بہار
غازی آباد:یہاں کے ہنڈن ایئر پورٹ سے اب پٹنہ کے لیے بھی فلائٹ دستیاب ہوگی
(پی این این) ۔ یکم مئی سے اس کی شروعات ہونے والی ہے۔ ایئر انڈیا ایکسپریس کو اڑان کی اجازت مل گئی ہے۔ 180 سیٹ والا یہ طیارہ روزانہ ہنڈن سے پٹنہ اور پٹنہ سے ہنڈن کے لیے اڑان بھرے گا۔ اس کی شروعات ہونے سے این سی آر میں رہنے والے بہار کے لوگوں کو کافی سہولت ہو جائے گی۔ہنڈن ایئرپورٹ سے کمرشیل اڑانوں پر لگی روک ہٹنے کے بعد کنکٹیویٹی لگاتار بڑھ رہی ہے۔ مارچ میں 7 شہروں کے لیے نئی اڑانیں شروع ہوئی تھیں اور اب یکم مئی سے پٹنہ کے لیے بھی سیدھی اڑان ملے گی۔ ہنڈن ایئر پورٹ سے جڑنے والا پٹنہ 13 واں شہر ہوگا۔ کمپنی نے پٹنہ کی اڑان کی بکنگ بھی شروع کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شروعات میں کچھ چھوٹ بھی دی جا رہی ہے۔ٹکٹ کی قیمت 4 ہزار روپے سے شروع ہو رہی ہے۔
جو وندے بھارت ٹرین کی ایگزیکٹیو چیئر کار کے کرایے سے بھی کم ہے۔ پٹنہ سے صبح طیارہ 11:50 بجے اڑان بھرے گا اور دوپہر میں 1:40 بجے ہنڈن پہنچے گا۔ ہنڈن سے دوپہر 2:25 بجے اڑان شروع ہوگی اور شام 4:10 بجے اڑان پٹنہ پہنچے گی۔ہنڈن ایئرپورٹ کے ڈائرکٹر امیش یادو کا کہنا ہے کہ کمپنی نے بکنگ شروع کر دی ہے۔ اس اڑان کے شروع ہونے سے غازی آباد کے ساتھ نوئیڈا، میرٹھ اور ہاپڑ میں رہنے والے لوگوں کو پٹنہ جانے-آنے میں بڑی سہولت ہو جائے گی۔بتایا جاتا ہے کہ ہنڈن ایئر پورٹ سے جلد ہی اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو سمیت 4 اور شہروں کے لیے بھی اڑان خدمات شروع ہوگی۔ رکن پارلیمنٹ اتل گرگ کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے لیے اڑان خدمات شروع ہونے سے بہار کے رہنے والے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔
اب غازی ٓآباد کے ساتھ این سی آر میں رہنے والے لوگ دو گھنٹے سے کم وقت میں ہی بہار تک پہنچ سکیں گے۔ ہنڈن ایئئر پورٹ پہنچنے میں غازی آباد، نوئیڈا اور میرٹھ سے دہلی ایئر پورٹ جانے میں لگنے والے وقت سے بھی آدھا بھی نہیں لگے گا۔
بہار
ایل پی جی گیس کی قلت کے پیش نظر جامعہ رحمانی کے نئے تعلیمی سال کی تاریخ میں تبدیلی
(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی خانقاہ، مونگیر نے ملک میں جاری ایل پی جی (LPG) گیس کی شدید قلت کے پیش نظر اپنے تعلیمی سیشن کے آغاز کی تاریخ میں نظرِ ثانی کا اعلان کیا ہے۔ ادارہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات نے نہ صرف گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ بڑے تعلیمی و اقامتی اداروں کے لیے بھی انتظامی سطح پر سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
جامعہ کے ذمہ داران نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نئے اور قدیم طلبہ، خصوصاً وہ طلبہ جو دور دراز علاقوں سے اپنے سرپرستوں کے ہمراہ جامعہ کا رخ کرتے ہیں، اس نئے تعلیمی مرحلہ کے لیے نہایت شوق اور تیاری کے ساتھ منتظر تھے۔ ادارہ نے طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کے جذبات اور ان کی عملی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا۔
جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف رحمانی نے اپنے پریس بیانیہ میں کہا کہ جامعہ رحمانی کی انتظامیہ نے ایل پی جی گیس کی فراہمی کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں اور مقامی انتظامیہ سے مسلسل رابطہ قائم رکھا۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے مکمل تعاون اور سنجیدگی کا دعویٰ کیا گیا، تاہم گیس کی مجموعی قلت کے باعث فراہمی ممکن نہ ہو سکی، جس کے نتیجہ میں طلبہ اور سرپرستوں کی بڑی تعداد کے قیام و طعام کا معیاری انتظام کرنا فی الحال دشوار ہو گیا ہے۔
جامعہ رحمانی نے ہمیشہ اپنے طلبہ اور ان کے سرپرستوں کی عزت و احترام اور ان کے سہولت و آرام کو اولین ترجیح دی ہے، اور اسی اصول کے تحت جلد بازی سے گریز کرتے ہوئے ایک متبادل اور دیرپا حل اختیار کیا گیا ہے۔ ادارہ میں لکڑی اور کوئلے کے ذریعے کھانا تیار کرنے کے لیے ایک نئے مطبخ کی تعمیر کا کام فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے، جو تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ آئندہ ایک ہفتہ میں مکمل ہو جائے گا۔ اس اقدام کے بعد جامعہ بہتر اور باوقار انداز میں اپنے طلبہ کا استقبال کرنے کے قابل ہو سکے گا۔
اسی پس منظر میں جامعہ رحمانی خانقاہ، مونگیر کے افتتاح کی تاریخ کو 11 شوال المکرم 1447ھ ( 31 مارچ 2026ء) کے بجائے 20 شوال المکرم 1447ھ (9 اپریل 2026ء)، بروز جمعرات مقرر کیا گیا ہے۔ تمام قدیم و جدید طلبہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اسی تاریخ کی صبح جامعہ پہنچیں۔ داخلہ کی کارروائی اسی روز شام سے شروع ہو جائے گی، جبکہ باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز 25 شوال المکرم 1447ھ (تقریباً 14 اپریل 2026ء)، روز بدھ سے ہوگا۔
جامعہ کے انتظامیہ نے طلبہ اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے سفر اور قیام کا منصوبہ اسی کے مطابق ترتیب دیں، تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔ بیان کے اختتام پر ادارہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ موجودہ حالات میں آسانی فرمائے، علم و عمل میں برکت عطا کرے، اور ادارہ کو مزید ترقی و استحکام نصیب فرمائے۔
بہار
سیتامڑھی ضلع کے ہر بلاک میں کھلیں گے ماڈل اسکول ،تیاریاں شروع
(پی این این)
سیتامڑھی:بہار میں تعلیمی نظام کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ ترقی یافتہ تعلیم–روشن مستقبل منصوبہ کے تحت ضلع سیتامڑھی کے تمام 17 بلاک میں ایک ایک ماڈل اسکول قائم کرنے کی کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ آئندہ تعلیمی سیشن 2026–27 سے ان اسکولوں میں داخلہ شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے طلبہ کو جدید اور معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے گی۔
محکمۂ تعلیم کی سخت ہدایت کے بعد معائنہ مہم بھی جنگی سطح پر جاری ہے۔ محکمہ نے 31 مارچ 2026 تک تمام منتخب اسکولوں کا معائنہ مکمل کر کے رپورٹ پٹنہ ہیڈکوارٹر کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالسلام انصاری گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل ضلع کے مختلف بلاک کا دورہ کر رہے ہیں اور اب تک 15 بلاک کے اسکولوں کا معائنہ مکمل کر چکے ہیں۔ معائنہ کے دوران اسکولوں کی عمارت، کلاس روم، بیت الخلاء، پینے کے پانی، کھیل کے میدان، لیبارٹری اور لائبریری جیسی بنیادی سہولیات کا باریکی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
افسران کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ منتخب اسکولوں کو ہر حال میں ماڈل اسکول کے معیار پر تیار کیا جائے۔ ہفتہ کے روز ڈپٹی ڈائریکٹر نے شہر کے ایم پی ہائی اسکول کا بھی اچانک معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسکول انتظامیہ کو ضروری ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام معیارات کو جلد از جلد پورا کیا جائے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی منشا کے مطابق ان ماڈل اسکولوں میں جدید سہولیات اور معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ طلبہ کے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکے۔
معائنہ کے دوران پرنسپل بیدیناتھ بیٹھا کے علاوہ محمد ارمان علی، کمال اشرف، سبیل احمد، محمد انجم رضا، نصرت جہاں، نکہت جہاں، جتیندر مادھو، نوین کمار، سبودھ کمار، رام کرپال پرساد، محمد آفتاب عالم، دنیش ٹھاکر، اے ڈی رائے، چندن کمار، جوتی، شیو شنکر کمار، محمد مناظرالاسلام اور کوثر ربانی سمیت دیگر اساتذہ موجود تھے۔
بہار
سیتامڑھی میں عازمین حج کیلئے طبی کیمپ کا انعقاد
(پی این این)
سیتامڑھی: شہر کے مدرسہ رحمانیہ مہسول کے احاطے میں فیملی ہیلتھ کیئر کی جانب سے ایک مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ حاجیوں کو تربیت دینے کے بعد منعقد اس کیمپ میں کل 132 حاجیوں اور آس پاس کے دیہاتیوں کا مفت طبی معائنہ اور علاج کیا گیا۔ کیمپ کے دوران مریضوں کا عمومی طبی معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری ادویات بھی مفت فراہم کی گئی۔ ڈاکٹروں کی ٹیم نے مختلف بیماریوں کی جانچ کر لوگوں کو ضروری طبی مشورے دیے۔ خاص طور پر حج پر جانے والے حاجیوں کے صحتی معائنے پر خصوصی توجہ دی گئی، تاکہ وہ مکمل صحت کے ساتھ اپنے سفر پر روانہ ہو سکیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر ماہد حسن نے کہا، معاشرے کے ضرورت مند لوگوں تک بہتر طبی سہولیات پہنچانا ہمارا مقصد ہے۔ اس طرح کے مفت کیمپ کے ذریعے ہم ان لوگوں کی مدد کر رہے ہیں جو مالی وجوہات کی بنا پر وقت پر علاج نہیں کرا پاتے۔ مستقبل میں بھی اس طرح کے کیمپ منعقد کیے جاتے رہیں گے۔
کیمپ کے کامیاب انعقاد سے مقامی لوگوں میں خوشی دیکھنے کو ملی اور انہوں نے فیملی ہیلتھ کیئر کی اس پہل کی سراہنا کی۔ اس موقع پر حاجی افتخار عالم منا، محمد ارمان علی، مولانا رضوان قاسمی، علیم عرف آرزو، ، تبریز، کمرول محمد گلاب، محمد اجمل، تنویر شمسی، محمد شکیل سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار10 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
