دیش
محمد علی جوہر یونیورسٹی میں پرنسپلز میٹنگ کا کامیاب انعقاد
(پی این این)
رام پور:محمد علی جوہر یونیورسٹی کے رابندر ناتھ ٹیگور آڈیٹوریم میں آج بڑے جوش و خروش اور وقار کے ساتھ پرنسپل میٹ کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تعلیمی تقریب کا مقصد یونیورسٹی اور علاقے کے مختلف اسکولوں اور کالجوں کے پرنسپلز کے ساتھ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس میٹنگ کا مقصدیونیورسٹی اور علاقے کے اسکولوں اور کالجوں کے درمیان تعلیمی تعاون کو فروغ دینا اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مربوط کوششیں کرنا تھا۔
پرنسپل میٹ کے لیے پورے آڈیٹوریم کو شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا۔پرنسپل میٹ میں مہمان خصوصی ڈاکٹر تزئین فاطمہ کی موجودگی نے تقریب کی رونقوں میں اضافہ کر دیا۔اس موقع پر جامعہ کے ڈی ایس ڈبلیو ڈاکٹر گلریز نظامی نےتمام پرنسپلز اور تعلیمی نمائندوں کو خوش آمدید کہا۔اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے یونیورسٹی کی کامیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں جدت اور معیاری تعلیم ملک کی ترقی کی کنجی ہیں۔اس کے بعد نیوز میگزین جاری ہوا۔ایڈمیشن سیل انچارج عظمیٰ نے بتایا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور کی نئی داخلہ پالیسی کا مقصد یونیورسٹی میں داخلہ کے عمل کو مزید شفاف اور منصفانہ بنانا ہے۔ اس سے طلباء کو ان کی میرٹ کی بنیاد پر داخلہ ملے گا اور یونیورسٹی کا تعلیمی معیار بھی بہتر ہو گا۔پرنسپل میٹ میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جیسے کہ تعلیم میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی شمولیت، نصاب میں جدت اور طلباء کے لیے کیریئر پر مبنی پروگرام۔ سب نے باہمی بات چیت کے ذریعے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔پروگرام کو دلچسپ بنانے کے لیے رنگا رنگ پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں کاشان ملک اور ندیم احمد نے ملکی نغمے اور غزلیں گا کر حاضرین کو محظوظ کیا۔پروگرام کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔
پروگرام کی نظامت رابعہ خان اور ماہرہ اخلاق نے کی۔پروگرام کا اختتام گروپ فوٹو سیشن اور لنچ کے ساتھ ہوا۔اس موقع پر اعزازی وائس چانسلر ڈاکٹر محمد عارف، رجسٹرار ڈاکٹر ایس این سلام، کنٹرولر امتحانات اور پراکٹر محمد عارف، ڈاکٹر محمد کلیم، ڈاکٹر سواتی سنگھ رانا، کنوینر اینڈ ایڈمیشن سیل انچارج عظمیٰ، کو کنوینر ڈاکٹر تنویر ارشاد اور ریسرچ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر فرحان، عالمگیر خان، ڈین ایگری کلچر ڈاکٹر گل فشاں، ڈاکٹر ارم، ڈاکٹر عنیزہ، امیت سنگھ، صدام حسین، برج کشور یادو، ڈاکٹر مبین، اکرم، ریشمہ پروین، ہالا، صدف، عظمیٰ، عائشہ، خوشبو گرگ، سیما بی، پرشانت احمد، روشن، احمد، راشن یونیورسٹی کے اساتذہ اور افسران و ملازمین وغیرہ موجود تھے۔ اس موقع پر معززین، سماجی کارکن، مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ، ایگزیکٹو کونسل اور دیگر اراکین موجود تھے۔ اکیڈمک کونسل کے تمام ممبران بھی موجود تھے۔
دیش
پروفیسر شاہد اختر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل میں نامزد
(پی این این)
نئی دہلی:صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی ایگزیکٹو کونسل میں نامزد کیا ہے۔ اس اقدام کو علمی حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور مختلف طبقات کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔پروفیسر شاہد اختر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ انتظامیات سے وابستہ ہیں اور انتظامی علوم، پیشہ ورانہ تعلیم اور اخلاقی نظم و نسق میں گہری مہارت رکھتے ہیں۔ وہ قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کمیشن (این سی ایم ای آئی) کے رکن اور قائم مقام چیئرمین کے طور پر اپنے نمایاں دورِ کار سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کے وسیع تجربے نے انہیں اقلیتی تعلیمی حقوق اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو شکل دینے والے قانونی و آئینی ڈھانچے کی عملی سمجھ سے آراستہ کیا ہے۔اس عہد میں جب تعلیمی اقدار، انتظامی موثریت اور روزگار سے وابستگی کے درمیان توازن کی ضرورت شدت اختیار کرچکی ہے، پروفیسر شاہد اختر کا دوراندیش نقطہ نظر انتظامی نظام کو مؤثر بنانے، اے ایم یو کے متنوع تعلیمی پروگراموں میں پیشہ ورانہ معنویت بڑھانے اور حکمت عملی پر مبنی نظم و نسق کو مضبوط سمت فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پروفیسر شاہد اختر علمی، انتظامی اور سماجی میدانوں میں ایک ہمہ جہت اور باوقار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ علمی اعتبار سے وہ انتظامی علوم، کاروباری تعلیم اور اخلاقی نظم و نسق کے شعبوں میں گہری بصیرت رکھتے ہیں، اور ان کی تدریسی و تحقیقی خدمات نے طلبہ کی فکری تربیت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ قیادت کی پرورش میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔انتظامی سطح پر ان کے فیصلوں میں آئینی شعور، قانونی فہم اور زمینی حقائق کا متوازن امتزاج نظر آتا ہے، جس کے باعث اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق کے تحفظ اور ادارہ جاتی استحکام کو تقویت ملی۔ سماجی خدمات کے اعتبار سے، وہ تعلیم کو سماجی انصاف، شمولیت اور بااختیار بنانے کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نوجوانوں کی رہنمائی، اقلیتی طبقات کی تعلیمی ترقی اور ادارہ جاتی شفافیت کے فروغ میں ان کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ پروفیسر شاہد اختر کی علمی، انتظامی اور سماجی خدمات کا امتزاج انہیں عصر حاضر کے ممتاز ماہرین میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے، اور اے ایم یو کے انتظامی اور تعلیمی معیار کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دیش
مہاراشٹر و یوپی حج کمیٹیوں میں غیر مسلم سی ای او کی تقرری پر مسلمانوں میں بے چینی، قانونی چیلنج کی تیاری
(پی این این)
ممبئی:مہاراشٹر اور اتر پردیش اسٹیٹ حج کمیٹیوں میں غیر مسلم افسران کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مقرر کیے جانے پر مسلم حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی میں آئی اے ایس افسر منوج جادھو کی بطور سی ای او تقرری کے بعد مختلف دینی، سماجی اور ملی تنظیموں نے اس فیصلے کو متنازع، حساس اور تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت شروع کر دی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبئی سے تعلق رکھنے والے ارکان کی ایک اہم میٹنگ مسافر خانہ، ممبئی میں منعقد ہوئی، جس میں حج کمیٹی آف انڈیا اور ریاستی حج کمیٹیوں میں غیر مسلم سی ای او کی تقرری پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ میٹنگ میں اس فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کرنے پر اصولی اتفاق کیا گیا اور آئندہ لائحۂ عمل طے کیا گیا۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ پرسنل لاء بورڈ کی مرکزی قیادت نے بورڈ کے سکریٹری مولانا مجددی کے ذریعے ممبئی کے ارکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانونی چیلنج کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور مرکزی سطح سے سینئر وکلاء کی ایک ٹیم ممبئی پہنچنے والی ہے۔
اس قانونی ٹیم میں ایڈوکیٹ یوسف مچھالا،طاہر حکیم اور شمشاد شامل ہوں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر سینئر وکلاء جیسے ابھیشیک منوسنگوی اور کپل سبل کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ممبئی کے بورڈ ممبران کو کیس کی تیاری اور قانونی ٹریننگ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مہاراشٹر کے کنوینر مولانا محموددریابادی نے نمائندہ کے ذریعے ان تمام تفصیلات کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب، مسلم علماء اور سماجی کارکنوں نے اس تقرری کو حج جیسے بنیادی مذہبی فریضے کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے اور اس سے متعلق اداروں کی نگرانی کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہونا چاہیے جو اسلامی احکام، مناسکِ حج اور عازمین کے مذہبی تقاضوں سے پوری طرح واقف ہو۔
بامبے ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے ایک ویڈیو پیغام میں اس تقرری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جان کر صدمہ ہوا کہ حج کمیٹی جیسے حساس ادارے میں غیر مسلم افسر کو سی ای او بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل و اسٹیٹ حج کمیٹی ایکٹ کے تحت حج کمیٹیوں کے ارکان اور انتظامی ڈھانچے کا بنیادی طور پر مسلم کمیونٹی سے ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر کانگریس کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد اس تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
اس معاملے پر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے سابق صدر ڈاکٹر احمد صدیقی رانا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے حج کمیٹی کو مسلمانوں کا ایک مذہبی اور مقدس ادارہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر لازماً کسی مسلم افسر کو بنایا جائے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی سعودی عرب کی جانب سے تفویض کردہ حج کوٹے کو پورا کرنے اور ہندوستانی عازمینِ حج کے سفر، قیام، خوراک اور دیگر انتظامات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر سال تقریباً ایک لاکھ پچھتر ہزار ہندوستانی حج کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جن میں اکثریت حج کمیٹی کے ذریعے جبکہ تقریباً ایک چوتھائی نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے فریضۂ حج ادا کرتی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق 2026 کا حج عارضی طور پر 25 سے 30 مئی کے درمیان متوقع ہے، جو چاند کی رویت سے مشروط ہوگا۔ اس سلسلے میں عازمین کے لیے نئے قواعد بھی جاری کیے گئے ہیں، جن میں کیمپوں میں کھانا پکانے اور برقی آلات لانے پر پابندی شامل ہے۔ حجاج کو ضروری ادویات، چھتری، دھوپ سے بچاؤ کا سامان، پلاسٹک چٹائیاں اور غذائی سپلیمنٹس ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
مسلم حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے نازک وقت میں حج کمیٹیوں کے انتظامی فیصلوں میں حساسیت، شفافیت اور مذہبی تقاضوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر یہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ ایک بڑے آئینی و سماجی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
دیش
یو اے ای کے صدرمحمد بن زید النہیان ہندوستان آئیں گے کل
(پی این این)
نئی دہلی:متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان پیر کو دہلی کا دورہ کرنے والے ہیں، اس اقدام سے ہندوستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان پہلے سے متحرک تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی توقع ہے۔ہندوستان اور متحدہ عرب امارات بحیرہ عرب کے پار صدیوں پرانے تجارتی روابط کا اشتراک کرتے ہیں، جو اب اسٹریٹجک، اقتصادی اور تکنیکی عزائم سے چلنے والی ایک جدید شراکت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ، جس پر 2022 میں دستخط کیے گئے، ایک کلیدی عمل انگیز رہا ہے۔
2025 کی پہلی ششماہی میں غیر تیل کی باہمی تجارت تقریباً 37.6 بلین ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ سال بہ سال 34 فیصد اضافہ ہے۔ دونوں ممالک 2030 تک غیر تیل کی تجارت میں 100 بلین ڈالر تک پہنچنے کے راستے پر ہیں۔معاہدے نے ہزاروں اشیا پر ٹیرف میں کمی کی ہے، جس سے انجینئرنگ، فارماسیوٹیکل اور الیکٹرانکس میں ہندوستانی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اس نے ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کی ہے۔ متحدہ عرب امارات ہندوستان کا ساتواں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے، جس میں 2000 سے اب تک مجموعی ایف ڈی آئی کی آمد 22 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات اہم تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کے ساتھ توانائی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ اقدامات، جیسے روپیہ درہم تجارتی تصفیہ اور متحدہ عرب امارات میں ہندوستان کی یوپی آئی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے انضمام نے امریکی ڈالر پر انحصار کم کیا ہے۔دفاعی اور سلامتی کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں جن میں باقاعدہ مشترکہ مشقیں اور بحری تعاون پر بات چیت ہوتی ہے۔ اس ماہ کے شروع میں، ہندوستان کے آرمی چیف نے مزید فوجی مصروفیات کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔
-
دلی این سی آر12 months agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر12 months agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر12 months agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار8 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
