Connect with us

اتر پردیش

یوگا صرف جسمانی ورزش نہیں بلکہ یہ زندگی کی ہمہ گیر ترقی کا وسیلہ :ڈاکٹر نلنی مشرا

Published

on

(پی این این)
لکھنو :آج خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں دسویں بین الاقوامی یوگا ڈے کا لینگویج یونیورسٹی کےشعبہ فزیکل ایجوکیشن میں وائس چانسلرپروفیسر اجے تنیجا کی زیر نگرانی اہتمام کیا گیا۔
اس پروگرام کا اہتمام فزیکل ایجوکیشن،این ایس ایس اور سپورٹ کلب کے اشتراک سے گورنر اترپردیش اور چانسلرآنندی بین پٹیل کے ہدایت پر کیا گیا ہے۔ا اس خصوصی موقعے پر این ایس ایس کوارڈینیٹر ڈاکٹر نلنی مشرانے کہا کہ یوگا صرف جسمانی ورزش نہیں بلکہ یہ زندگی کی ہمہ گیر ترقی کا وسیلہ ہے۔
ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یوگا کی تہذیبی و ثقافتی اہمیت اور جسمانی و ذہنی افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوگا نہ صرف ہندوستان ایسا قیمتی تہذیبی اور ثقافتی ورثہ ہے جس نے پوری دنیا میں صحت اور تندرستی کے نئے منظروں کو منور کررہا ہے بلکہ اس کے ذریعے اس صارفی عہد اور بھاگتی ہوئی زندگی میں جسمانی ،ذہنی اور روحانی سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوگا ایک جسمانی کثرت اور سرگرمی کے ساتھ ساتھ ایک قدیم جسمانی،ذہنی اور روحانی عمل ہے جس سے زندگی میں مثبت عناصر کا ظہور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے بہت سے امراض سے بچا جاسکتا ہے۔
روزانہ یوگا کرنے سے کسی بھی طرح کے دباو سے بچا جاسکتا ہےگویا متوازن زندگی گزارنے کے لئے یوگا بہت ضروری ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوگا ایک جسمانی،ذہنی اور روحانی مشق ہے اور صحتمند زندگی اور معاشرے کی تعمیر کے لئے اس کو جاری رکھنا ضروری ہے۔شعبہ فزیکل ایجوکیشن کے انچارج ڈاکٹر محمد شارق نے طلبہ سے کہا کہ یوگا صرف آپ کے جسم کو توانائی ہی نہیں بخشتا ہے بلکہ یوگ کرنے والے کے ذہن کو بھی طاقت اور قوت عطا کرتا ہےاور اس سے بہت سی جسمانی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوگا ایک دن کا عمل نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کو صحت مند بنانے کا ایک مسلسل عمل ہے لہذا ہم سبھی لوگوں کو یوگا کو اپنی زندگی کا اٹوٹ حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔اس پروگرام میںفزیکل ایجوکیشن کے شعبے کے طلبہ اور این ایس ایس کے رضا کاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور یوگا کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا حلف بھی لیا۔آخر میں ڈاکٹر حسن مہدی نے سبھی شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

اتر پردیش

جے این میڈیکل کالج، اے ایم یو کو این ایچ ایم کینسر کیئر اسکیم کے تحت مینٹر ادارہ نامزد

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ریڈیئیشن آنکولوجی کو نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے ڈے کیئر کینسر سینٹر اسکیم کے تحت مینٹر ادارہ نامزد کیا گیا ہے۔اس اقدام کے تحت جے این ایم سی اپنے تفویض کردہ کلسٹر میں شامل ضلعی سطح کے پانچ تا چھ اسپتالوں کی رہنمائی کرے گا، تاکہ ضلعی سطح پر آنکولوجی خدمات کو فروغ دیا جا سکے۔ اس اسکیم کا مقصد کیموتھراپی اور پپیلیئیٹو کیئر سمیت ضروری کینسر علاج کی سہولیات مریضوں کے گھروں کے قریب فراہم کرنی ہیں، جس سے بڑے طبی مراکز پر بوجھ کم ہوگا اور بروقت علاج ممکن ہو سکے گا۔
اپنی ذمہ داریوں کے تحت شعبہ ریڈیئیشن آنکولوجی، کیموتھراپی پروٹوکول، علاج کی منصوبہ بندی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرے گا، نیز متعلقہ ضلع اسپتالوں کے میڈیکل آفیسرز اور نرسنگ عملے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام بھی منعقد کرے گا۔ اسی سلسلے میں 16 تا 18 مارچ 2026 تین روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں کاس گنج، سنبھل، امروہہ، ایٹہ، مرادآباد، بدایوں اور رام پور اضلاع کے طبی عملے نے شرکت کی۔ پروگرام کی قیادت شعبے کے چیئرمین پروفیسر محمد اکرم نے کی، جبکہ ڈاکٹر محسن خان نے نوڈل آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
معیاری آنکولوجی ماڈیولز پر مبنی اس تربیت میں نظریاتی لیکچرز کے ساتھ عملی مشقیں بھی شامل تھیں۔ شرکاء کو کیموتھراپی ادویات کی محفوظ تیاری اور استعمال، اِنڈور اور آؤٹ ڈور مریضوں کی دیکھ بھال، اور مریضوں و تیمارداروں کے ساتھ مؤثر ترسیل و ابلاغ کے حوالے سے تربیت دی گئی۔ اس میں کیموتھراپی کی منصوبہ بندی، آنکولوجیکل ایمرجنسیز کا انتظام، کیموتھراپی سے ہونے والی متلی و قے، ادویات کی درجہ بندی اور ان کے مضر اثرات، کینسر کے درد کا علاج، مریضوں کی غذائیت، اور وینس ایکسیز تکنیک،بشمول طویل مدتی آلات پر مبنی سیشن شامل تھے۔ اس دوران مریض پر مرکوز نگہداشت اور مختلف شعبوں کے باہمی اشتراک پر بھی زور دیا گیا تاکہ ضلعی مراکز پر کینسر خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر محسن خان نے کہا کہ یہ اسکیم کینسر کے علاج کی سہولت نچلی سطح تک فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، مینٹر ادارے ضلعی سطح پر محفوظ اور معیاری علاج کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل علمی و تکنیکی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ پروفیسر محمد اکرم نے جے این ایم سی کے لئے اس ذمہ داری کو باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تربیت طبی عملے کو محفوظ کیموتھراپی اور مریضوں کی معقول نگہداشت کے لیے ضروری معلومات اور عملی مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے ترتیب دی گئی تھی۔
پروگرام کا اختتام جے این ایم سی کے پرنسپل پروفیسر انجم پرویز کے ایک انٹرایکٹیو سیشن پر ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات خاص طور پر دور دراز علاقوں کے مریضوں کے لیے صحت خدمات کی رسائی کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ اقدام جے این ایم سی، اے ایم یو کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ آنکولوجی خدمات کو مستحکم کرنے، افرادی قوت تیار کرنے اور پورے اترپردیش میں معیاری کینسر علاج کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

Continue Reading

اتر پردیش

مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود نہیں کر سکتی انتظامیہ : الہ آباد ہائی کورٹ

Published

on

(پی این این)
پریاگ راج :الہ آباد ہائی کورٹ نے مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے پر سنبھل کے ڈی ایم اور ایس پی کو پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ انتظامیہ مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود نہیں کر سکتی۔ اگر ڈی ایم راجندر پنسیا اور ایس پی کے کے وشنوئی کو لگتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہیں، تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے یا ٹرانسفر کا سامنا کرنا چاہیے۔ امن و امان کو ہر حال میں برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس اتل شریدھرن اور سدھارتھ نندن کی ایک ڈویژن بنچ نے کہا کہ یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر کمیونٹی مخصوص عبادت گاہوں پر پرامن طریقے سے عبادت کر سکے۔ اگر جگہ نجی ملکیت ہے تو ریاست سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ ریاستی مداخلت صرف اس وقت ضروری ہے جہاں سرکاری زمین پر نماز یا مذہبی سرگرمیاں منعقد کی جائیں۔
درخواست گزار منظیر خان کے مطابق حیات نگر تھانے کے پولیس افسران گزشتہ سال فروری میں آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد میں صرف 20 لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ایک وقت میں صرف 5 سے 6 لوگ نماز پڑھیں۔ اس کے بعد 18 جنوری 2026 کو ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس کی پہلی سماعت 27 فروری کو ہوئی، یہ حکم آج (ہفتہ) ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا گیا۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 16 مارچ کو ہوگی۔
ہائی کورٹ میں درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ “رمضان کے دوران مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے، رمضان چل رہا ہے، اس لیے احاطے کے اندر بڑی تعداد میں لوگ نماز ادا کرنے آ سکتے ہیں”۔ دریں اثنا، حکومتی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کے خدشے کے پیش نظر نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکومتی وکیل کے دلائل کو مسترد کر دیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ آپ نے ابھی تک مسجد یا جائے نماز کی کوئی تصویر جمع نہیں کرائی۔ درخواست گزار نے وقت کی استدعا کی۔ اس کے بعد عدالت نے انہیں جائے نماز کی تصاویر اور ریونیو ریکارڈ پیش کرنے کی اجازت دے دی۔ اب، وہ اسے 16 مارچ سے پہلے جمع کرائیں گے۔
حیات نگر گاؤں میں 2700 سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ یہاں 450 مربع فٹ کی مسجد ہے جس کا نام غوثیہ ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ زمین پلاٹ نمبر 291 ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ یہ زمین سکھی سنگھ کے بیٹوں موہن سنگھ اور بھوراج سنگھ کے نام ہے۔

Continue Reading

اتر پردیش

ریزیڈینشیئل کوچنگ اکیڈمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 4طلبا یو پی ایس سی سول سروسز امتحان میں کامیاب

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریزیڈینشیئل کوچنگ اکیڈمی (آر سی اے) کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے کہ اس کے 4 طلبانے یونین پبلک سروس کمیشن سول سروسز امتحان 2025میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آر سی اے کی طالبہ نازیہ پروین (آل انڈیا رینک 478)، گل فضا (آل انڈیا رینک 535)، یسّار احمد بھٹی (آل انڈیا رینک 811) اور محمد شاہد رضا خان (آل انڈیا رینک955) کے ساتھ اے ایم یو کے سابق طالب علم اور آر سی اے کے مینٹر عظیم احمد (آل انڈیا رینک 588) نے اس باوقار امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی محنت، عزم اور ثابت قدمی کی ستائش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ امیدوار دیانت داری کے ساتھ قوم کی خدمت کریں گے اور آئندہ امیدواروں کے لیے باعث تحریک بنیں گے۔آر سی اے کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد حسن نے بھی کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور سول سروسز کے امیدواروں کی رہنمائی اور تربیت کے لیے اکیڈمی کے عزم کو اجاگر کیا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فیروز احمد، ڈاکٹر رباب خان اور ڈاکٹر علی عمران نے طلبہ کی کامیابی کو سراہتے ہوئے اساتذہ اور عملے کی اجتماعی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اساتذہ میں ڈاکٹر حبا اصلاحی اور مسٹر بابو علی نے بھی کامیاب امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network