دیش
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل ٹیم کا معائنہ مکمل
(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی نے نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) کے سہ روزہ معائنے کو کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔ یہ جائزہ دو جون سے چار جون 2025 کے دوران یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس میں منعقد ہوا۔جس میں NAAC کی ہم مرتبہ (Peer Team) ٹیم نے ادارے کی مجموعی کارکردگی اور تعلیمی معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ان تین دنوں میں یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی و انتظامی شعبوں، تدریسی و تحقیقی لیبارٹریوں، مرکزی لائبریری، امتحانی سیل، آئی کیو اے سی(IQAC)، انتظامی بلاک، اورا ہم نصابی سرگرمیوں کے مراکز کامعائنہ کیا ۔
ٹیم نے تدریسی و غیر تدریسی عملے، ریسرچ اسکالرز، طلبہ اور این ایس ایس واین سی سی کی مختلف یونٹوں کے رضاکاروں سے براہِ راست گفتگو کی اور ان کے تجربات و آراء کو سنا۔ اس عمل نے نَیک ٹیم کو زمینی سطح پر ادارے کی پالیسیوں، کارکردگی، اور اثرات کو جانچنے کا موقع فراہم کیا۔نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل ٹیم کا یہ معائنہ یونیورسٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی ایس ایس آر ( Self Study Report) کی بنیاد پر کیا گیا۔ اس میں تعلیمی معیار، تدریسی طریقۂ کار، تحقیقی و اختراعی سرگرمیاں، انفراسٹرکچر، پالیسی سازی، مالی شفافیت، منتظمانہ نظم، اور سماجی شمولیت جیسے کلیدی پہلوؤں کا تفصیلی تجزیہ شامل تھا۔ ٹیم نے اپنی رپورٹ کی تیاری کے لیے نہ صرف دستاویزی شواہد پر انحصار کیا بلکہ فیلڈ وزٹ اور انٹرایکٹو سیشنز کو بھی اپنی جانچ کا حصہ بنایا۔
اس موقع پر یونیورسٹی کے یونیورسٹی کےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل ٹیم کے خیرمقدم کے ساتھ کہا کہ یہ معائنہ نہ صرف ہماری ادارہ جاتی ترقی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خود احتسابی، بہتری اور معیاری تعلیم کے نئے سنگ میل طے کرنے کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔ ہم اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل ٹیم کی رہنمائی اور مشوروں کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ان کی روشنی میں مزید بہتری کے لیے پُرعزم ہیں۔پروفیسر تنیجا نے مزید کہاکہ خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی ملک کی ایک منفرد لسانی و ثقافتی شناخت رکھنے والی دانش گاہ ہے جو ہمہ وقت علمی بیداری، لسانی تنوع، تحقیقی تخلیقیت اور سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف عمل ہے۔نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل ٹیم کی آمد کے دوران یونیورسٹی میں ایک مثالی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی یکجہتی دیکھنے کو ملی۔ تمام شعبہ جات نے اپنی سرگرمیاں اور کامیابیاں دلائل و شواہد کے ساتھ پیش کیں۔ طلبہ و اساتذہ نے تحقیقی منصوبے، اختراعی تجربات، اور تدریسی سرگرمیوں کو نمایاں انداز میں پیش کر کے ادارے کی علمی سطح کو اجاگر کیا۔ مختلف ثقافتی و لسانی سرگرمیوں نے یونیورسٹی کے تکثیری تشخص کو مزید مؤثر انداز میں پیش کیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کی جانب سے ایس ایس آر رپورٹ پہلے نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل ٹیم کو پیش کی جا چکی تھی اوراب اس معائنے کی تکمیل کے بعد ٹیم اپنی مفصل رپورٹ نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل ٹیم کو ارسال کرے گی، جس کی بنیاد پر یونیورسٹی کو درجہ بندی (Accreditation Grade) دی جائے گی۔ یہ درجہ بندی آئندہ چند ہفتوں میں جاری ہونے کی توقع ہےجو یونیورسٹی کی تعلیمی شناخت کو قومی سطح پر ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔آخر میں یونیورسٹی کے ہائبرڈ ہال میں نَیک ٹیم کے چیرمین اور ممبران نے اساتذہ اور انتظامی عملہ کی موجودگی میں اپنے تأثرات کا اظہار کیا اور شکریے کے کلمات آئی کیو اے سی کے ڈائریکٹر پروفیسر ثوبان سعید نے ادا کیا ۔
دیش
کاکروچ جنتا پارٹی نے بی جے پی کو پچھاڑا،5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس
(پی این این)
نئی دہلی۔’کاکروچ جنتا پارٹی‘نام کا ایک انسٹا گرام کا اکائونٹ جو 16 مئی سے وائرل ہے۔ اس کے محض 5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میں وہ بی جے پی سے بھی آگے ہوگیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کو لیکر نوجوانوں میں ایک جوش ہے۔ اور غم وغصہ بھی ہے۔ غورطلب ہے کہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تعبیر کیا تھا۔ جس کا ملک پر بہت گہرا اثرا ہوا۔
اسی دوران اب یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ کہ محض پانچ دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کے زین جی طبقے کے ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔ جو ایک دن انقلاب کا باعث بن سکتا ہے۔
دیش
ایبولا کا خطرہ،ہند۔افریقہ فورم کا اعلیٰ سطحی اجلاس منسوخ
(پی این این)
نئی دہلی۔افریقہ میں ایبولا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے آج وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ حالات پر غورکرنے کے بعد یہ طے کیا گیا ہے۔ کہ ہند۔افریقہ فورم اعلیٰ سطحی اجلاس فی الحال ملتوی کردیا جائے۔ اس اجلاس کو بعد میں منعقد کیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک میٹنگ کے بعد نئی تاریخ طے کی جائے گی۔
غورطلب ہے کہ ہندافریقہ یونین کمیشن کے تعاون سے 28-31 مئی 2026 کو نئی دہلی میں چوتھے افریقہ فورم اعلیٰ سطحی اجلاس(آئی اے ایف ایس-4 ) کی میزبانی کرنی تھی جس میں افریقہ کے کئی لیڈرآنے والے تھے۔ اس اجلاس کا مقصد ہند افریقہ ساجھیداری کو مضبوط کرنا اور مختلف سیکٹر میں آپسی تعاون کو بڑھانے کے لئے ایک روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ یہ اجلاس دس سال کے بعد منعقد ہونے والا تھا۔
دیش
بنگال کے تمام مدارس میں وندے ماترم گانا لازمی،سی اے اے بھی ہوگا نافذ العمل،سوبھیندو سرکار کا بھگوا فرمان جاری
(پی این این)
کولکاتہ۔ٹی ایم سی کے زوال کے بعد بنگال میں بھگوا سیاست کا بول بالا ہے۔ سوبھیندو سرکار نے محض 24 گھنٹے کے اندر کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔ اب بنگال کے تمام مدرسوں میں وندے ماترم گانا لازمی قرار دیا گیا ہے تو سی اے اے کے بھی نافذ کئے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال کی سویندو حکومت نے ذمہ داری سنبھالتے ہی بڑے اعلانات کے ساتھ متنازع فیصلے بھی جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریاست کی بی جے پی حکومت نے 2 انتہائی متنازع فیصلے لیے ہیں، جس پر آنے والے دنوں میں ہنگامہ کے قوی امکانات ہیں۔ پہلا فیصلہ تو یہ ہے کہ اسکولوں کے بعد اب ریاست کے سبھی مدارس میں میں بھی دعائیہ جلسہ کے وقت ’وندے ماترم‘ لازم قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت سے امداد حاصل کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری سبھی مدارس میں اب ’وندے ماترم‘ لازمی طور پر پڑھنا ہوگا۔دوسرا متنازع فیصلہ سرکاری ملازمین سے جڑا ہوا ہے، جس پر ہنگامہ ہونا یقینی ہے۔
دراصل حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ سرکاری ملازمین بغیر اجازت میڈیا میں بول نہیں سکتے۔ سرکاری ملازمین اخبارات یا ٹی وی چینلوں کو انٹرویو بھی نہیں دے سکتے، حتیٰ کہ بغیر اجازت لکھنے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔
یہ حکم براہ راست سرکاری ملازمین کے بولنے اور لکھنے کی آزادی کو محدود کرتا ہے۔جاری حکم کے مطابق ملازمین مرکزی یا ریاستی حکومت کی پالیسیوں کی مذمت نہیں کر سکتے۔ ان ملازمین میں سرکاری اسکولوں و کالجوں کے اساتذہ اور دیگر ملازمین بھی شامل ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ حکم ملازمین کے لیے آواز دبانے والے قانون جیسا ہے۔ اس فیصلہ سے سنسرشپ بڑھنے کا خوف ہے اور یہ احتجاج کی آواز دبانے کی کوشش بھی ہے۔قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی کی حکومت بنی ہے۔ وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے بعد سے ہی سویندو ادھیکاری ایکشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں میں انھوں نے کئی بڑے اور سخت فیصلے لیے ہیں۔ ان فیصلوں میں افسران کا تبادلہ، نظامِ قانون سے متعلق اہم اقدام، ٹی ایم سی لیڈران پر لگی مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ، انّاپورنا یوجنا کو منظوری وغیرہ شامل ہیں۔
سویندو حکومت نے او بی سی ریزرویشن کو بھی 17 فیصد سے گھٹا کر 7 فیصد کر دیا ہے۔ اب ریاست میں صرف 66 ذاتیں اور طبقات ہی او بی سی ریزرویشن کے دائرے میں رہیں گے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
