Connect with us

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ فارسی میں ایران شناسی ہال کا افتتاح

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایران کلچر ہاو ¿س و سفارت جمہوریہ اسلامی ایران دہلی کے اشتراک سے آج ایران شناسی ہال کا افتتاح شیخ الجامعہ پروفیسر مظہرآصف اور ہندوستان میں ایران کے سفیر کبیر ڈاکٹر ایرج الٰہی کی موجودگی میں عمل میں آیا۔ شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف نے اپنے خطاب میںہندو ایران کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے ایران شناسی ہال کی تزئین کاری کیلئے ایرانی سفیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے خارجی زبانوں کے ہر شعبہ میں اُس ملک کی تہذیب و تمدن کی جھلکیاں پیش کرنے والا ایک مخصوص کمرہ ہونا چاہئے جس کے لیے میں بھی کوشش کروں گا اور صدور شعبہ کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہئے۔ایران کے سفیر کبیر ڈاکٹر ایرج الٰہی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو ایران کے سیاسی، سماجی اور علمی تعلقات زمانہ قدیم سے ہیں ،یہ دونوں ملک ساتھ رہے ہیں اور ہمیشہ دنیا کے سامنے اپنی مشترکہ علمی میراث کو پیش کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے جامعہ اور ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا کہ ہمیں یہ تزئین کاری کا موقع دیا۔ڈاکٹر فریدالدین فریدعصر کلچرل کونسلر ایران کلچر ہاو ¿س نے کہا کہ یہ ہال کی تزئین ہند و ایرانی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جس میں مشہور فارسی شعرا کے اشعار اور باہمی روابط کی پینٹنگ سے زینت دی گئی ہے۔
جامعہ کے کارگذار رجسٹرار پروفیسر ابوذر خیری نے کہا کہ میرے لئے بہت خوشی کی بات ہے کہ آج اس ہال کا افتتاح عمل میں آیا میں نے بھی کئی سال تک پی۔ جی۔ ڈپلومہ ان ایرانولوجی میں تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔
ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگوجز پروفیسر اقتدار محمد خان نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ سے جامعہ کی مدد کرتا رہا ہے میری طالب علمی کے زمانہ میں بھی ایران کلچر ہاو ¿س نے بعض کاموں میں تعاون کیا تھا اورمجھے امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔ آخر میں صدر شعبہ فارسی پروفیسر سید کلیم اصغر نے تمام مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خاص طور سے سفیر ایران اور کلچر خانہ فرہنگ ایران کے ڈائرکٹرکا ایران شناسی کے ہال کی تزئین کاری کے لیے شکریہ ادا کیا ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محسن علی نے انجام دیئے جبکہ پروگرام کا افتتاح ڈاکٹر یاسر عباس نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔شرکت کرنے والوں میں خاص طور سے کارگذار پروکٹر پروفیسر راجن کمار، میڈیا کوآرڈینیٹر پروفیسر صائمہ سعید، ڈین فیکلٹی آف آرکیٹیکچر پروفیسر قمر ارشاد، صدر شعبہ اردو پروفیسر کوثر مظہری، صدر شعبہ عربی پروفیسر نسیم اختر، صدر شعبہ تاریخ پروفیسر ناظم حسین جعفری، صدر شعبہ سنسکرت پروفیسر جے پرکاش، صدر شعبہ ہندی پروفیسر نیرج کمار،پروفیسر ہمایوں اختر نجمی صدر ویسٹ ایشین اسٹڈیز، ڈائرکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر افضل مرتضی، پروفیسر ذیشان حسین،پروفیسر انیس الرحمن، پروفیسر افضل مرتضیٰ، پروفیسر نشاط منظر، پروفیسر ذیشان حسین کمپیوٹر سائنس، سابق ڈین فیکلٹی فائن آرٹس پروفیسر غضنفر زیدی، سابق صدر شعبہ فارسی پروفیسر قمر غفار، پروفیسر اظہر ہاشمی، ڈاکٹر سلیم جاوید ملک ڈی یو۔ کے علاوہ بڑی تعداد میں اساتذہ و طلباءنے شرکت فرمائی۔

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مذاکرہ اور انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی د ہلی :شعبہ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شعبہ کے سیمینار روم میں ایک مذاکرہ اور انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا۔ اجلاس میں مالدیو جمہوریہ سے علا دیدی رسرچ انالسٹ، منسٹری آف آرٹس اینڈ ہیریٹیج، انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز، وزارت برائے امور خارجہ،حکومت ہندکے اکیڈمک ویزیٹر نے شرکت کی۔
کیمپس پہنچنے پر، عبداللہ عاصم، ان کی سوشل میڈیا ٹیم اور آئی سی سی آر کے رابطہ اہل کار جناب دیپک کے ساتھ علا دیدی نے شعبہ کی سربراہ پروفیسر پریتی شرما اور فیکلٹی اراکین سے ملاقات کی۔ ڈین، فیکلٹی آف ہیومینیٹیز اینڈ لینگویجز پروفیسر اقتدار محمد۔ خان اور ڈین، بین الاقوامی تعلقات، جے ایم آئی، پروفیسر اشویندر کور پوپلی نے بھی بات چیت میں شرکت کی۔ مہمان کو جامعہ کی شاندار تاریخ اور اس کی موجودہ توسیع اور ترقی کے بارے میں بتایا گیا۔ جناب دیدی نے جامعہ اور مالدیپ کے روابط اور ماضی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ آنے والے مالدیپ کے طلبہ کے بارے میں دلچسپ حقائق اور معلومات بھی ساجھا کیے۔ وہ جامعہ ملیہ کے اس وقت کے شیخ الجامعہ اور ہندوستان کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کی طرف سے مالدیپ کے اسکالر کو لکھے گئے خط کی نقل بھی لائے تھے۔
ڈینز اور صدور شعبہ جات کے ساتھ ابتدائی ملاقات کے بعد دیدی نے طلبہ سے خطاب کیا اور ’ہند۔مالدیو تاریخی و تہذیبی وثقافتی روابط اور موجودہ اور مستقبل میں باہمی تعلقات کو بہتربنانے کے لیے ان روابط سے استفادہ کرنے‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔پروگرام میں فیکلٹی اراکین، ریسر چ اسکالر اور طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
جامعہ کی ثقافتی روایت کی عکاسی کرتے ہوئے پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، شعبہ اردو کی تلاوت کلام پاک اور جامعہ ترانی کی نغمہ سرائی سے ہوا۔ شعبہ کی سربراہ پروفیسر پریتی شرما نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آر کی طرف سے کئے گئے اس طرح کے اقدامات مشترکہ تعلیمی اہداف کو فروغ دینے اور باہمی تحقیق کے مواقع تلاش کرنے کے لیے سازگار ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کے لیے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے فراہم کردہ فراخدلانہ تعاون اور حوصلہ افزائی کا بھی اعتراف کیا۔ اس کے بعد پروفیسر اقتدار محمد کی طرف سے دعائیہ کلمات کہے گئے۔ ڈین، فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز، پروفیسر خان نے اس طرح کی تعلیمی سرگرمیوں کی معنویت پر زور دیا۔
ڈین، آئی آر، پروفیسر اشویندر پوپلی نے بین الاقوامی دفتر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف سے شروع کی گئی مختلف سرگرمیوں اور پروگراموں کے متعلق معلومات ساجھا کیں، جو اس کی عالمی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ڈین،۔ایف ایچ ایل،ڈین۔آئی آر اور صدر شعبہ تاریخ نے مہمان مقرر کا باقاعدہ استقبال کیا۔ ڈاکٹر روہما جاوید رشید نے مہمان مقررکا باقاعدہ تعارف پیش کیا۔
دیدی نے لیکچر کے بعد پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ملاقات کی۔ ان کے ساتھ پروفیسر پریتی شرما اور پروفیسر اشویندر پوپلی بھی تھے۔ انہوں نے ہندوستان مالدیپ اور مغربی ایشیا سے متعلق مختلف علمی، تاریخی تعلقات، ثقافتی وابستگی اور عصری مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ شیخ الجامعہ نے مہمان کو مخطوطات سے مزین جامعہ سنٹرل لائبریری کے ذخیرے کے بارے میں معلومات ساجھا کیں۔ پروفیسر آصف نے مہمانوں کو لائبریری وسائل کے کیٹلاگ بھی تحفے میں دیے۔مجموعی طور پر علمی اعتبار سے یہ ایک بھرپور اور ثمر آور تجربہ ثابت ہوا۔

Continue Reading

دلی این سی آر

امید ہے کہ میں اچھا فیصلہ سناؤں گی ،کجریوال معاملے میں جسٹس شرماکا تبصرہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جس میں جسٹس سوارن کانتا شرما کو سی بی آئی کی درخواست کی سماعت سے ہٹانے کی مانگ کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران اروند کیجریوال نے اپنے دلائل پیش کئے۔ کیجریوال نے اپنی دلیلیں ختم کرنے کے بعد جسٹس شرما نے ان کی تعریف کی اور کہا کہ وہ وکیل بھی بن سکتے ہیں۔ اس پر کیجریوال نے جواب دیا کہ انہوں نے اپنا راستہ چنا ہے اور اس سے خوش ہیں۔اس معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے جسٹس سوارن کانتا نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب انہیں کسی مقدمے سے الگ ہونے کو کہا گیا ہے۔
جسٹس شرما نے کہا، “میں نے دستبرداری کے قانونی اصولوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ میری زندگی میں پہلی بار کسی نے مجھے عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں اچھا فیصلہ سناؤں گی۔”اروند کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سوارن کانتا شرما کو بتایا کہ شراب پالیسی کے معاملات میں ان کے پہلے کے فیصلوں نے عملی طور پر انہیں مجرم اور بدعنوان قرار دیا تھا، اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ ان کی بریت کے خلاف سی بی آئی کی درخواست پر سماعت جاری رکھیں گی تو انہیں انصاف نہیں ملے گا۔اروند کیجریوال نے استدلال کیا کہ جسٹس شرما کی دستبرداری سے متعلق قانونی سوال جج کی دیانتداری یا غیر جانبداری کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ اس کے بارے میں تھا کہ مدعی کے تعصب کے اندیشے ہیں۔
کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ سی بی آئی کی درخواست اور بی جے پی کے سیاسی حریف سے جڑے ایک اور کیس کے علاوہ جسٹس شرما کے سامنے کسی اور کیس کی اسی رفتار سے سماعت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ عدالت تحقیقاتی ایجنسیوں کے دلائل کی حمایت کرنے کا رجحان دکھا رہی ہے۔27 فروری کو، نچلی عدالت نے کیجریوال، سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، اور 21 دیگر کو بری کر دیا، سی بی آئی کی سرزنش کرتے ہوئے، یہ کہتے ہوئے کہ اس کا مقدمہ عدالتی جانچ میں پوری طرح ناکام رہا ہے اور یہ مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔9 مارچ کو، جسٹس شرما نے تمام 23 ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سی بی آئی کی طرف سے دائر درخواست پر ان کی بریت کو چیلنج کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ الزامات طے کرنے کے مرحلے پر نچلی عدالت کے کچھ مشاہدات اور نتائج بنیادی طور پر غلط لگے اور اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

ناری شکتی وندن بل،خواتین کی سیاسی شراکت کو بڑھانے کا تاریخی قدم :ریکھا گپتا

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ “خواتین کی طاقت” ہندوستان کی مسلسل ترقی، ہمہ جہتی ترقی، اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پہچان میں مضمر ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کی ہندوستانی خواتین نے اپنے لیے ایک منفرد اور طاقتور شناخت بنائی ہے، جو ملک کے فخر کو نئی بلندیوں پر لے جا رہی ہے۔
دہلی کے وگیان بھون میں ناری شکتی وندن کانفرنس میں اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب بیٹیوں کا وجود ہی خطرے میں تھا۔ معاشرتی برائیوں اور امتیازی سلوک کی وجہ سے بیٹیاں پسماندہ تھیں۔ لیکن آج زمین کی تزئین مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، وزیر اعظم کی قیادت میں، ملک اب ‘بیٹی بچاؤ-بیٹی پڑھاؤ تک محدود نہیں رہا، بلکہ ہم بیٹی پڑھاؤ کے ایک نئے اور سنہری دور میں داخل ہو گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے مرکزی حکومت کی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کا وقار، تحفظ اور خود انحصاری وزیر اعظم مودی کی ہر پالیسی اور اسکیم کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچھ بھارت ابھیان، جس کے تحت لاکھوں بیت الخلاء بنائے گئے ہیں، نے خواتین کو کھلے میں رفع حاجت کی مجبوری سے آزاد کرکے ان کے وقار کی حفاظت کی ہے۔ اجولا یوجنا نے لاکھوں خواتین کو دھوئیں سے بھرے کچن سے آزاد کرکے ان کی صحت کو بہتر بنایا ہے۔ جن دھن کھاتوں کے ذریعے خواتین کو براہ راست بینکنگ سسٹم سے جوڑ کر، انہیں حقیقی معاشی آزادی فراہم کی گئی ہے۔ ریکھا گپتا نے ان تمام اقدامات کو خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب سنگ میل قرار دیا۔
اپنی تقریر کے آخر میں وزیر اعلیٰ نے ناری شکتی وندن ایکٹ کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے خواتین کی زیر قیادت ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ ایکٹ ملک کی تقریباً 700 ملین خواتین کے لیے سیاست اور عوامی زندگی میں بااختیار قیادت کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے خواتین سے مطالبہ کیا کہ وہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنی فعال شرکت کو یقینی بنائیں، کیونکہ خواتین کی طاقت کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ناری شکتی وندن ایکٹ، جسے باضابطہ طور پر 128 ویں آئینی ترمیمی بل (اور اب 106 ویں آئینی ترمیمی ایکٹ) کے نام سے جانا جاتا ہے، ہندوستان میں خواتین کی سیاسی شرکت کو بڑھانے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ قانون ہندوستانی پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33فیصد نشستیں ریزرویشن فراہم کرتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network