Connect with us

بہار

نہیں رہے شیبو سورین، طویل علالت کے بعد دہلی میں انتقال

Published

on

صدر، وزیر اعظم، سونیا، راہل، کھرگے، راجناتھ اور کئی دوسرے لیڈروں نے غم کا اظہار کیا۔

نئی دہلی– جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی اور ملک کے بزرگ رہنما شیبو سورین کا آج دہلی میں انتقال ہو گیا۔ شیبو سورین کی موت کی اطلاع ان کے بیٹے اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے خود سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ سی ایم ہیمنت سورین نے اپنے والد کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے انسٹاگرام پر لکھا کہ قابل احترام ڈشوم گروجی ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ آج میں زیرو ہو گیا ہوں۔

شیبو سورین کی موت کی اطلاع ان کے بیٹے اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے خود سوشل میڈیا پر شیئر کی

شیبو سورین طویل عرصے سے بیمار تھے، جس کی وجہ سے وہ دہلی کے سر گنگا رام اسپتال میں زیر علاج تھے، گزشتہ ہفتہ کو ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا، آج صبح 8:57 پر انہوں نے آخری سانس لی۔

شیبو سورین ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے دہلی کے سر گنگا رام اسپتال میں داخل تھے۔ شیبو سورین (81) کو گردے سے متعلق مسائل کی وجہ سے جون کے آخری ہفتے میں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی بہت سے اتار چڑھاؤ سے بھری ہوئی تھی۔ انہوں نے ملکی سیاست میں جو شناخت بنائی اس کا موازنہ شاید ہی کسی اور سے ہو سکے۔ ایک سادہ خاندان سے وزیر اعلیٰ کے عہدے تک ان کا سفر کئی جدوجہد سے بھرا ہوا تھا۔

شیبو سورین کو جھارکھنڈ میں اپنے چاہنے والوں میں ‘گروجی’ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے بانی تھے اور انہوں نے قبائلیوں کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ انہوں نے علیحدہ جھارکھنڈ ریاست کی مہم کی بھی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے سماجی اور سیاسی بیداری کی مہم چلائی اور ریاست کو الگ شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شیبو سورین کی موت کے ساتھ ہی جھارکھنڈ اور سیاست کا ایک دور بھی ختم ہوگیا۔

ایک عام استاد کے گھرانے میں پیدا ہونے والے شیبو سورین نے اپنے والد کے قتل کے بعد سیاست میں قدم رکھا۔ پھر انہوں نے جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل کے لیے 40 سال سے زیادہ جدوجہد کی۔ سال 2000 میں ریاست جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد شیبو سورین نے تین بار ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی ذمہ داری سنبھالی۔ آج ان کے بیٹے ہیمنت سورین ریاست میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں۔

شیبو سورین کی پیدائش 11 جنوری 1944 کو رام گڑھ کے قریب نیمرا گاؤں میں سوبران مانجھی کے ہاں ہوئی۔ شیبو کے والد سبران مانجھی پیشے سے استاد تھے۔ سوبران کا شمار آس پاس کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے قبائلی فرد میں ہوتا تھا۔ شیبو سورین کے والد کو ہاسٹل میں پڑھتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔ 1957 میں شیبو کے والد سبران ایک ساتھی کے ساتھ اپنے دونوں بیٹوں کے لیے ہاسٹل میں چاول اور دیگر سامان پہنچانے جا رہے تھے۔ اس دوران اسے لکرایتنڈ گاؤں کے قریب قتل کر دیا گیا۔ اپنے والد کے قتل نے شیبو سورین کو سیاست کا راستہ دکھایا۔ اس وقت سے ان کی سماجی اور سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔

1980 کی دہائی میں شیبو سورین جھارکھنڈ کی سیاست میں ایک جانا پہچانا نام بن چکے تھے۔ 1980 کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے تیر اور کمان کے انتخابی نشان کے ساتھ دمکا سے انتخاب لڑا۔ جھارکھنڈ کو بہار سے الگ ریاست بنانے کے مطالبے کے ساتھ شیبو سورین اور ان کی پارٹی کے کارکنوں نے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے ڈشوم دادی کے نام سے ایک مہم شروع کی۔ اس کے تحت اس نے ہر گاؤں کے ہر خاندان سے ایک چوتھائی (250 گرام) چاول اور تین روپے نقد مانگے۔

اس مہم سے جمع ہونے والی رقم سے شیبو سورین نے الیکشن لڑا اور جیتا۔ لوک سبھا الیکشن جیتنے کے بعد شیبو سورین نے دمکا سے لگاتار 8 بار الیکشن جیتنے کا ریکارڈ بنایا۔ شیبو سورین نے ڈمکا لوک سبھا سیٹ کے لیے 1980، 1989، 1991، 1996، 2002، 2004، 2009 اور 2014 میں الیکشن جیتا تھا۔

اس کے علاوہ وہ تین بار راجیہ سبھا کے لیے بھی منتخب ہوئے۔ وہ مرکزی حکومت میں کوئلہ کے وزیر بھی تھے۔ شیبو سورین 2 مارچ 2005 کو پہلی بار جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ بنے، لیکن 11 مارچ 2005 کو انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ پہلی بار وزیر اعلی بننے کے بعد، ششی ناتھ قتل کیس میں ان کا نام سامنے آنے پر ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔

وہ اس کیس میں جیل بھی گئے اور اعلیٰ عدالت سے بری ہو گئے۔ جس کے بعد وہ 27 اگست 2008 کو دوسری بار وزیر اعلیٰ بنے، لیکن تمر اسمبلی انتخابات میں شکست کی وجہ سے انہیں 11 جنوری 2009 کو سی ایم کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، اس کے بعد وہ دسمبر 2009 میں تیسری بار سی ایم بنے، لیکن کچھ ہی دنوں میں انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔

شیبو سورین کے انتقال پر صدر دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، وزیر دفاع اور ملک کے کئی دوسرے لیڈروں نے پہنچ کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

پی ایم مودی نے غم کی اس گھڑی میں ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی پوری زندگی قبائلی معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے وقف تھی جس کے لیے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی گروجی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور ملک کے سینئر ترین لیڈروں میں سے ایک، شری شیبو سورین جی کا شمار جھارکھنڈ کے ان باہمت لیڈروں میں ہوتا ہے جنہوں نے سماج کے کمزور طبقات بالخصوص قبائلی سماج کے حقوق اور بااختیار بنانے کے لیے زندگی بھر جدوجہد کی۔ وہ ہمیشہ زمین اور عوام سے جڑے رہے۔ میری بھی ان سے کافی دیر تک شناسائی تھی۔ ان کے انتقال سے مجھے گہرا دکھ ہوا ہے۔ ان کے اہل خانہ اور حامیوں سے میری تعزیت۔

بہار

سمراٹ چودھری نےبہار کے 24 ویں وزیر اعلیٰ کالیا حلف

Published

on

(پی این این )
پٹنہ :سمراٹ چودھری نے بدھ کو بہار کے 24ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ وہ بہار کے پہلے بی جے پی وزیر اعلیٰ ہیں۔ گورنر سید عطا حسنین نے سمراٹ چودھری کو بہار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف دلایا۔ جے ڈی یو کے دو سینئر لیڈر وجے چودھری اور بیجندر یادو کو ان کی حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔
بہار کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے کے فوراً بعد سمراٹ چودھری چیف سیکرٹریٹ میں وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) پہنچے اور رسمی طور پر عہدہ سنبھال لیا۔ پہنچنے پر وہاں پہلے سے موجود اہلکاروں نے ان کا استقبال کیا۔ چیف سکریٹری پرتیئے امرت کی قیادت میں پوری انتظامی ٹیم موجود تھی۔ ضروری رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد سمراٹ چودھری نے عہدہ سنبھال لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے کچھ اہم فائلوں پر دستخط کئے اور ریاست کے مختلف انتظامی امور پر سینئر عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔
سمراٹ چودھری کی بطور وزیر اعلیٰ حلف برداری کے بعد، نتیش کمار نے انہیں ایکس پر پوسٹ کر کے مبارکباد دی۔ نتیش کمار نے اپنی پوسٹ میں کہا، سمراٹ چودھری کو آج بہار کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے پر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی قیادت میں بہار تیزی سے ترقی کرنے والی ریاست میں شامل ہو جائے گی اور سب سے زیادہ ترقی کرنے والی ریاست میں شامل ہوں گے۔
نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد جے ڈی یو کے وجے کمار چودھری نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کا حلف نتیش کمار کے ان پر اعتماد کا نتیجہ ہے اور ریاست میں ان کی پالیسیوں اور کام کرنے کے انداز کو آگے بڑھایا جائے گا۔وجے چودھری نے کہا، میں نتیش کمار کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کے اعتماد کی وجہ سے مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ہم ان کے راستے، پالیسیوں، پروگراموں اور کام کرنے کے انداز پر آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ماضی میں بہار کے ترقیاتی ماڈل کا حصہ رہی ہے، اور اتحاد اس سمت میں کام کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا، اب تک نتیش کمار کے ماڈل میں بی جے پی شامل تھی۔ اب موازنہ کی ضرورت نہیں ہے۔ بہار کے ماڈل میں نتیش کمار، بی جے پی، اور دیگر اتحادی شامل ہیں۔

Continue Reading

بہار

سمراٹ چودھری کی گورنر سے ملاقات، حکومت سازی کا دعویٰ کیاپیش، حلف برداری تقریب کل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ :بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پہلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔تمام قیاس آرائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے ڈپٹی سی ایم سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں دوبارہ قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا۔ ان کا نام دوسرے ڈپٹی سی ایم وجے سنہا نے تجویز کیا تھا۔ اس کے بعد مقننہ کے سنٹرل ہال میں این ڈی اے کے اراکین اسمبلی کی مشترکہ میٹنگ میں بی جے پی لیڈر سمراٹ چودھری کے نام کو منظوری دی گئی، جنہیں لیڈر بھی منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد سمراٹ حکومت بنانے کا دعویٰ کرنے گورنر کے پاس گئے۔ سمراٹ چودھری کی قیادت والی نئی حکومت بدھ کو صبح 11 بجے لوک بھون (راج بھون) میں حلف برداری کرے گی۔ گورنر کے سکریٹری گوپال مینا نے کل شام سمراٹ چودھری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور حلف برداری کی تقریب کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سے پہلے جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے صدر نتیش کمار نے تقریباً 3:15 بجے گورنر کو چیف منسٹر کے طور پر اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت کا آخری کابینہ اجلاس منعقد کیا۔ این ڈی اے قانون ساز پارٹی کی میٹنگ کے بعد، نیا لیڈر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرے گا۔ نئی بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی حلف برداری کی تقریب بدھ کو صبح 11 بجے لوک بھون (راج بھون) میں ہوگی، جہاں پانچ حلقہ جماعتوں کے محدود تعداد میں وزراء حلف لیں گے۔ دہلی سے تقریب میں بی جے پی اور این ڈی اے پارٹیوں کے سینئر لیڈروں کی شرکت متوقع ہے۔

Continue Reading

بہار

تعلیم وتربیت میں بچوں کی نفسیات ومزاج کا بھی رکھا جائے پاس ولحاظ : امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:امارت شرعیہ نے سی بی ایس ای طرزپربہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ ومغربی بنگال میں متعدد امارت پبلک اسکول قائم کیے جو بچے اور بچیوں کی نفسیات اورمزاج کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور معیاری عصری تعلیم کو فروغ دینے کا مثالی کارنامہ انجام دے رہاہے ۔اب اساتذہ کرام کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ معلم انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صفا ت وکمالات کا عملی نمونہ پیش کریں ، بچوںسے محبت وشفقت کا معاملہ کریں اور ان میں اسکول سے محبت پیداکرنے کی کوشش کریں ، ان خیالات کا ا ظہار امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے امارت پبلک اسکول کے اساتذہ ومعلمات کے ایک خصوصی اجتماع میں کیا۔
امارت شرعیہ کے میٹنگ ہال میں امارت شرعیہ کی نگرانی میں چلنے والے امارت پبلک اسکولس پھلواری شریف ،نگڑی ،اربارانچی،کٹیہار، پورنیہ، کشن گنج گریڈیہہ، گڈا، آسنسول،کٹک اڈیشہ وغیرہ سے تشریف لانے والے اساتذہ ومعلمات سے خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت نے کہاکہ حسن اخلاق اورمعیاری تعلیم وتربیت کے ذریعہ ہی اسکول ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے ، اس لیے ٹیم ورک کے ساتھ کاموں کو قوت بخشا جائے اور نظم ونسق کے ساتھ اسکول کو بہتر سے بہتر اورمعیاری بنایاجائے ، حاضری سو فیصد لازمی ہو، بچوں کی نفسیات اورمزاج کاخیال رکھتے ہوئے ان کی تربیت ہو، زبان وبیان کی اصلاح پر توجہ دیںاور وقفہ وقفہ سے تعلیمی جائزہ لیتے رہیں، بچوں سے دوران تعلیم پانچ منٹ کے لیے فیزیکل ایکسرسائز کروایاجائے تاکہ ان کے اندر نئی توانائی پیداہو، اس سلسلہ میں امیر شریعت نے اساتذہ کرام سے بھی استصواب رائے کیا جس میں بعض اساتذہ کرام نے تعلیم میںAtlasکا استعمال کرے Exportکرانے پر توجہ دلائی ۔ امیر شریعت نے ا ن آراء پر تحسینی کلمات اداکرتے ہوئے ہر بچہ کو ہرفلڈ کے لیے تیار کرنے کے لیے لائحہ عمل بنانے پر توجہ دلائی۔
ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے کہا اساتذہ کرام کا مقام ومنصب بہت بلند ہے ، وہ معمارقوم ہوتے ہیں ، محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم معلم انسانیت تھے ، انہوں نے اپنے بلند اخلاق واقدار سے لوگوں کے دلوں کو حق انصاف کو قبول کرنے پر مجبور کردیا، آپ بھی معلم ہیں ، اس اخلاق کے پرتو ہیں، بچے آپ کے پاس امانت ہیں ، آپ اپنی صلاحیت سے انہیں بنانے ، سنوارنے کی کوشش کیجئے اوربچوں کو اپنے کردار وعمل سے متاثر کیجئے ، منکرات سے حتی المقدور پرہیز کیجئے ۔
اسکولوں کے اساتذہ کرام مولانا سہیل سجاد قاسمی ،رانچی، مولانا محمد عثمان قاسمی ،نزہت پروین،پھلواری شریف،روحی پروین ، نازش صباء،شیمونہ نوشین، ثانیہ فیروز،رضوان احمد کٹیہار،صنور حسین گریڈیہہ، عباس گریڈیہہ،عامر خان آسنسول، اظہر عالم ،افتخاراحمد پورنیہ،محمد نوشاد عالم کشن گنج، محمد جنید عالم گڈا،مولانا یوسف اشرفی وغیرہ نے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے قیمتی مشورے دیے ، اس نشست کا آغاز مولانا یوسف اشرف کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، اس مجلس میں مولانا رضوان احمد ندوی ، حافظ محمد احتشام رحمانی ، مولانا محمد منہاج عالم ندوی ، مولانا ارشد رحمانی ، مولانا محمد شارق رحمانی ، مولانا قیام الدین قاسمی وغیرہ شریک رہے ۔اخیر میں یہ مجلس امیر شریعت کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network