بہار
بہار میں ECI کا ووٹر لسٹ کی تصدیق کا کام رہے گا جاری، SC کا روک سے انکار
آدھار، ووٹر آئی ڈی، راشن کارڈ کو بھی ثبوت کے طور پر ماننا ہوگا۔
نئی دہلی: ملک میں جمہوریت کی بنیاد سمجھی جانے والی ووٹر لسٹ کی تصدیق کے سلسلے میں آج سب کی نظریں سپریم کورٹ پر تھیں۔ بہار کی ووٹر لسٹ تصدیق کیس میں الیکشن کمیشن کو آج سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے، فی الحال ووٹر لسٹ کی گہرائی سے نظرثانی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم آئینی ادارے کا کام نہیں روک سکتے۔ تاہم سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن سے کئی سوالات پوچھے۔ عدالت نے اس فیصلے کے وقت پر بھی سوالات اٹھائے۔
جسٹس دھولیا نے کہا کہ ہماری رائے میں پہلی نظر میں تین سوالات ہیں – پہلا – الیکشن کمیشن آف انڈیا کے انتخابات کرانے کے اختیارات، دوسرا – اختیارات کے استعمال کا عمل اور تیسرا وقت کی حد جو بہت مختصر ہے اور نومبر میں ختم ہو جائے گی اور نوٹیفکیشن اس سے پہلے آئے گا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم آئینی ادارے کا کام نہیں روک سکتے
تاہم جسٹس دھولیا نے کہا کہ کیس کی سماعت ضروری ہے۔ اسے 28 جولائی کو مناسب عدالت میں درج کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جوابی پٹیشن 21 جولائی یا اس سے پہلے ایک ہفتے کے اندر دائر کی جائے اور 28 جولائی سے پہلے جواب دیا جائے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو 11 دستاویزات میں آدھار، ای سی آئی سی اور راشن کارڈ کو شامل کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
جسٹس سدھانشو دھولیا اور جویمالیہ باغچی کی بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزاروں سے بھی سوال کیا۔ بنچ نے درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل گوپال شنکر نارائنن سے کہا کہ آپ خود بتائیں کہ الیکشن کمیشن کیا کر رہا ہے اس میں کیا غلط ہے۔

بہار میں الیکشن کمیشن کا ووٹر لسٹ کی تصدیق کا کام
بہار میں ووٹروں پر نظرثان ی کے معاملے نے جس طرح سے ملک میں سیاسی گرما گرمی پکڑی ہے، اب وہی معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی دہلیز پر پہنچ گیا ہے۔ تمام الزامات، جوابی الزامات، شکوک و شبہات اور سیاسی شور کے درمیان سپریم کورٹ نے آج اس اہم معاملے پر سماعت کی، سماعت میں فریقین اور اپوزیشن کی جانب سے کئی دلائل دیے گئے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو آدھار، ای سی آئی سی اور راشن کارڈ کو 11 دستاویزات میں شامل کرنے کا مشورہ دیا۔ اب اس معاملے کی سماعت 28 جولائی کو ہوگی۔
الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی نئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں کانگریس، این سی پی (ایس پی)، شیوسینا (یو بی ٹی)، سماج وادی پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور سی پی آئی- مارکسسٹ لیننسٹ (ایم ایم اے) کے رہنماؤں کی مشترکہ عرضی بھی شامل ہے۔
بہار
قانون شریعت پر عمل کرنے سے معاشرہ میں قائم ہوتی ہے امن وسکون کی فضا:امیر شریعت
(پی این این )
پٹنہ :نظام قضا کا قیام امت محمدیہ کا اہم ترین فریضہ ہے جس سے امت نے کبھی غفلت نہیں برتی، اس لئے اس نظام کی اہمیت وضرورت کو دیکھتے ہوئے ہمارے اکابر واسلاف ہمیشہ اسے قائم کرنے اور اسے پھیلانے کیلئے فکرمند رہے اور اس کے لئے کوششیں بھی کرتے رہے ہیں، کیونکہ اسی سے معاشرہ میں امن وسکون کی فضا قائم ہوتی ہے، اسی لئے مدرسہ اسلامیہ عربیہ گھوری گھاٹ چترا میں دارالقضاء کی نشأۃ ثانیہ ہورہی ہے، یہ باتیں امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے گھوری گھاٹ کی جامع مسجد میں مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع میں مولانا مفتی محمد زاہد بن محمد یونس کو منصب قضا پر فائز کرتے ہوئے کہیں۔
امیر شریعت نے مولانا موصوف کو سند قضاء دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ فریقین کے باہمی جھگڑوں کا قرآن وحدیث کی روشنی میں تصفیہ کریں اور مسلمانوں کو اسلامی قوانین واحکام پر عمل آوری کا جذبہ پیدا کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ جب اللہ رب العزت ہمارا خالق ومالک ہے تو اس کی اطاعت وفرمانبرداری کرنی ہے اور رسول اللہؐ کی تعلیمات واسوہ کے مطابق زندگی گذارنی ہے۔
امیر شریعت نے مسلمانوں سے کہا کہ آپ کو ایمانی جذبے سے اللہ اور اس کے رسولؐ کی باتیں دل وجان سے تسلیم کرنا ہے اور عملی زندگی میں اس کو جاری ونافذ کرنا ہے، اس موقع پر امیر شریعت نے امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے چھٹے امیر شریعت مولانا سید نظام الدین کی عملی وفکری صلاحیتوں کا اعتراف اور امارت شرعیہ کے تئیں آپ کی خدمات اور کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بستی آپ کا مولد ومسکن بھی ہے جو آپ سب کے لئے قابل صد رشک ہے۔
اس افتتاحی مجلس کا آغاز مولانا مفتی مجیب الرحمن قاسمی کی تلاوت سے ہوا، مفتی صاحب موصوف نے تمہیدی کلمات میں امارت شرعیہ کی نگرانی میں چل رہے دارالقضاء کی تفصیل بیان کی، اجلاس کی نظامت مولانا عبد الواحد ندوی نے بحسن وخوبی انجام دی۔
بہار
سمراٹ کابینہ میں توسیع، نشانت سمیت 32 وزراء نے لیا حلف
(پی این این )
پٹنہ :بہار میں سمراٹ کی کابینہ میں توسیع کی گئی ہے۔ پٹنہ کے گاندھی میدان میں بی جے پی کے 15 لیڈروں، 13 جے ڈی یو لیڈروں، دو ایل جے پی (آر)، ایک ایچ اے ایم لیڈر، اور ایک آر ایل ایس پی لیڈر نے آج وزیر کے طور پر حلف لیا۔ نشانت کمار، امتھیلیش تیواری، سویتا کماری، بلو منڈل، نند کشور رام، کمار شیلیندر، اور رام چندر پرساد پہلی بار وزیر بنے۔ تقریب میں کل 32 رہنماؤں نے وزراء کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور عہدوں اور رازداری کا حلف لیا۔ نتیش کمار کی سابقہ کابینہ کے 19 امیدواروں کو 13 نئے وزراء کے ساتھ بحال کیا گیا۔
سمراٹ چودھری کابینہ کی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔ پی ایم مودی کے علاوہ وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، اور بی جے پی صدر نتن نوین کے علاوہ کئی دیگر وی آئی پی بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی پٹنہ ہوائی اڈے سے سڑک کے ذریعے گاندھی میدان پہنچے۔ راستے میں بی جے پی کارکنوں نے پی ایم مودی کی حمایت میں نعرے لگائے اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ گاندھی میدان میں لگائے گئے اسٹیج پر بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی موجود تھے۔
بہار
مدارس کا استحکام ہماری ذمہ داری: ناظم امارتِ شرعیہ
(پی این این)
پٹنہ:اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی خصوصی توجہات کے نتیجے میں دارالعلوم الاسلامیہ، امارتِ شرعیہ کے اہم تعلیمی منصوبہ “رواقِ رحمانی” کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر ایک مختصر مگر پروقار تقریب بھی منعقد ہوئی۔تقریب سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے ناظم امارتِ شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کہا کہ مدارسِ اسلامیہ دین کے مضبوط قلعے ہیں، جہاں سے ایسے افراد تیار ہوتے ہیں جو دینی علوم میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی صحیح رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “رواقِ رحمانی” کی تعمیر طلبہ کو دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے طلبہ کو محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب بھی دی
اس موقع پر دارالعلوم الاسلامیہ کے سکریٹری اور مرکزی دارالقضا کے نائب قاضی شریعت مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نے اظہارِ مسرت کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم منصوبے کا آغاز ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اہلِ خیر حضرات کے تعاون سے یہ عمارت جلد پایۂ تکمیل کو پہنچے گی، جس کے بعد طلبہ کو ایک معیاری اور سازگار درسگاہ میسر آئے گی اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل بھی کی۔
تقریب میں دارالعلوم الاسلامیہ کے شیخ الحدیث مفتی منت اللہ قاسمی ، مہتمم مفتی یحییٰ قاسمی اور مولانا سجاد میموریل ہاسپٹل کے ذمہ دار ڈاکٹر محمد یاسر سمیت دیگر اساتذہ کرام اور طلبہ موجود تھے۔تقریب کا اختتام ناظم امارتِ شرعیہ کی رقت انگیز دعا پر ہوا، جس میں ملک و ملت کی فلاح، ادارے کی ترقی اور اس تعلیمی منصوبے کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
