Connect with us

دلی این سی آر

بریگیڈیئر محمد عثمان: نوشہرہ کا شیر اور قربانی کی عظیم داستان

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:۳ جولائی کا دن بھارت کے اُن سپوتوں کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے مادرِ وطن کی حفاظت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بریگیڈیئر محمد عثمان اُنہی جانبازوں میں شامل تھے جنہوں نے 1947–48 کی کشمیر جنگ کے دوران اپنی بے مثال قیادت، دلیری اور وطن سے والہانہ محبت کا مظاہرہ کیا۔ انہی کارناموں کے باعث انہیں ’’نوشہرہ کا شیر‘‘ کا لقب دیا گیا۔ ان کی شہادت کے بعد انہیں بھارت کے دوسرے بڑے فوجی اعزاز ’’مہاویر چکر‘‘ سے نوازا گیا۔
بریگیڈیئر محمد عثمان ۱۵ جولائی ۱۹۱۲ کو اعظم گڑھ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد قاضی محمد فاروق پولیس افسر تھے اور بعد ازاں بنارس (وارانسی) کے کوتوال مقرر ہوئے۔ ان کے خاندان میں تین بھائی اور تین بہنیں تھیں۔ بریگیڈیئر عثمان ان چند گنے چنے بھارتی افسران میں شامل تھے جو رائل ملٹری اکیڈمی، سینڈہرسٹ (برطانیہ) سے کمیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اپنے شاندار فوجی کیریئر میں انہوں نے ہمیشہ بہادری، انکساری اور قوم سے وفاداری کی مثال قائم کی۔ قیامِ پاکستان کے موقع پر جب انہیں پاکستان کی فوج کا سربراہ بنانے کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے بھارت سے اپنی وفاداری ثابت کی۔
1948 کی جنگ میں بریگیڈیئر عثمان نے 50 (انڈیپنڈنٹ) پیرا بریگیڈ کی کمان سنبھالی۔ انہوں نے نوشہرہ کے اسٹریٹیجک علاقے کا کامیابی سے دفاع کیا اور جانگڑ کو دوبارہ دشمن کے قبضے سے آزاد کروایا۔ دشمن کی شدید یلغار کے باوجود وہ میدان جنگ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے اور ۳ جولائی ۱۹۴۸ کو، اپنی ۳۶ویں سالگرہ سے چند دن قبل، مادرِ وطن پر قربان ہو گئے۔
بریگیڈیئر عثمان صرف محاذ جنگ کے ہیرو نہ تھے بلکہ ایک سادہ مزاج، نیک سیرت اور خدمت خلق سے محبت رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ غریب بچوں کی تعلیم پر خرچ کیا۔ ان کی قیادت میں سپاہیوں کو نہ صرف تحفظ بلکہ اعتماد بھی میسر آیا۔
ان کی بہن آمنہ شاہ کی صاحبزادی، سعیدہ فیاض الدین (مرحومہ)، جو کرنل میر فیاض الدین (ریٹائرڈ) کی اہلیہ تھیں، اُن افراد میں شامل تھیں جنہیں ان کی شہادت کی ۵۸ویں برسی کے موقع پر دہلی میں ریاستی تقریب میں اعزاز دیا گیا۔ ان کے ہمراہ شاہ عنایت اللہ اور دیگر اہل خانہ بھی موجود تھے۔ بعد ازاں ۲۰۱۲ میں، ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریب میں نائب صدرِ جمہوریہ جناب حامد انصاری نے بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
۳ جولائی ۲۰۲۵ کو جامعہ میں منعقدہ ان کی برسی کی تقریب، جو 50 پیرا بریگیڈ کی قیادت میں منعقد ہوئی، میں اُن کی پڑپوتی ثنا فیروز الدین نے خصوصی شرکت کی، جبکہ دیگر معززین اور فوجی افسران بھی موجود تھے۔
بریگیڈیئر عثمان کی وارثت آج ثنا فیروز الدین کے جذبے میں زندہ ہے، جنہوں نے حال ہی میں بحریہ میں شمولیت کے لیے اپنا پہلا ایس ایس بی انٹرویو دیا۔ ان کے والد، میر فیروز الدین (بریگیڈیئر عثمان کے پوتے) نے بیرونِ ملک دو دہائیوں پر مشتمل مستحکم زندگی کو خیرباد کہہ کر اپنے وطن واپسی کا فیصلہ کیا تاکہ ثنا اپنے خواب کی تعبیر کر سکیں—مسلح افواج میں شامل ہو کر ملک کی خدمت۔
بریگیڈیئر محمد عثمان آج بھی نہ صرف فوج بلکہ ہر بھارتی کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل وراثت تمغوں سے نہیں بلکہ اُن جذبوں سے بنتی ہے جو نسلوں تک حوصلہ، قربانی اور خدمت کا سبق دیتی ہے۔

دلی این سی آر

6مارچ کو خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے کجریوال

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال دہلی اسمبلی احاطے میں واقع پھانسی گھر معاملے میں خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ ہولی کے بعد 6 مارچ کو وہ خود دوپہر 3 بجے اسمبلی میں کمیٹی کے روبرو حاضر ہو کر ان کے سوالات کے جواب دیں گے۔ اس سلسلے میں منگل کو انہوں نے خط لکھ کر اسمبلی کمیٹی کو مطلع کر دیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی سے مکمل کارروائی کی براہِ راست نشریات کرنے، اپنے قانونی حقوق، اعتراضات اور دعوؤں کو محفوظ رکھنے کی گزارش کی ہے۔
اروند کیجریوال نے خصوصی اختیارات کمیٹی کو لکھے گئے خط کی نقل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی آلودگی سے نبرد آزما ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں، اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں اور دہلی اسمبلی نے پھانسی گھر پر سوال پوچھنے کے لیے مجھے طلب کیا ہے۔ میں نے خصوصی اختیارات کمیٹی کو خط لکھ کر اطلاع دے دی ہے کہ ان کے سمن کے مطابق میں 6 مارچ کو حاضر رہوں گا۔ شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میری کمیٹی سے گزارش ہے کہ کارروائی کی براہِ راست نشریات کی جائیں۔
دہلی اسمبلی کی خصوصی اختیارات کمیٹی کو خط لکھتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ مجھے دہلی اسمبلی کے طریقۂ کار اور قواعدِ کار کے ضابطہ 172 اور 220 کے تحت 18 فروری 2026 کو جاری کیا گیا سمن موصول ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں 6 مارچ 2026 کو دوپہر 3 بجے اس نوٹس کی تعمیل میں خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے مقررہ مقام پر ذاتی طور پر پیش ہوں گا۔انہوں نے واضح کیا کہ میری یہ پیشی میرے قانونی اور آئینی حقوق پر کسی بھی منفی اثر کے بغیر ہوگی۔ میرے تمام قانونی اقدامات، اعتراضات اور دعوے مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور عوامی جوابدہی کے مفاد میں میرا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں کمیٹی کی کارروائی کو لائیو اسٹریم کیا جائے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

مسلم پرسنل لا بورڈ نے کی امریکہ ۔اسرائیل کی ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی شدید مذمت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی مشترکہ اور کھلی جارحیت کی سخت اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بورڈ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے اور خطے کو تباہ کن جنگ سے بچائے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو چکی تھی۔ ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے مطابق ایران امریکہ کی تقریباً تمام شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان اور فوراً بعد اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مذاکرات محض ایک حربہ تھے، سنجیدہ سفارتی عمل نہیں۔
ڈاکٹر الیاس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی خود مختار ملک کی مرکزی قیادت کو دورانِ جنگ نشانہ بنانا اور قیادت کی تبدیلی کی کھلی بات کرنا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی آگ میں جھونک دیا ہے۔ ایک طرف متعدد یورپی ممالک امریکہ کی حمایت میں کھڑے ہیں، تو دوسری جانب روس اور چین ایران کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر سفارتی مداخلت نہ کی گئی تو یہ تصادم وسیع عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ طویل جنگ نہ صرف انسانی المیے کو گہرا کرے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر اور کمزور ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔
ڈاکٹر الیاس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر ہمارا ملک ایک متوازن اور باوقار ثالثی کردار ادا کر سکتا تھا، مگر موجودہ طرزِ عمل سے ملک کی خارجہ پالیسی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر سرکاری سطح پر تعزیت کا اظہار نہ کیا جانا ہماری اخلاقی اور سفارتی روایت کے منافی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک بار پھر ملک کے حکمرانوں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات کے ذریعے اس جنگ کو روکے۔ بصورتِ دیگر یہ آگ کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی اور پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں بھی پارہ 35کے پار

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی میں اس بار فروری معمول سے زیادہ گرم رہا ہے۔ موسم کا یہ انداز مارچ میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔صبح سے ہی تیز دھوپ ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ہولی، 4 مارچ کو موسم کیسا رہے گا۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 4 مارچ کو ہولی کے دن 35 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ تک پہنچ سکتا ہے۔ دریں اثنا،صفدرجنگ آبزرویٹری، دہلی میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔اس سال دہلی میں فروری معمول سے زیادہ گرم رہا ہے۔
توقع ہے کہ موسم کا یہ انداز مارچ میں بھی جاری رہے گا۔ اتوار کی صبح سے ہی تیز دھوپ چھائی رہی جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اتوار کو صفدرجنگ میٹرولوجیکل اسٹیشن پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 4.6 ڈگری زیادہ ہے۔ کم از کم درجہ حرارت 15.4 ڈگری سیلسیس رہا جو معمول سے 2.9 ڈگری زیادہ ہے۔ اگلے تین دنوں میں ہوا کی رفتار 15 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رہنے کی توقع ہے۔ پیر کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے اور کم سے کم درجہ حرارت 14 سے 16 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
ہوا کی رفتار میں اضافہ سے دہلی کے باشندوں کو آلودہ ہوا سے کافی راحت ملی ہے۔ سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق، اتوار کو دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 191 رہا۔ ایک دن پہلے، ہفتہ کو، یہ 248 تھا۔اس سال ہولی پچھلے سال کے مقابلے دس دن پہلے منائی جائے گی۔ اس کے باوجود موسم گزشتہ سال کی طرح گرم رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے سال ہولی کے دن یعنی 14 مارچ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.2 ڈگری تھا۔ اس بار بھی ہولی کے دن زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network