Connect with us

بہار

مشینی ترقی کے عہد میں انسانی عظمت کا زوال ایک لمحہ فکریہ : پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

Published

on

(پی این این )
سیتامرھی:ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان و ادب کے عنوان سے شری رادھا کرشنا گوئنکا کالج میں ایک توسیعی خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں بطورِ مہمان خصوصی اردو کے معروف اسکالر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین جواہر لال نہرو یونیورسٹی شریک ہوئے ، انہوں نے اردو زبان وادب اور ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عہد ڈیجیٹل عہد ہے ، آج پوری دنیا ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہوگئی ہے ، ایسے میں زبانوں کی اہمیت اور زیادہ مسلم ہو جاتی ہے ، اردو زبان دنیا کی ان چنندہ زبانوں میں شامل ہے جو اس ڈیجیٹل عہد میں برق رفتاری کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے ‌۔ سائبر ایج میں جہاں مشینوں کی ترقی ہوئی ہے وہیں انسانی اقدار میں تنزلی آئی ہے ہمیں اس جانب بھی سوچنا چاہیے۔ اس ترقی یافتہ دور میں انسانی وقار بحال ہو انسانی عظمت میں اضافہ ہو یہ ہمارے معاشرے کی بنیادی ضرورتوں میں سے ہے جس میں ادب کا کلیدی کردار ہو سکتا ہے ۔ اردو زبان و ادب کو اس لیے بھی انفرادیت حاصل ہے کہ اس میں انسانی اقدار کی بات کی جاتی ہے۔ ہمارے ادبا و شعرا اس کو بہتر ڈھنگ سے برت بھی رہے ہیں جو اردو کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے ۔
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے شری رادھا کرشنا گوئنکا کالج کے طلباء وطالبات کو نصیحت کرتے ہوئے کہا آپ بھی اردو زبان کے تئیں اپنے شعور کو بیدار کریں ، اس میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ، انہوں نے اپنے شاگرد محمد ثناءاللہ صدر شعبہ اردو گوئنکا کالج کی کوششوں کو بھی سراہا ، اور اس پر زور دیا کہ آئندہ بھی اس طرح کے خطبے کا انعقاد ہونا چاہیے جس سے طلبا میں اردو اور ڈیجیٹل میڈیا کے تئیں بیداری آئے ۔
مہمان مقرر ڈاکٹر محمد رکن الدین اسسٹنٹ پروفیسر ستیہ وتی کالج دہلی نے ڈیجیٹل میڈیا اور اردو کے حوالے سے جو کام اب تک ہوئے ہیں ان حوالے سے مدلل گفتگو کی ۔پروگرام کا آخری سیشن مشاعرے کا تھا جس میں مشہور شعراء نے شرکت کی ، جن میں ظفر حبیبی ، جمیل اختر شفیق ، نسیم احمد آرزو، اور مرزا راحیل کے نام شامل ہیں ۔ محمد ثناء اللہ اسسٹنٹ پروفیسر گوئنکا کالج نے مہمانوں کا استقبال کیا ، نظامت کے فرائض نثار احمد نے انجام دئے ۔
شرکا میں ڈاکٹر محمد ساجد علی خان ، صوفیہ تسنیم ، پروفیسر اومیش کمار شرما ، ڈاکٹر مکیش کمار سنگھ ، ڈاکٹر راکیش کمار ، راشد فہمی ، مولانا علی مرتضی ، مولانا خورشید ندوی، ضیاء شبنم ، ماسٹر اسرار ، امجد رضا ، طالب حسین آزاد ، مولانا اشتیاق عالم تسلیمی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ معاونین میں رنجیت کمار سنگھ وغیرہ شریک رہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

ذات دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں سمراٹ چودھری، تیجسوی یادو کا بہار حکومت پرالزام،عصمت دری کے مجرموں کا کب ہوگاانکاؤنٹر؟وزیراعلیٰ سے آرجے ڈی لیڈر کا سوال

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر اور آر جے ڈی کے سربراہ تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ذات پات کی بنیاد پر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ خواتین کے ساتھ عصمت دری کرنے والے درندہ صفت مجرموں کا انکاؤنٹر آخر کب ہوگا؟راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی قیادت میں این ڈی اے کی نئی حکومت بننے کے بعد بہار میں جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ خواتین اور بچیوں کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
تیجسوی یادو نے منگل کو پٹنہ واقع آر جے ڈی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بہار میں خواتین کی سلامتی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی حکومت بنے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور محکمۂ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سمراٹ حکومت کے دور میں خواتین کے خلاف جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مجرم خواتین پر قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں اور سمراٹ حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں اور شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ماؤں، بہنوں اور بچیوں کے خلاف جرم کا کوئی واقعہ سامنے نہ آتا ہو۔تیجسوی یادو نے کہا کہ اجتماعی عصمت دری اور ریپ کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت میں شامل کئی وزراء ایسے ہیں جن کے خلاف فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
تیجسوی یادو نے سمراٹ چودھری کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد ایک ماہ کے دوران، یعنی 15 اپریل سے 15 مئی کے درمیان، بہار کے مختلف اضلاع میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ پیش آئے عصمت دری، اغوا اور قتل کے واقعات کا ذکر کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال پوری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ انہوں نے صرف خواتین کے خلاف پیش آنے والے جرائم کا ہی تذکرہ کیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ بھی قتل، لوٹ مار اور اغوا کی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا کہ بہار میں ذات پات دیکھ کر انکاؤنٹر کیے جا رہے ہیں۔ تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ سے سوال کرتے ہوئے کہا،“کیا سمراٹ چودھری مخصوص ذات کو دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں؟ جن واقعات کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان کے مجرموں کا انکاؤنٹر کب ہوگا؟ بالیکا گرہ کانڈ کے ملزم جنہیں یہ لوگ اپنا رہنما بنائے ہوئے ہیں، ان کا انکاؤنٹر کب کیا جائے گا؟ آپ دُشکرم کرنے والوں کی ذات بھی دیکھیے اور جن کے ساتھ ظلم ہوا اُن کی ذات بھی دیکھیے۔ آخر خواتین کو انصاف کب ملے گا؟”
تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کی 65 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’جیویکا دیدی‘‘ کو رسوئی گیس سلنڈر ملنا بند ہو گیا ہے اور خواتین کو مناسب غذائیت بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل دو کروڑ خواتین کو 10-10 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تیجسوی نے سوال اٹھایا کہ آخر اس اسکیم کی دوسری قسط کب جاری کی جائے گی؟
آر جے ڈی لیڈر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بہار میں این ڈی اے حکومت بنے چھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو کوئی خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ بہار حکومت 71 ہزار کروڑ روپے کا قرض لینے کی تیاری کر رہی ہے۔تیجسوی یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ موجودہ حکومت صرف ریل بنانے اور فوٹو شوٹ کرانے میں مصروف ہے۔

Continue Reading

Bihar

تمام سرکاری ملازمین ایمانداری سے کریں کام،نائب وزیراعلیٰ وجے کمار چودھری نومنتخب افسران کو لگن اور پختہ عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں اداکرنے کی دیں ہدایات

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر وسائل آب وجے کمار چودھری نے کہا کہ محکمہ وسائل آب کسانوں اور عام لوگوں سے براہ راست جڑا ہوا محکمہ ہے، اس لیے تمام نومنتخب ملازمین کو پوری ایمانداری، لگن اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے۔
نائب وزیراعلیٰ مسٹر چودھری نے آج سنچائی بھون میں واقع محکمہ وسائل آب کے آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں 15 امیدواروں کو تقرری خطوط سونپے۔ ان میں چھ نومنتخب اسسٹنٹ انجینئر، ہمدردی کی بنیاد پر چھ لوئر ڈویژن کلرک (ایل ڈی سی) اور تین آفس اٹینڈنٹ شامل ہیں۔
مسٹر چودھری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تمام نومنتخب ملازمین کو مبارکباد دی اور کہا کہ اب وہ محکمہ وسائل آب کے خاندان کا اٹوٹ حصہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بنیادی طور پر دیہی علاقوں میں کام کرتا ہے اور کسانوں اور عام لوگوں کو آبپاشی اور سیلاب سے تحفظ جیسی اہم خدمات فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں تمام ملازمین کو پوری ایمانداری، لگن اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علاقے میں کام کرنے والے افسران اور ملازمین کی سرگرمی اور کارکردگی سے ہی محکمے کا امیج مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے نومنتخب اسسٹنٹ انجینئروں سے باقاعدگی سے جائے وقوع کا معائنہ کرنے اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں سرگرم رول ادا کرنے کی اپیل کی۔

Continue Reading

Bihar

سیتامڑھی:ضلع سطحی تقریری مقابلہ آج، طلبہ و طالبات کریں گے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:ضلع اردو زبان سیل سیتامڑھی کے زیرِ اہتمام اردو بولنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے ریاستی منصوبہ 2025-26 کے تحت آج 21 مئی 2026 بروز جمعرات ضلع سطحی تقریر و مباحثہ مقابلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام کلکٹریٹ سیتامڑھی کے پریچرچا بھون میں صبح 10:30 بجے سے شروع ہوگا۔
ضلع اردو زبان سیل کے انچارج شفی احمد نے بتایا کہ پروگرام کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ سیتامڑھی کریں گے۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر، ایڈیشنل کلکٹر، ڈیزاسٹر مینجمنٹ افسر، ضلع رابطہ عامہ افسر سمیت کئی اعلیٰ انتظامی اور سماجی شخصیات موجود رہیں گی۔ پروگرام کی صدارت کملا بالیکا ہائر سیکنڈری اسکول سیتامڑھی کے پرنسپل ڈاکٹر محمد قمرالہدیٰ کریں گے۔
پروگرام کا آغاز ابتدائی خطاب اور نظامت سے ہوگا، جس کے بعد مہمانوں کا استقبال، شمع روشن کرنے کی تقریب، استقبالیہ نغمہ، تعارفی خطاب اور غزل پیش کی جائے گی۔ اس کے بعد مختلف زمروں میں طلبہ و طالبات کے درمیان تقریری مقابلے منعقد ہوں گے۔ میٹرک اور اس کے مساوی درجے کے طلبہ کیلئے “تعلیم کی اہمیت” اور “کتابیں ہماری بہترین دوست ہیں” جیسے موضوعات مقرر کیے گئے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ سطح کے لیے “خواتین کی تعلیم اور خودمختاری” اور “آزادی کی جدوجہد میں اردو صحافت کا کردار” جبکہ گریجویشن سطح کے لیے “اردو ادب میں خواتین کا حصہ” اور “اردو اور ہندی کا دوستانہ رشتہ” جیسے اہم موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔
مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو میڈل اور تعریفی اسناد دے کر اعزاز سے نوازا جائے گا۔ پروگرام شام 5 بجے شکریہ کے کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ ضلع اردو زبان سیل نے ضلع بھر کے اردو بولنے والے طلبہ و طالبات سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وہ اپنی ادبی اور لسانی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر سکیں۔ یہ پروگرام نہ صرف طلبہ کی تقریری اور فکری صلاحیتوں کو فروغ دے گا بلکہ اردو زبان و ادب کے تئیں نئی نسل میں دلچسپی اور بیداری پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network