دلی این سی آر
دہلی کے 80,000 کروڑ روپے کی بقایا رقم کو حل کرنے کیلئے CM ریکھا گپتا کا مشورہ
(پی این این)
نئی دہلی : دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے آج انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاو ¿نٹنٹس آف انڈیا (ICAI) کے زیر اہتمام تیسرے اکاو ¿نٹنگ اسٹینڈرڈ ڈے سے خطاب کیا۔ انہوں نے جی ایس ٹی نظام کو فیسلیس اور شفاف بنانے پر زور دیا ہے۔سی ایم ریکھا نے کہا کہ بغیر فیسلیس کے جی ایس ٹی (GST) نظام کی ضرورت ہے اور جی ایس ٹی کے واجبات کو حل کیا جانا چاہئے۔دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ہفتہ کو جی ایس ٹی نظام کو بے چہرہ اور شفاف بنانے پر زور دیا۔
اس کے علاوہ ان تنازعات اور دیگر وجوہات کی وجہ سے دہلی حکومت کے 80,000 کروڑ روپے کے جی ایس ٹی واجبات التواءہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاو ¿نٹنٹس آف انڈیا (آئی سی اے آئی) کے زیر اہتمام تیسرے اکاو ¿نٹنگ اسٹینڈرڈ ڈے سے خطاب کرتے ہوئے، گپتا نے کہا کہ انہوں نے جی ایس ٹی افسران کو ہدایت دی ہے کہ اگر وہ پہلے ہی عدالت میں پیش ہو رہے ہیں تو کاروباری افراد کو اپنے دفاتر میں نہ بلائیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نظام کو بے چہرہ بنائیں۔
ٹیکس وصولی بغیر کسی پریشانی کے ہونی چاہیے۔ انہوں نے چارٹرڈ اکاو ¿نٹنٹ (CA) کمیونٹی کی ٹیکس تنازعات کو حل کرنے اور معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے اس کے اہم کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے زیر التواء جی ایس ٹی واجبات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان تمام مسائل کو حل کرنے میں صرف سی اے برادری ہی مدد کر سکتی ہے۔چیف منسٹر کے طور پر اپنے پہلے بجٹ کو یاد کرتے ہوئے گپتا نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب سرکاری خزانہ تقریباً خالی ہونے کے باوجود ایک لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ پوچھتے تھے کہ اتنا بڑا بجٹ پیش کرنے والا یہ وزیراعلیٰ کون ہے؟ مجھے اس کمیونٹی پر یقین تھا کہ وہ حکومت کو اپنے اہداف حاصل کرنے میں مدد کریں گے۔دوسری جانب آیوشمان بھارت اسکیم دہلی میں بھی شروع ہوئی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ دہلی میں 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 28 ہزار بزرگوں نے اس اسکیم کے تحت اپنا اندراج کرایا ہے۔
اس اسکیم کے تحت بزرگ شہریوں کو 10 لاکھ روپے تک کا کور دیا جائے گا۔ اس دوران سی ایم ریکھا گپتا نے آیوشمان ہیلتھ کارڈ بھی تقسیم کئے۔دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا آر کے پورم اسمبلی حلقہ میں ہیلتھ انشورنس اسکیم کے تحت رجسٹریشن کے لیے ایک موبائل وین کو جھنڈی دکھا رہی تھیں۔ اس دوران انہوں نے معلومات دیتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم کے تحت مرکزی حکومت 5 لاکھ روپے کا کور فراہم کرے گی اور دہلی حکومت اس میں 5 لاکھ روپے کی اضافی رقم بھی شامل کرے گی۔آر کے پورم اسمبلی حلقہ میں گاڑی کو جھنڈی دکھاتے ہوئے سی ایم ریکھا گپتا نے کہا کہ 28 اپریل کو شروع کی گئی اس اسکیم میں گزشتہ پانچ دنوں میں 28 ہزار سے زیادہ لوگوں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔ جانکاری دیتے ہوئے سی ایم نے کہا کہ یہ موبائل وین دہلی کے 70 اسمبلی حلقوں میں جائیں گی اور رجسٹریشن کی جائے گی۔ سی ایم ریکھا گپتا نے کہا کہ رجسٹریشن کے لیے ان موبائل وین میں جانا پڑے گا۔ اس دوران آپ کو اپنے موبائل اور آدھار کارڈ کے ساتھ یہاں جانا ہوگا۔ اس کے علاوہ آپ کو کچھ اور لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
رجسٹریشن ہو جائے گی۔ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی کی اس اسکیم کے تحت دہلی کے ہر اہل بزرگ کا اندراج کیا جائے گا، کیونکہ ان کے آشیرواد ہمارے لیے انمول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویا وندنا نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں ایک منفرد اسکیم ہے۔ اس دوران سی ایم ریکھا گپتا نے اپنے ساتھی کابینی وزیر منجندر سنگھ سرسا اور مقامی ایم ایل اے انیل شرما کے ساتھ شہر کے مخصوص اسپتالوں میں کیش لیس علاج کے لیے بوڑھوں کو آیوشمان ہیلتھ کارڈز تقسیم کیے۔
دلی این سی آر
عام آدمی پارٹی نے بی جے پی میں شامل ہونے والےارکان کی رکنیت ختم کرنے کیلئے راجیہ سبھا چیئرمین کو بھیجا مکتوب
(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے پنجاب کے عوام کے ساتھ غداری کرکے بی جے پی میں شامل ہونے والے راگھو چڈھا سمیت تمام اراکینِ پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کرنے کے لیے راجیہ سبھا کے چیئرمین اور نائب صدرِ جمہوریہ کو اپنی عرضی بھیج دی ہے۔ اتوار کو یہ معلومات شیئر کرتے ہوئے سینئر لیڈر اور رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ آئینی ماہرین بھی یہ مان رہے ہیں کہ عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے تمام اراکین کی رکنیت ختم ہونا طے ہے۔ ان ساتوں اراکین نے نہ صرف آپ سے غداری کی ہے بلکہ پنجاب کے عوام، جمہوریت اور آئین کے ساتھ بھی دھوکہ کیا ہے۔ بی جے پی توڑ پھوڑ کی سیاست میں ماہر ہے۔ وہ پہلے ای ڈی اور سی بی آئی کے ذریعے اپوزیشن لیڈروں کو ڈراتی ہے اور پھر انہیں اپنی پارٹی میں شامل کر لیتی ہے۔اتوار کو آپ ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ آئین کے ماہرین، ملک کے سینئر وکیل اور آئینی ماہرین جیسے کپل سبل، پی ڈی ٹی آچاریہ سمیت کئی لوگوں نے واضح کر دیا ہے کہ جن سات افراد نے عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ان سب کی رکنیت یقینی طور پر ختم ہوگی۔
این ڈی اے سے وابستہ سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے بھی صاف کہا کہ ان لیڈروں کی رکنیت ہر حال میں جائے گی۔ سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ تمام ماہرین سے بات چیت اور کپل سبل کی رائے لینے کے بعد انہوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین اور ملک کے نائب صدر کو ایک عرضی بھیجی ہے۔ اس عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ آئین کی دسویں شیڈول کے اصولوں کے مطابق ان ساتوں اراکین کی رکنیت مکمل طور پر ختم کی جائے۔ انہوں نے نائب صدر (چیئرمین) سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی جلد از جلد سماعت کی جائے اور منصفانہ فیصلہ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی اس لیے ضروری ہے کیونکہ جب کوئی لیڈر کسی ایک پارٹی سے منتخب ہو کر آتا ہے تو اس کے بعد ای ڈی، سی بی آئی اور دیگر تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرکے اسے توڑا جاتا ہے اور بی جے پی اسے اپنی پارٹی میں شامل کر لیتی ہے، جو سراسر غلط ہے۔ یہ جمہوریت کے ساتھ بڑا دھوکہ ہے۔ یہ پنجاب کے عوام کے ساتھ بھی غداری ہے اور ملک کے آئین کا بھی مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
سنجے سنگھ نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی پارٹی سے منتخب ہوا ہے اور اسے اختلاف ہے تو اسے پارٹی سے استعفیٰ دینا چاہیے اور اپنی نظریاتی ہم آہنگی کے مطابق کسی دوسری جماعت میں جانا چاہیے۔ لیکن جو لوگ اسی پارٹی کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ایوان میں پہنچے ہیں، وہ آج اسی پارٹی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ اس لیے انہیں یقین ہے کہ چیئرمین جلد فیصلہ کرتے ہوئے ان کی رکنیت ختم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے کئی فیصلے بھی موجود ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ ایسے معاملات میں رکنیت کیسے ختم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آئین کی دسویں شیڈول میں بھی صاف طور پر درج ہے کہ اس طرح کی سیاسی توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں ہے۔ عدالت میں معاملہ طویل ہونے کے خدشے پر سنجے سنگھ نے کہا کہ کئی مثالیں موجود ہیں جہاں عدالت نے اس طرح کے معاملات میں فیصلے دیے ہیں۔ اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش کے معاملات کو یاد کیا جا سکتا ہے، جہاں سیاسی توڑ پھوڑ کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا۔ اگرچہ تاخیر سے مایوسی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کی قانونی لڑائی لڑیں گے۔ آئین سب سے بالاتر ہے اور سب پر لاگو ہوتا ہے۔
پنجاب کے اراکینِ اسمبلی کے راگھو چڈھا کے رابطے میں ہونے اور بی جے پی میں شامل ہونے کی افواہوں پر سنجے سنگھ نے کہا کہ اس طرح کی جھوٹی خبریں بی جے پی، راگھو چڈھا اور دیگر افراد کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہیں۔پورے پنجاب میں ان کے خلاف شدید احتجاج ہو رہا ہے اور عوام سڑکوں پر نکل کر نعرے بازی کر رہے ہیں۔ پارٹی اور پنجاب کے ساتھ غداری کی وجہ سے عوام میں شدید ناراضگی ہے۔ جب ان کی اپنی رکنیت ختم ہونے والی ہے تو کون سا رکنِ اسمبلی ان کے ساتھ جائے گا؟ یہ صرف گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔
صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے وقت مانگنے کے سوال پر سنجے سنگھ نے کہا کہ رائٹ ٹو ریکال کا ایک معاملہ ہے، جس پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کرکے اپنا موقف پیش کریں گے، جس کے لیے انہوں نے وقت مانگا ہے۔ جن اراکینِ اسمبلی نے ان اراکینِ پارلیمنٹ کو منتخب کیا تھا، آج وہ خود کو دھوکہ خوردہ محسوس کر رہے ہیں اور انہیں واپس بلانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ کام نہیں کر پا رہے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے اسی سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کا وقت مانگا ہے اور جیسے ہی وقت ملے گا، وہ اپنی بات رکھیں گے۔
دلی این سی آر
دہلی۔این سی آر میں گرمی کا قہر ،درجہ حرارت 44ڈگری پار
(پی این این )
نئی دہلی: ملک بھر میں اس وقت شدید گرمی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ دہلی-این سی آر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پارہ 44 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر چکا ہے۔دہلی-این سی آر میں ایئر کوالٹی انڈیکس بھی 226 سے اوپر جا چکا ہے، جو صحت کے لیے نقصان دہ سطح ہے۔ کچھ علاقوں میں یہ 300 کے قریب پہنچ گیا ہے، جس سے لوگوں کو گرمی کے ساتھ سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس شدید گرمی کے درمیان ایک اچھی خبر بھی سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق 26 اپریل کے بعد ایک نیا مغربی سلسلہ (ویسٹرن ڈسٹربینس) فعال ہوگا، جس کے باعث درجہ حرارت میں کمی اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔ خاص طور پر دہلی-این سی آر میں اتوار کے بعد موسم میں تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔
غورطلب ہےکہ ہفتہ کے روز کم سے کم درجۂ حرارت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، اسی دوران محکمۂ موسمیات نے یلو الرٹ جاری کرتے ہوئے شہر کے کچھ علاقوں میں ہیٹ ویو کے امکانات کی وارننگ دی ہے۔صفدرجنگ، جو شہر کے موسم کی نمائندگی کرتا ہے، وہاں کم سے کم درجۂ حرارت 25.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 2.5 ڈگری زیادہ اور گزشتہ دن کے مقابلے میں 0.7 ڈگری زیادہ ہے۔
دیگر موسمی مراکز پر بھی کم سے کم درجۂ حرارت میں ہلکا اضافہ درج کیا گیا۔ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک دن پہلے شہر کے کچھ حصوں میں سیزن کی پہلی ہیٹ ویو جیسی صورتحال دیکھی گئی تھی۔پالم میں کم سے کم درجۂ حرارت 26.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ ہوا، جو جمعہ کے مقابلے میں 1.2 ڈگری زیادہ ہے؛ لودھی روڈ میں 24 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا، جو ایک دن پہلے سے 1.4 ڈگری زیادہ ہے جبکہ آیانگر میں کم سے کم درجۂ حرارت 25.1 ڈگری سیلسیس رہا، جو 1.7 ڈگری کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔محکمۂ موسمیات کے ایک افسر نے کہا کہ شہر کے کچھ حصوں میں ہیٹ ویو جیسی صورتحال بن سکتی ہے۔ دن کے وقت 15 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سطحی ہوائیں چل سکتی ہیں۔
دلی این سی آر
عام آدمی پارٹی میں پھوٹ،سیسودیا کی کجریوال سے ملاقات
(پی این این )
نئی دہلی :راجیہ سبھا میں اپنی دو تہائی نشستیں کھونے کے بعد، جب عام آدمی پارٹی کے کئی اراکین پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئے، اب پارٹی نے نئی حکمتِ عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس صورتحال پر پارٹی قیادت کے درمیان مسلسل غور و خوض جاری ہے۔ گجرات کے دورے سے واپسی کے بعد سینئر رہنما منیش سسودیا نے پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
منیش سسودیا گجرات کے میونسپل انتخابات کے سلسلے میں راجکوٹ میں پارٹی کے لیے انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، دہلی واپس آنے کے بعد سسودیا سیدھے ایئرپورٹ سے پارٹی کنوینر اروندکجریوال کی رہائش گاہ پہنچے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان آدھے گھنٹے سے زائد وقت تک ملاقات ہوئی۔ اس دوران پارٹی میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کے ممکنہ اثرات اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب راگھو چڈھا نے کہا کہ انہوں نے، عام آدمی پارٹی کے چھ دیگر راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ، قواعد کے مطابق ایوان کے چیئرمین کو پارٹی چھوڑنے کی اطلاع دے دی ہے۔ اب عام آدمی پارٹی بھی اس معاملے پر راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ ایوانِ بالا کے چیف وِپ این ڈی گپتا، راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک متل کے خلاف راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط جمع کرائیں گے۔
گپتا کے خط میں انسدادِ انحراف قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ تینوں رہنما عوامی سطح پر بی جے پی میں شامل ہوتے نظر آئے ہیں، جبکہ باقی چار کو اس طرح عوامی طور پر شامل ہوتے نہیں دیکھا گیا۔ اسی لیے چیف وِپ ان تین اراکین کے خلاف شکایت درج کریں گے جنہیں بی جے پی کے دفتر میں دیکھا گیا۔عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما سنجے سنگھ نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط لکھیں گے اور آئین کے دسویں شیڈول کے تحت ان تین اراکین کی نااہلی کا مطالبہ کریں گے، جس میں پارٹی چھوڑنے کی بنیاد پر نااہلی کی شقیں درج ہیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
