Connect with us

دیش

وزیراعظم مودی 23 سے 26 جولائی تک برطانیہ اور مالدیپ کا کریں گےدورہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی 23 سے 26 جولائی تک برطانیہ اور مالدیپ کا دورہ کریں گے۔ وزارت خارجہ (MEA) نے اتوار کو اعلان کیا۔ برطانیہ کا دورہ وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی دعوت پر ہے جبکہ مالدیپ کا سرکاری دورہ صدر محمد معیزو کی دعوت پر ہے۔
وزارت خارجہ امور کے مطابق پی ایم مودی کا برطانیہ کا دورہ ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اپنے برطانوی ہم منصب کے ساتھ ہندوستان۔برطانیہ کے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں پر وسیع پیمانے پر بات چیت کریں گے۔ وہ علاقائی اور عالمی اہمیت کے امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر اعظم کی شاہ چارلس III سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ اس دورے کے دوران، دونوں فریق جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیں گے جس میں تجارت اور معیشت، ٹیکنالوجی اور اختراع، دفاع اور سلامتی، موسمیاتی، صحت، تعلیم اور عوام سے عوام کے تعلقات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں، پی ایم مودی جمہوریہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی دعوت پر 25 سے 26 جولائی تک مالدیپ کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ وزیر اعظم کا مالدیپ کا تیسرا دورہ ہو گا، اور ڈاکٹر محمد معیزو کی صدارت کے دوران کسی سربراہ مملکت یا حکومت کا مالدیپ کا پہلا دورہ ہو گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پی ایم مودی 26 جولائی 2025 کو مالدیپ کی آزادی کی 60 ویں سالگرہ کی تقریبات میں ‘ گیسٹ آف آنر’ ہوں گے۔
دورے کے دوران پی ایم مودی ڈاکٹر محمد معیزو سے ملاقات کریں گے اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کریں گے۔ دونوں رہنما اکتوبر 2024 میں مالدیپ کے صدر کے ہندوستان کے سرکاری دورے کے دوران اپنائے گئے ‘ جامع اقتصادی اور میری ٹائم سیکورٹی پارٹنرشپ’ کے لیے ہندوستان-مالدیپ کے مشترکہ وژن کے نفاذ میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیں گے۔ یہ دورہ دونوں فریقوں کو قریبی دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

 

دیش

کاکروچ جنتا پارٹی نے بی جے پی کو پچھاڑا،5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔’کاکروچ جنتا پارٹی‘نام کا ایک انسٹا گرام کا اکائونٹ جو 16 مئی سے وائرل ہے۔ اس کے محض 5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میں وہ بی جے پی سے بھی آگے ہوگیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کو لیکر نوجوانوں میں ایک جوش ہے۔ اور غم وغصہ بھی ہے۔ غورطلب ہے کہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تعبیر کیا تھا۔ جس کا ملک پر بہت گہرا اثرا ہوا۔
اسی دوران اب یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ کہ محض پانچ دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کے زین جی طبقے کے ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔ جو ایک دن انقلاب کا باعث بن سکتا ہے۔

Continue Reading

دیش

ایبولا کا خطرہ،ہند۔افریقہ فورم کا اعلیٰ سطحی اجلاس منسوخ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔افریقہ میں ایبولا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے آج وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ حالات پر غورکرنے کے بعد یہ طے کیا گیا ہے۔ کہ ہند۔افریقہ فورم اعلیٰ سطحی اجلاس فی الحال ملتوی کردیا جائے۔ اس اجلاس کو بعد میں منعقد کیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک میٹنگ کے بعد نئی تاریخ طے کی جائے گی۔
غورطلب ہے کہ ہندافریقہ یونین کمیشن کے تعاون سے 28-31 مئی 2026 کو نئی دہلی میں چوتھے افریقہ فورم اعلیٰ سطحی اجلاس(آئی اے ایف ایس-4 ) کی میزبانی کرنی تھی جس میں افریقہ کے کئی لیڈرآنے والے تھے۔ اس اجلاس کا مقصد ہند افریقہ ساجھیداری کو مضبوط کرنا اور مختلف سیکٹر میں آپسی تعاون کو بڑھانے کے لئے ایک روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ یہ اجلاس دس سال کے بعد منعقد ہونے والا تھا۔

Continue Reading

دیش

بنگال کے تمام مدارس میں وندے ماترم گانا لازمی،سی اے اے بھی ہوگا نافذ العمل،سوبھیندو سرکار کا بھگوا فرمان جاری

Published

on

(پی این این)
کولکاتہ۔ٹی ایم سی کے زوال کے بعد بنگال میں بھگوا سیاست کا بول بالا ہے۔ سوبھیندو سرکار نے محض 24 گھنٹے کے اندر کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔ اب بنگال کے تمام مدرسوں میں وندے ماترم گانا لازمی قرار دیا گیا ہے تو سی اے اے کے بھی نافذ کئے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال کی سویندو حکومت نے ذمہ داری سنبھالتے ہی بڑے اعلانات کے ساتھ متنازع فیصلے بھی جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریاست کی بی جے پی حکومت نے 2 انتہائی متنازع فیصلے لیے ہیں، جس پر آنے والے دنوں میں ہنگامہ کے قوی امکانات ہیں۔ پہلا فیصلہ تو یہ ہے کہ اسکولوں کے بعد اب ریاست کے سبھی مدارس میں میں بھی دعائیہ جلسہ کے وقت ’وندے ماترم‘ لازم قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت سے امداد حاصل کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری سبھی مدارس میں اب ’وندے ماترم‘ لازمی طور پر پڑھنا ہوگا۔دوسرا متنازع فیصلہ سرکاری ملازمین سے جڑا ہوا ہے، جس پر ہنگامہ ہونا یقینی ہے۔
دراصل حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ سرکاری ملازمین بغیر اجازت میڈیا میں بول نہیں سکتے۔ سرکاری ملازمین اخبارات یا ٹی وی چینلوں کو انٹرویو بھی نہیں دے سکتے، حتیٰ کہ بغیر اجازت لکھنے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔
یہ حکم براہ راست سرکاری ملازمین کے بولنے اور لکھنے کی آزادی کو محدود کرتا ہے۔جاری حکم کے مطابق ملازمین مرکزی یا ریاستی حکومت کی پالیسیوں کی مذمت نہیں کر سکتے۔ ان ملازمین میں سرکاری اسکولوں و کالجوں کے اساتذہ اور دیگر ملازمین بھی شامل ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ حکم ملازمین کے لیے آواز دبانے والے قانون جیسا ہے۔ اس فیصلہ سے سنسرشپ بڑھنے کا خوف ہے اور یہ احتجاج کی آواز دبانے کی کوشش بھی ہے۔قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی کی حکومت بنی ہے۔ وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے بعد سے ہی سویندو ادھیکاری ایکشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں میں انھوں نے کئی بڑے اور سخت فیصلے لیے ہیں۔ ان فیصلوں میں افسران کا تبادلہ، نظامِ قانون سے متعلق اہم اقدام، ٹی ایم سی لیڈران پر لگی مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ، انّاپورنا یوجنا کو منظوری وغیرہ شامل ہیں۔
سویندو حکومت نے او بی سی ریزرویشن کو بھی 17 فیصد سے گھٹا کر 7 فیصد کر دیا ہے۔ اب ریاست میں صرف 66 ذاتیں اور طبقات ہی او بی سی ریزرویشن کے دائرے میں رہیں گے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network