Connect with us

بہار

سارن میں ‘مہیلا سمواد پروگرام’ میں اب تک 3.83 لاکھ خواتین نے لیا حصہ

Published

on

(پی این این)
سارن :ضلع میں خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں جاری ‘مہیلا سمواد پروگرام’ نے اپنے 40ویں دن میں داخل ہوتے ہوئے ایک نئی کامیابی درج کی۔اب تک ضلع کے 20 بلاکس کی تقریباً 3.83 لاکھ خواتین نے اس مہم میں حصہ لیا ہے۔جب کہ اب تک 39,647 خواتین کی خواہشات جمع کی جاچکی ہیں۔پروگرام کے تحت ہر مقام پر آگاہی گاڑیوں کے ذریعے ویڈیو فلمیں دکھائی جا رہی ہیں۔جن میں بہار حکومت کی خواتین دوست اسکیموں کے بارے میں معلومات دی جاتی ہیں۔اس کے ساتھ آسان زبان میں تیار کردہ کتابچہ بھی تقسیم کیے جارہے ہیں۔تاکہ اسکیموں کی معلومات ہر خاتون تک پہنچ سکیں۔
ڈی ایم امن سمیر گرکھا بلاک کے سرگٹی پنچایت میں واقع کاجل گرام سنگٹھن میں منعقدہ سمواد سیشن میں پہنچے اور خواتین سے بات چیت کی۔انہوں نے خواتین کے مسائل،خواہشات اور تجاویز کو سنجیدگی سے سنا اور انہیں قیادت اور سرکاری اسکیموں میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔مکالمے کے دوران خواتین نے دیہی علاقوں میں چھوٹی اور کاٹیج انڈسٹریز،مستقل منڈی،فنی تربیتی مرکز،روایتی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی سہولت جیسی اہم تجاویز دیں۔ساتھ ہی طالبات نے اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم کی قرض کی حد کو 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے کا مطالبہ کیا۔تاکہ اعلیٰ تعلیم کا راستہ آسان بنایا جاسکے۔دیگر بلاکس میں منعقدہ سیشنوں میں خواتین نے نمایاں طور پر زمینی مسائل کو اٹھایا۔جیسے سڑکوں کی مرمت،نالوں کی صفائی،کمیونٹی بیت الخلاء،بیوہ پنشن میں اضافہ،راشن شاپس کا قیام،معذور الاؤنس اور گریجویٹ سطح کے کالج کی ضرورت۔
قابل ذکر ہے کہ یہ مکالمہ صرف جیویکا گروپوں تک محدود نہیں ہے بلکہ عام خواتین بھی بڑی تعداد میں اس میں حصہ لے رہی ہیں۔ڈی ایم سمیر کی سرگرمی اور حساسیت کی وجہ سے یہ پروگرام سارن میں خواتین کے لیے ایک متاثر کن اقدام بن گیا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جب انتظامیہ شراکت دار اور معاون کردار ادا کرتی ہے تو سماجی تبدیلی کا عمل تیز اور موثر ہو جاتا ہے۔اس پروگرام میں ڈی پی ایم جیویکا ارون کمار،منیجر مائیکرو فائنانس منوج کمار،بی پی ایم ویمل کمار،کمیونٹی کوآرڈینیٹر جے پرکاش گپتا،شیو پرکاش کے ساتھ سینکڑوں جیویکا اور غیر جیویکا خواتین شریک تھیں۔

بہار

نتیش کمار نے بہارقانون ساز کونسل کی رکنیت سے دیااستعفیٰ

Published

on

(پی این این )
پٹنہ :بلآخر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہونے کے بعد قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر وجے کمار چودھری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار پہلے ہی راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، اس لیے استعفیٰ ضروری تھا۔ نتیش کمار کی جانب سے جے ڈی یو ایم ایل سی سنجے گاندھی نے بہار قانون ساز کونسل کے چیئر مین کو استعفیٰ سونپ دیا ہے۔
واضح ہوکہ نتیش کمار 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے، وہ رواں ماہ 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہو گئے تھے۔ جے ڈی یو کے سربراہ ان لیڈران میں شامل ہیں جو چاروں ایوانوں کے رکن بنے ہیں۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا انتخاب لڑنے کے دوران کہا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر منتخب ہوں، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
واضح رہے کہ نتیش کمار 1985 میں ہرنوت اسمبلی سیٹ سے جیت حاصل کر اسمبلی پہنچے تھے۔ اس کے بعد 1989 میں وہ نویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 2006 سے مسلسل قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔ اب پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ اپنی نئی پاری کی شروعات کرنے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ 10 اپریل کو وہ راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کریں گے۔

Continue Reading

بہار

جیویش کمار نے ہائی اسکول کی عمارت کا کیا افتتاح

Published

on

(پی این این )
جالے: جالے اسمبلی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کو مزید تقویت دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی و سابق ریاستی وزیر جیویش کمار نے 2 اہم عوامی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقامی نمائندے، معززینِ علاقہ اور بڑی تعداد میں عوام موجود رہے۔
راڑھی جنوبی پنچایت (بہاری) میں نوتعمیر شدہ ہائی اسکول عمارت کا افتتاح عمل میں آیا، جس کی تعمیر تقریباً 213.27 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی ہے۔ اس عمارت کے قیام سے علاقے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔
اسی طرح برہمپور مشرقی پنچایت (کٹائی) میں پنچایت سرکار بھون کا افتتاح کیا گیا، جس پر تقریباً 305.31 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس عمارت کے ذریعے مقامی انتظامی نظام کو مضبوطی ملے گی اور عوام کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی جگہ فراہم کی جا سکیں گی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی جیویش کمار نے کہا کہ حلقہ میں تعلیم، دیہی ترقی اور بہتر حکمرانی کو فروغ دینا ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سمت میں کام جاری رہے گا۔تقریب میں شریک افراد نے ان منصوبوں کو علاقہ کی ترقی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

Continue Reading

بہار

بہارمدرسہ بورڈ کا بڑااعلان: تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل لازمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مدرسہ تعلیم کے نظام کو لے کر ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام امدادی مدارس میں مڈ ڈے میل (درمیانی کھانا) اسکیم کو لازمی طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔
مدرسہ بورڈ کے سکریٹری عبدالسلام انصاری نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر، مڈ ڈے میل اسکیم، بہار کو خط ارسال کرتے ہوئے فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ کئی امدادی مدارس اب تک اس اسکیم سے محروم ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ جاری خط میں کہا گیا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم تمام تعلیمی اداروں کے لیے لازمی ہے، ایسے میں کسی بھی مدرسے کا اس سے باہر رہنا قابل قبول نہیں ہوگا۔
ہدایت دی گئی ہے کہ تمام محروم مدارس کو فوراً اس اسکیم سے جوڑا جائے تاکہ وہاں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جا سکے۔ سکریٹری انصاری نے واضح طور پر کہا کہ اس اسکیم کا مقصد صرف کھانا فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں کی صحت بہتر بنانا اور اسکولوں میں ان کی حاضری بڑھانا بھی ہے۔ اس لیے کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بورڈ کی جانب سے 1942 امدادی مدارس کی فہرست فراہم کر دی گئی ہے اور سبھی کو اسکیم کے دائرے میں لانے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
سیتامڑھی کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ضلع میں کئی مدارس میں پہلے سے مڈ ڈے میل چل رہا ہے، لیکن بڑی تعداد اب بھی اس سے محروم ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے سخت ہدایت دی گئی ہے کہ اپریل سے ہر حال میں ضلع کے تمام مدارس میں یہ اسکیم نافذ کر دی جائے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ انتظامیہ اس حکم کو زمینی سطح پر کتنی تیزی اور سنجیدگی سے نافذ کرتی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network