں گفتگو کی اور یوم کھیل کی اہمیت پر زور دیا۔

اتر پردیش

پروفیسر رخشندہ فاضلی اے ایم یو کے شعبہ مغربی ایشیائی و شمال افریقی مطالعات کی چیئرپرسن مقرر

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:پروفیسر رخشندہ فاروق فاضلی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے شعبہ مغربی ایشیائی و شمال افریقی مطالعات کا نیا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار 28 جنوری 2026 سے آئندہ تین سال ہوگی۔
تدریس و تحقیق کے میدان میں 24 برس سے زائد کا تجربہ رکھنے والی پروفیسر فاضلی نے اے ایم یو سے جغرافیہ میں ایم اے اور ایم فل اور مغربی ایشیائی مطالعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انھیں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جیو انفارمیشن سائنس اینڈ ارتھ آبزرویشن، اینسخیدے، نیدرلینڈز کی نیدرلینڈز فیلوشپ مل چکی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دہرہ دون کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ریموٹ سینسنگ (آئی آئی آر ایس) میں ریموٹ سینسنگ اور جی آئی ایس کی اعلیٰ تربیت کے لیے این این آر ایم ایس فیلوشپ بھی حاصل کی ہے۔
ان کی تحقیقی دلچسپیوں میں ہجرت، ڈائسپورا، وسائل کی ترقی، اور سماجی علوم کی تحقیق میں ریموٹ سینسنگ اور جی آئی ایس کا اطلاق جیسے موضوعات شامل ہیں۔ انہوں نے انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (آئی سی ایس ایس آر) کی زیر سرپرستی بڑے تحقیقی پروگراموں اور ہندوستان–جی سی سی ہجرت اور سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق پروجیکٹوں کی قیادت کی ہے، اور کیمبرج، آکسفورڈ اور جارج ٹاؤن جیسی ممتاز جامعات میں اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے ہیں۔ پروفیسر فاضلی نے علمی مقاصد کے لیے برطانیہ، فرانس، نیدرلینڈز، جرمنی اور امریکہ کا بھی دورہ کیا ہے۔
انہوں نے قومی اور بین الاقوامی جرائد میں ساٹھ سے زائد تحقیقی مقالات شائع کیے ہیں۔ وہ متعدد پیشہ ورانہ اور علمی اداروں کی رکن ہیں، جن میں انڈین ایسوسی ایشن آف سینٹرل اینڈ ویسٹ ایشین اسٹڈیز، انڈین سوسائٹی آف ریموٹ سینسنگ (آئی ایس آر ایس)، انٹرنیشنل جیوگرافیکل یونین (آئی جی یو)، انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ہائیڈرولوجیکل سائنسز (آئی اے ایچ ایس) اور نیشنل ایسوسی ایشن آف جیوگرافرز انڈیا (این اے جی آئی) شامل ہیں۔

Continue Reading

اتر پردیش

خواجہ یونیورسٹی میں اودھی زبان کو نصاب میں شامل کرنے کا اعلا ن

Published

on

(پی این این )
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں اودھی ریسرچ چیئر کی پہلا اجلاس نہایت کامیابی کے ساتھ انعقاد ہوا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد اودھی زبان، اس کے ادب اور لوک ثقافت کے تحفظ، فروغ اور تعلیمی ارتقا کو ایک منظم اور مؤثر سمت دینا تھا۔میٹنگ کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے کی۔
اس موقع پر انھوں نے اودھی زبان کی تاریخی، ثقافتی اور سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اودھی ہماری تہذیبی وراثت کی ایک طاقتور اور زندہ علامت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یونیورسٹی جلد ہی اودھی زبان کو ایک مستقل اور باقاعدہ مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرے گی، تاکہ طلبہ و طالبات کو اپنی لوک زبان میں تعلیم اور تحقیق کے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ اودھی زبان کے ذریعے لوک ثقافت، ادب اور سماج کے درمیان گہرے اور مضبوط رشتے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت یونیورسٹی اودھی سے متعلق تحقیقی منصوبوں، سمیناروں، ورکشاپس اور دیگر علمی و ادبی سرگرمیوں کو خصوصی ترجیح دے گی۔
اجلاس میں اودھی ریسرچ چیئر کے اراکین، پروفیسر سوریہ پرتاپ دکشت، پروفیسر ودیا بندھو سنگھ، ڈاکٹر رام بہادر مشرا اور ڈاکٹر سرویش استھانا نے شرکت کی۔ تمام اراکین نے اودھی زبان کے تحفظ، اس کی دستاویز سازی، ادبی تحقیق اور نئی نسل تک اس کے فروغ کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں اور اودھی ادب کو علمی و تحقیقی سطح پر مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی وضع کرنے پر زور دیا۔اس موقع پر اودھی ریسرچ چیئر کے کنوینر ڈاکٹر نیرج شکلا کے ساتھ ڈاکٹر یوگیندر سنگھ، ڈاکٹر آرادھنا استھانا اور ڈاکٹر ہمانشو گنگوار بطور معاون کنوینر موجود رہے۔
کنوینر منڈل نے چیئر کی آئندہ عملی منصوبہ بندی، تحقیقی موضوعات کے انتخاب، اشاعتی سرگرمیوں اور مجوزہ تعلیمی پروگراموں پر تفصیلی غور و خوض کیا۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اودھی زبان اور ثقافت سے متعلق خصوصی کورسز، سرٹیفکیٹ پروگرام، تحقیقی منصوبے اور ثقافتی تقاریب منعقد کی جائیں گی، تاکہ طلبہ کو تعلیمی کے ساتھ ساتھ عملی سطح پر بھی فائدہ پہنچایا جا سکے۔ مزید برآں اودھی ادب، لوک گیتوں، لوک ناٹک اور روایتی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل آرکائیو تیار کرنے کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
میٹنگ کے اختتام پر تمام اراکین نے متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ اودھی زبان کو قومی سطح پر شناخت دلانے اور اسے علمی و ادبی منظرنامے میں نمایاں مقام عطا کرنے کے لیے یونیورسٹی کی کوششوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا۔

Continue Reading

اتر پردیش

وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے ایم ایس ڈبلیو 26۔2024 بیچ کے پلیسمنٹ بروشر کا کیااجراء

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان کے ہمراہ ماسٹر آف سوشل ورک (ایم ایس ڈبلیو) 2024–26 بیچ کے چوتھے سمسٹر کے طلبہ کے پلیسمنٹ بروشر کا اجرا ء کیا۔
بروشر میں فارغ ہونے والے بیچ کی تعلیمی تربیت اور فیلڈ ورک کے تجربات کو شامل کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے پلیسمنٹ کے عمل کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر نعیمہ خاتون نے سوشل ورک شعبہ اور طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو کا ایم ایس ڈبلیو پروگرام سماجی عصری چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے پیشہ ور افراد تیار کر رہا ہے۔
پروفیسر محمد محسن خان نے کہا کہ تجدید شدہ نصاب، طلبہ کو پیشہ ورانہ صلاحیت اور سماجی ذمہ داری کے مؤثر امتزاج میں مدد فراہم کرتا ہے۔ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنس اور چیئرمین، شعبہ سوشل ورک پروفیسر اکرام حسین نے 2024–26 بیچ کے اسپیشلائزیشنز پر روشنی ڈالی، جن میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ، انڈسٹریل ریلیشنز اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ شامل ہیں۔
کوآرڈینیٹر، ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ سیل ڈاکٹر محمد طاہر نے طلبہ کے فیلڈ ورک اور قومی و بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ پلیسمنٹ سیل کی فعال وابستگی کا ذکر کیا۔رسم اجراء تقریب میں فیکلٹی اراکین ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر محمد عذیر اور ڈاکٹر سمیرہ خانم سمیت سوشل ورک شعبہ کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ سیل کے رضاکار بھی موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network