دلی این سی آر
آوارہ کتوں کو شیلٹر ہوم میں رکھنا ایم سی ڈی کے لئے بڑا چیلنج
کھانے اور دیکھ بھال پر 1400 کروڑ اور نس بندی پر 70 کروڑروپے ہوں گے خرچ
(پی این این)
نئی دہلی :آوارہ کتوں کو شیلٹر ہومز میں رکھنا اور ان کی نس بندی کرنا MCD کے لیے ایک بڑا انتظامی اور مالی چیلنج ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کے لیے ایم سی ڈی کو اراضی، بجٹ اور انسانی وسائل کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کرنے ہوں گے جو کہ موجودہ حالات میں کسی چیلنج سے کم نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 10 لاکھ آوارہ کتوں کو پالنے کے لیے 1400 کروڑ روپے، نس بندی پر 70 کروڑ روپے اور ان کے رہنے کے لیے 400 ایکڑ زمین درکار ہے۔ایم سی ڈی کے مطابق دہلی میں تقریباً 10 لاکھ آوارہ کتے ہیں۔ ان سب کو رکھنے کے لیے ایم سی ڈی کو تقریباً 400 ایکڑ زمین کی ضرورت ہوگی۔ یہ زمین شہری حدود کے اندر یا اس کے آس پاس تلاش کرنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ شیلٹر ہومز کی تعمیر پر بھی کروڑوں روپے خرچ ہوں گے۔ ہر پناہ گاہ میں سیکورٹی، طبی، خوراک اور دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ایم سی ڈی کی موجودہ پالیسی کے مطابق کتے کو عارضی طور پر کسی جگہ سے اٹھاتے وقت ان کے کھانے پر روزانہ 40 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس لیے روزانہ 10 لاکھ کتوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے ایم سی ڈی کو روزانہ تقریباً چار کروڑ روپے اور پورے سال میں تقریباً 1400 کروڑ روپے کا انتظام کرنا ہوگا۔ یہ خرچ صرف خوراک پر ہوگا۔ اس میں طبی اور دیکھ بھال کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ایم سی ڈی کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً تین لاکھ کتوں کی نس بندی کی گئی ہے۔ تقریباً سات لاکھ کتوں کی نس بندی ابھی باقی ہے۔ ایم سی ڈی ایک کتے کی نس بندی کے لیے این جی او کو ایک ہزار روپے دیتی ہے۔ اس کے مطابق MCD کو سات لاکھ کتوں کی نس بندی پر تقریباً 70 کروڑ روپے خرچ کرنے ہوں گے۔
ایم سی ڈی نے آوارہ کتوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اس سال تقریباً 15 کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے۔ سال 2023-24 میں، اس نے کتوں کی نس بندی، نس بندی مراکز کے آپریشن، کتوں کو پکڑنے والے ملازمین کی تنخواہ اور گاڑیوں کی دیکھ بھال پر 15.47 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ سال 2024-25 میں 17.83 کروڑ روپے کا پروویژن کیا گیا تھا، لیکن فروری میں بجٹ پر نظر ثانی کے دوران اسے کم کر کے 15.36 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ یہی رقم رواں مالی سال میں بھی مقرر کی گئی ہے۔MCD میں 20 نس بندی مراکز ہیں، جن میں سے صرف 13 کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ چار سالوں کے اعداد و شمار کے مطابق مختلف این جی اوز ان مراکز میں سالانہ 60 ہزار سے ایک لاکھ کتوں کی نس بندی کر چکی ہیں۔ اس شرح سے سات لاکھ کتوں کی نس بندی مکمل ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ لہذا، MCD کو نئے نسبندی مراکز کھولنے ہوں گے اور تمام کتوں کی نس بندی کے لیے مزید این جی اوز کو شامل کرنا ہوگا۔
شیلٹر کی تعمیر اور آپریشن پر علیحدہ لاگت: خوراک اور نس بندی کے علاوہ شیلٹر ہوم کی تعمیر اور آپریشن پر بھی بہت بڑی رقم خرچ کی جائے گی۔ ہر پناہ گاہ کے لیے انفراسٹرکچر، عملہ، طبی آلات، پانی بجلی کے انتظامات اور حفاظتی انتظامات درکار ہوں گے۔ اس کے لیے بھی سینکڑوں کروڑ کے اضافی بجٹ کی ضرورت ہے۔دہلی کے مختلف اسپتالوں میں ہر ماہ اوسطاً ایک ہزار سے زیادہ کتے کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس میں 700-800 لوگ کتے کے کاٹنے کے علاج کے لیے اکیلے صفدر جنگ اسپتال پہنچتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بڑی تعداد میں اینٹی ریبیز ویکسین کی ضرورت پڑتی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس سال جنوری سے جولائی کے درمیان ہسپتال میں تقریباً 133010 ویکسین کی خوراکیں دی گئیں۔ روزانہ اوسطاً 700 سے زائد افراد کو ویکسین دی جا رہی ہے۔ وہیں دہلی حکومت کے سب سے بڑے لوک نائک اسپتال میں روزانہ کتے کے کاٹنے کے تقریباً 100-120 کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔کتوں کی خوراک، ان کی نس بندی اور پناہ گاہ کی تعمیر اور دیگر انتظامات پر ہونے والے اخراجات کا تخمینہ شروع میں تقریباً نو ہزار کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جب کہ آنے والے برسوں کے دوران اخراجات کا اعداد و شمار پندرہ سو کروڑ روپے رہنے کا امکان ہے۔ یہ بوجھ MCD کے سالانہ بجٹ کے ایک بڑے حصے کو متاثر کر سکتا ہے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایم سی ڈی حکام کے مطابق سپریم کورٹ کا حکم عوامی تحفظ اور جانوروں کی بہبود کے لیے اہم ہے، لیکن اس کے نفاذ کے لیے دہلی حکومت، مرکزی حکومت اور نجی اداروں کا تعاون ضروری ہوگا۔ زمین کی تقسیم، مالیاتی فراہمی اور افرادی قوت کی دستیابی کے بغیر اس حکم کو نافذ کرنا بہت مشکل ہوگا۔
دلی این سی آر
ڈرگس اسمگلروں کو تحفظ فراہم کررہی ہے ریکھا سرکار:سوربھ بھاردواج
(پی این این)
نئی دہلی:ملک کی راجدھانی میں نشہ اسمگلنگ کی حقیقت بے نقاب کرنے والے پولیس افسر کے خلاف ہی محکمانہ کارروائی کیے جانے پر عام آدمی پارٹی نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج کا کہنا ہے کہ پولیس افسر کے انکشاف کے بعد دہلی پولیس اور مرکزی وزارتِ داخلہ کو نشہ اسمگلنگ کی جڑوں تک پہنچنا چاہیے تھا اور اس میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنا چاہیے تھا تاکہ نشے کے کاروبار پر لگام لگائی جا سکے، لیکن یہاں تو اس کے برعکس خود پولیس کے خلاف ہی کارروائی کر کے پورے محکمہ پولیس کا حوصلہ پست کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت سے یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ دہلی کے اندر نشے کے کاروبار کو قابو میں کرے گی؟
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ گزشتہ دنوں دہلی پولیس کے ایک افسر نے عوام کے سامنے انکشاف کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے کچھ اراکینِ اسمبلی پر نشہ اسمگلروں کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔اس پولیس افسر کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے پولیس کمشنر نے اسی کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کر دیے۔ اس کارروائی سے اب یہ پیغام صاف ہو گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے احکامات پر عمل کرتے رہو، چاہے وہ احکامات مجرموں اور نشہ آور اشیاء کے اسمگلروں کو چھوڑنے کے ہوں یا انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہی کیوں نہ ہوں۔ پولیس افسران کو ہر حال میں خاموش رہنا چاہیے۔
دلی این سی آر
عام آدمی پارٹی نے’ گیس سلنڈر شوبھا یاترا‘ نکال کر کیا احتجاج
(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے مودی حکومت کی غلط خارجہ پالیسی کی وجہ سے ملک میں گہرے ہوتے ایل پی جی بحران اور مہنگائی کے خلاف ایک منفرد انداز میں احتجاج کیا۔ آپ دہلی پردیش کے صدر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں پارٹی کارکنان نے دہلی کے ہر وارڈ میں گیس سلنڈر شوبھا یاترا نکال کر مرکز کی مودی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ گھوڑا گاڑی پر سجے ہوئے سلنڈروں، ہاتھوں میں یہ پمفلٹ لیے کہ جب جب بی جے پی آئی ہے، لوگوں کی لائن لگوائی ہے اور ڈھول نگاڑوں کے ساتھ کارکنان نے شوبھا یاترا نکالی اور دہلی کی عوام کو اب نایاب ہو چکے رسوئی گیس سلنڈروں کے دیدار کرائے۔اتوار کو گیس سلنڈر شوبھا یاترا کے حوالے سے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی میں 250 مقامات پر گیس سلنڈر شوبھا یاترا نکالی جا رہی ہے۔ اب گیس سلنڈر کے نایاب دیدار کے لیے لوگوں میں کافی جوش و خروش ہے۔ مودی جی کی ناکام خارجہ پالیسی نے آج ملک کے یہ حالات پیدا کر دیے ہیں۔
ادھر تریلوک پوری میں شوبھا یاترا نکالتے ہوئے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ٹرمپ کے سامنے سر جھکا کر سرینڈر کر دیا ہے۔ انہی غلط خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف مودی حکومت کہہ رہی ہے کہ ملک میں گیس کی کوئی کمی نہیں ہے اور دوسری طرف سڑکوں پر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ غریب آدمی کو 300 روپے فی کلو گیس مل رہی ہے۔ جس دکان پر وزیر اعظم چائے بنایا کرتے تھے، سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے آج وہ دکانیں بھی بند ہو گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے امریکہ کے سامنے سرینڈر کرنے کا بہت بڑا خمیازہ ملک کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اسی سرینڈر کی وجہ سے آج گیس کا سلنڈر ختم ہو گیا ہے۔ اگر انہوں نے امریکہ کے آگے سرینڈر نہ کیا ہوتا تو آج ملک میں گیس سلنڈر ختم ہونے کی نوبت نہ آتی۔
کلدیپ کمار نے کہا کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، اس نے صرف لوگوں کو لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا کرنے کا کام کیا ہے۔ چاہے آکسیجن کے لیے قطاریں لگوانا ہو یا نوٹ بندی کے دوران نوٹ بدلوانے کے لیے، ہر بار عوام کو لائنوں میں کھڑا کیا گیا۔ اور اب گیس کی قلت سے پریشان لوگوں کو بھی مجبوراً لمبی لمبی قطاروں میں لگنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج گیس 300 روپے فی کلو مل رہی ہے، چاروں طرف ہاہاکار مچا ہوا ہے اور وزیر اعظم مودی اپنے تشہیری کاموں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی احتجاج کے طور پر آج تریلوک پوری اسمبلی حلقہ میں وجے کمار کی قیادت میں گیس سلنڈر کی شوبھا یاترا نکالی گئی۔ آج گیس کا سلنڈر اس قدر نایاب ہو چکا ہے کہ عام آدمی پارٹی لوگوں کو اس کے دیدار کرا رہی ہے۔ جو گیس سلنڈر پہلے لوگوں کے گھروں میں آسانی سے مل جاتا تھا، آج اس کی شوبھا یاترا نکالنی پڑ رہی ہے۔ بی جے پی حکومت نے ملک کا یہ حال کر دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی اس کی سخت مذمت کرتی ہے۔ مودی جی کی غلط خارجہ پالیسیوں کی سزا آج پورا ملک بھگت رہا ہے۔
کلدیپ کمار نے کہا کہ مرکز میں بیٹھی بی جے پی حکومت چوری بھی اور سینہ زوری بھی کر رہی ہے۔ ایک طرف حکومت گیس فراہم نہیں کر پا رہی اور دوسری طرف عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ آج گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ دہلی، نوئیڈا یا غازی آباد ہر جگہ لوگوں کو گیس سلنڈر نہیں مل رہا ہے۔ روز نئے نئے رہنما خطوط جاری کیے جا رہے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس پی این جی کنکشن ہے انہیں ایل پی جی گیس نہیں دی جائے گی۔کلدیپ کمار نے کہا کہ آج گیس کی بکنگ نہیں ہو رہی بلکہ کھلے عام اس کی کالا بازاری ہو رہی ہے۔ بازار میں گیس 3000 سے 5000 روپے تک کے کھلے ریٹ پر فروخت ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس کالا بازاری کو روکنے کے لیے آخر کیا اقدامات کیے ہیں؟ مرکز میں بیٹھی بی جے پی حکومت پوری طرح جھوٹ بول رہی ہے۔ وزیر اعظم کی ایپسٹین فائل کے اندر نہ جانے کیا کیا راز چھپے ہیں، جن کے دباؤ میں وہ ٹرمپ کے سامنے سر جھکا گئے اور آج اسی کا خمیازہ ملک کی عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
دلی این سی آر
ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد کا عید الفطر پر مکمل انتظامات کا مطالبہ
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمدنے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے پرزور اپیل کی کہ شب قدر میں والہانہ طور پر عبادت کریں اور عید الفطر کی تیاریوں میں اسراف سے پرہیز کریں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں ۔ صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد مالک نصاب پر عید کے دن صبح صادق ہوتے ہی واجب ہو جاتا ہے عمر بھر اس کا وقت ہے لیکن سنت یہ ہے کہ عید کی نماز سے پہلے دے دیا جائے۔ اس کی مقدار فی کس دو کلو 50 گرام گیہوں یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت ہے اگر صدقہ فطر میں کھجور یا جو دینا چاہیں تو فی کس چار کلو 100 گرام دیا جائے جس قیمت کا گیہوں خود استعمال کرتے ہیں اس کے حساب سے صدقہ فطر دیا جائے۔ مسکین اور ضرورت مندوں کو تلاش کر کے دیں۔
مفتی مکرم نے دہلی کے اتم نگر علاقے میں ہولی کے دن تشدد کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ ایک غیر مسلم نوجوان کی موت واقع ہو گئی اس کا بھی ہمیں شدید افسوس ہے اور پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا ہم اظہار کرتے ہیں۔ ہولی کے دن چونکہ رنگ کھیلنے کے بعد شراب پینے کا رواج ہے حملہ آورنشے میں تھے یہ جھگڑا ہندو مسلم فرقہ کا نہیں تھا دو پڑسیوں کا تنازعہ تھا ترن نے باہر کے لوگوں کو بلا کر حملہ کر دیا اور دونوں طرف کے لوگ شدید زخمی ہوئے اگر باہر کے حملہ آور نہ ہوتے تو شاید یہ جھگڑا اتنا طول نہ پکڑتا پولیس نے کچھ اقلیتی فرقہ کے افراد کو گرفتار کیا ہے اور ایک مکان کو بھی بلڈوزر سے منہدم کیا ہے کچھ فرقہ پرست لیڈر ویڈیو بنا کر وائرل کر رہے ہیں اور عید الفطر پر بدامنی پھیلانے کا چیلنج کر رہے ہیں ان کے بیانات شدید قابل اعتراض اور غیر قانونی ہیں ان پر ایکشن ہونا چاہیے ۔ملزمان کو سزا ملے لیکن بلڈوزر گھر کے بچوں عورتوں پر ظلم ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور عید الفطر کے موقع پر مکمل انتظامات کیے جائیں تاکہ شر پسند کسی سازش میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔جمعہ کی نماز کے بعد یوم القدس پروگرام ہوا جس میں قبلہ اول کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور صیہونی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار10 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
