Connect with us

بہار

بہار کے کئی اضلاع میں سیلاب ،کئی مکانات منہدم،سڑکیں زیر آب

Published

on

(پی این این)
پٹنہ :بہار کے کئی اضلاع میں پچھلے کچھ دنوں سے مانسون کی بارش ہو رہی ہے۔ بکسر ضلع میں گنگا کے ساحلی علاقوں میں سیلاب آ رہا ہے۔ دیارہ کے دیہات کے قریب سیلابی پانی پہنچ گیا ہے۔ رام داس رائے کیمپ کی طرف جانے والی سڑک پر پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک بند ہو گئی۔ بیگوسرائے کے بلیا میں سیلابی پانی لکھمنیہ-مسودن پور روڈ کے چیچیاہی ڈھابہ کی سڑک پر پھیل گیا، علاقے کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ۔ نالندہ کے کارے پرسورائی اور ہلسا کے مغربی علاقے کے کئی گاؤں میں اب بھی سیلابی پانی موجود ہے۔ کٹیہار میں منی ہاری کی کئی پنچایتوں پر سیلاب آ رہا ہے۔
دردھا اور دھوبہ ندیوں میں پانی کی سطح بڑھنے سے دنیاوان اور فتوحہ کے کئی دیہات میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ دنیاوان بلاک کی مہاتمین ندی میں پانی میں اضافے کی وجہ سے دنیاوان نگرنوسہ بہار شریف این ایچ 30 اے پر ہوریل بیگھہ پٹرول پمپ کے سامنے دوسرے دن بھی پانی ایک سے ڈیڑھ فٹ تک بڑھ گیا ہے۔ دنیاوان زمینداری ڈیم پر بھی خطرہ برقرار ہے۔
نالندہ ضلع کے گلڈیا بیگھہ کے قریب مہاتمین ندی کا پشتہ ٹوٹنے کی وجہ سے دنیاوان بلاک کے سگریاوان پنچایت کا گوپال ٹولہ مشری مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوب گیا ہے۔ پانچ درج فہرست ذاتوں کے پانچ کچے مکانات پانی میں گر گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بلاک کے ہریل بیگھہ، ہری نگر اور چھوٹی کیوائی میں سیلاب کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ دانا پور۔ گنگا کے پانی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے دیارہ کے دیہات کے آس پاس ندی کا پانی پہنچ گیا ہے۔ سڑکوں پر پانی بہنا شروع ہو گیا ہے۔
سڑک پر پانی بہنے کی وجہ سے لوگوں کو گھاٹ سے گھر تک آنے اور جانے میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دیارہ علاقے میں، پاناپور گھاٹ سے کسمچک، ہیتن پور، گنگھارا، پتلاپور، اکیل پور تک سڑک پر کچھ جگہوں پر پانی زیادہ ہے اور کچھ جگہوں پر کم پانی ہے۔ پانی کے درمیان لوگ آتے جاتے ہیں۔ مانیر سے منیر دیارہ کے چھیہنتر گاؤں کو جوڑنے والی سڑک پر آدھے تعمیر شدہ پل کے پاس ڈیڑھ فٹ پانی جمع ہے۔گنگا، دردھا، پنپن اور سون کے پانی کی سطح اب گرنے لگی ہے۔ دیگھا گھاٹ پر گنگا ندی کی پانی کی سطح اتوار کو 50.58 میٹر تھی جو خطرے کے نشان سے 10 سینٹی میٹر اوپر ہے۔ گاندھی گھاٹ پر یہ 49.13 میٹر تھا، جو خطرے کے نشان سے ایک میٹر سے زیادہ ہے۔
ہتھیدہ میں دریا میں پانی کی سطح 42.19 میٹر ہے جو خطرے کے نشان سے 80 سینٹی میٹر اوپر ہے۔
دھناروا میں پانچ پنچایتیں کراروا اور دردھا ندیوں کے سیلابی پانی سے متاثر ہوئی ہیں اور اس سیلاب کی وجہ سے دونوں ندیوں میں نصف درجن مقامات پر پشتے ٹوٹ گئے ہیں۔ ایسے میں پشتوں کی مرمت کا کام جنگی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ اتوار کو ریت سے بھرے دو ٹریکٹروں کو دیوکالی، سونمئی، اوڑیاڑا، سیتاچک، کولہچک، مہادیو اسٹھن، گلریا بیگھہ میں رکھا گیا ہے اور بیگ پچنگ کا کام بھی کیا گیا ہے۔
اتوار کی دوپہر تک دریا کے پانی کی سطح خطرے کے نشان 50.60 سے 14 سینٹی میٹر اوپر بہہ رہی ہے، یعنی اس وقت دریا کے پانی کی سطح 50.74 ہے۔ اتوار کو پٹنہ کے ڈی ایم ڈاکٹر تیاگراجن ایس ایم نے زونل افسران کے ساتھ انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر میٹنگ کی۔ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں کشتیوں پر اوور لوڈنگ کی اجازت نہ دیں۔ رات کو کشتیاں نہیں چلیں گی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بہار

وندے ماترم کی لازمیت مذہبی اور شخصی آزادی کے خلاف :امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:امیر شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےکہاکہ نظم وندے ماترم کی اصل روح دیوی ،درگاہ کی حمد وثناء پر مبنی ہے ، اس کو لازمی قرار دینا مذھبی اور شخصی آزدی کے قطعی خلاف ہے۔انہوں نےمزید فرما یاکہ ملک آئین ودستور سے چلے گا کیونکہ دستور کے معماروں نے ملک کے دستور کو سیکولر ڈھانچہ میں تشکیل دیا ہے ، جس میں تمام مذاہب وادیان کو مذہبی آزادی حاصل ہے ، یہاں کے تمام باشندے اپنے مذہب وعقیدے پر آزادانہ طریقہ پر عمل کرتے ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے اور وندے ماترم گیت میں دیوی دیوتا ؤں کو ماں تصور کرنے کا نظریہ پیش کیا گیا ہے ، ماضی میں بھی یہ قضیہ کھڑا ہواتھا ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے واضح کردیا تھا کہ یہ ترانہ اپنے مخصوص تہذیب میں روایت سے وابستہ ہے ، اس کو ملکی وحدت قرار دینے سے مشکلات پیداہوں گی ، تحریک آزادی کے قائد اور ملک کےپہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ اس طرح کے ترانوں سے قومی یکجہتی میں شگاف پیدا ہوسکتا ہے ، بالآخر یہ مسلمانوں کے ایمان وعقیدے کے منافی ہے جس کو ہم کسی طرح تسلیم نہیں کریں گے ، کیوں کہ مذہبی آزادی ہمارا بنیادی حق ہے ۔
ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعیدا لرحمن قاسمی نےکہاکہ ملکی عدالتوں نے اس ترانے کو سیکولر اقدار کے منافی قرارد یا ہے، اس کے باجود مرکزی حکومت کا وندے ماترم گانے پر اصرارکرنا دستور وآئین اورعدالتی فیصلوں کے قطعی خلاف ہے، اس سے ملک میں یکجہتی قائم نہیں رہ سکتی ہے ، لہٰذا ملکی وحدت وسالمیت کے پیش نظر حکومت اپنے نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں جمہوری اقدار قائم رہیں ، انہوں نے مزید فرمایاکہ اس ملک کو بنانے وسنوارنےاورانگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، ہزاروں کی تعدا د میں مسلمان شہید ہوئے ، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، ان کی سرفروشانہ کوششوں کے نتیجہ میں ملک آزاد ہوا،اور یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ قرار پایا اور تمام مذاہب وادیان کا خیال رکھتے ہوئے دستور بنایا گیا،لہذا ان پر کوئی ایسے نامناسب کلمات وگیت کو قومی ترانہ کا نام دے کر پڑھنے پر مجبور کرنا کسی طرح بھی قبول نہیں ہے ۔ اس لیے ہمار امرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ فورا ًاس نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں امن وامان قائم رہے اور محبت وبھائی چارگی کی فضا ہموار ہو۔

Continue Reading

بہار

امیرِ شریعت کے ہاتھوں متعدد اہم کتابوں کا شاندار رسمِ اجرا

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اجلاسِ مجلسِ شوریٰ کے موقع پر ایک یادگار اور علمی اہمیت کی حامل نشست میں امیرِ شریعت مفکرِ ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے دستِ مبارک سے متعدد قیمتی اور علمی کتابوں کا باوقار رسمِ اجرا انجام پایا۔
اس موقع پر معروف عالمِ دین، صاحبِ قلم اور معہد عائشہ الصدیقہ خاتوپور بیگوسرائے کے بانی وناظم مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی کی دو اہم تصانیف کی رونمائی عمل میں آئی۔ پہلی کتاب “افکارِ ولی” ہے، جو امیرِ شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے افکاروالفاظ، سیرت و کردار، منہج و اولیات اور دینی و سماجی خدمات پر مبنی تحقیقی اور فکری مضامین کا ایک نہایت گراں قدر اور بصیرت افروز مجموعہ ہے۔ کتاب امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی ،مفتی محمد خالد حسین نیموی اور پرفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی کے کلمات عالیہ سے مزین ہے جس میں مؤلف کی کاوش اور امیر شریعت سابع سے غیر معمولی عقیدت ومحبت کو سراہا گیا ہے۔ یہ کتاب دینی قیادت، فکری رہنمائی اور ملت کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں رحمانی کے روشن افکار اور ادھورے خواب کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا۔
اسی طرح دوسری کتاب “تذکرۂ مشفقِ ملت” ہے، جو سابق رکنِ شوریٰ امارتِ شرعیہ اور بیگو سرائے کی عظیم دینی وملی شخصیت مولانا محمدشفیق عالم قاسمی کی حیات، علمی خدمات، ملی جدوجہد اور دینی و سماجی کارناموں پر مشتمل ایک جامع اور مؤثر تذکرہ ہے۔ یہ کتاب اہلِ علم اور نئی نسل کے لیے ایک قیمتی تاریخی و اخلاقی سرمایہ ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کے ذریعےمصنف نے مشفق ملت پر آنے والے دنوں میں کام کرنے والوں کے لئے مضبوط متن تیار کردیا ہے جس سے استفادہ کیا جاتا رہے گا ۔ اس تقریب میں ایک اور اہم تصنیف “حی علی الفلاح” کا بھی رسمِ اجرا ہوا، جو مفتی محفوظ الرحمن قاسمی (صدر مفتی و مہتمم جامعہ عربیہ سراج العلوم) کے علمی و اصلاحی افادات کو مرتب کر کے شائع کی گئی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب و تدوین قاری محمد حیدر نے انجام دی ہے۔ یہ تصنیف دینی تربیت، فکری رہنمائی اور روحانی اصلاح کے حوالے سے نہایت مفید اور مؤثر کاوش ہے۔
امیرِ شریعت دامت برکاتہم نے اس موقع پر مصنفین، مرتبین اور معاونین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ علمی و فکری سرمایہ امت کی امانت ہے، اور ایسی تصانیف آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی، بصیرت اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہیں۔ انہوں نے اہلِ علم کو تحقیق، تصنیف اور دینی خدمات کے میدان میں مزید سرگرم رہنے کی تلقین فرمائی۔اجلاس میں شریک مجلسِ شوریٰ کے معزز اراکین، علما، دانشوران اور مہمانانِ خصوصی نے ان کتابوں کو ملت کے لیے ایک اہم علمی سرمایہ قرار دیا اور امارتِ شرعیہ کی علمی و فکری خدمات کو سراہتے ہوئے مصنفین کو مبار بادی بھی پیش کی ۔اس اہم پروگرامز میں ان قیمتی علمی دستاویزوں کی رونمائی نہ صرف ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہوئی بلکہ ملتِ اسلامیہ کے فکری و دینی تسلسل کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کڑی بھی سامنے آئی۔

Continue Reading

بہار

دربھنگہ میں کمسن بچی کے ساتھ درندگی کے بعد قتل،علاقہ میں کشیدگی ،پولیس پرپتھراؤ

Published

on

(پی این این)
جالے:دربھنگہ میں 6 سالہ کمسن بچی کے ساتھ پیش آئے انسانیت سوز واقعہ نے پورے علاقے کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ یونیورسٹی تھانہ حلقہ کے تحت بیلا علاقے میں ہفتہ کی رات نابالغ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق متاثرہ بچی اصل میں قادِرآباد کی رہنے والی تھی اور اپنے نانیہال بیلا آئی ہوئی تھی۔ ہفتہ کی شام سے وہ اچانک لاپتہ ہوگئی، جس کے بعد اہل خانہ اور رشتہ داروں نے مسلسل تلاش شروع کی۔ کافی دیر بعد گاؤں کے باہر تالاب کے قریب دیوار کے پاس بچی کی خون آلود لاش برآمد ہوئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔
لاش ملنے کے بعد مشتعل عوام اور اہل علاقہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگوں نے سندرپور بیلا مندر کے قریب مرکزی سڑک کو جام کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا اور ملزم کو سخت ترین سزا دینے کی اپیل کی۔احتجاج کے دوران حالات اس وقت مزید بگڑ گئے جب مشتعل بھیڑ نے پولیس پر پتھربازی شروع کر دی۔ جواب میں پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ جھڑپ کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران ایک آٹو کو بھی آگ کے حوالے کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ کشیدگی کے پیش نظر موقع پر پانچ تھانوں کی پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے میں مرکزی ملزم وکاس مہتو (22 سال) کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کے کپڑوں پر خون کے دھبے پائے گئے ہیں اور اس سے سخت پوچھ گچھ جاری ہے۔ معاملے میں مزید ممکنہ پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی جگوناتھ ریڈی جلاریڈی خود موقع پر پہنچے اور بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کیس کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ملزم کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شواہد اکٹھا کرنے کے لیے ایف ایس ایل ٹیم کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
ادھر صدر ایس ڈی پی او گورو کمار نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور پولیس پوری سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، دیگر پہلوؤں پر بھی جانچ جاری ہے اور جلد ہی عدالت میں مضبوط چارج شیٹ پیش کی جائے گی۔
متاثرہ بچی کے والدین کا رو رو کر برا حال ہے۔ بچی کی والدہ نے کہا کہ ہماری بیٹی ہمارے نانیہال میں خوشی سے آئی تھی، ہمیں کیا معلوم تھا کہ وہ واپس نہیں لوٹے گی۔ ہمیں انصاف چاہیے، ایسی سزا چاہیے کہ کوئی اور بیٹی اس طرح کا شکار نہ بنے۔ بچی کے والد نے بھی مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری طور پر سخت ترین سزا دی جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔فی الحال علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور متاثرہ خاندان انصاف کا منتظر ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ملزم کو ایسی سزا دی جائے جو آئندہ کے لیے مثال بن سکے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network