Connect with us

دلی این سی آر

مادری زبان سے سچی محبت وقت کی اہم ضرورت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :گزشتہ روز غالب اکیڈمی،نئی دہلی میں ماہانہ نثری نشست کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت خورشید حیات نے کی۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ مادری زبان سے سچی محبت وقت کی اہم ضرورت ہے۔تہذیبی قدروں سے بیگانگی ہمیں اچھا انسان نہیں بنا سکتی۔ انہوں نے ” کشکول“، ”یہ اسی کی آواز ہے“ ایک مختصر اورایک طویل کہانی سنائی۔ اس نشست میں سید وجاہت مظہر نے قرة العین حیدر کے سوانحی ناول ”کار جہاں دراز ہے تاریخ وتخیل کے آمیزہ“ کے عنوان سے ایک مقالہ پڑھا۔
متین امروہوی نے منور رانا کی کتاب ”سفید جنگلی کبوتر“ پر ایک مضمون پڑھا۔ڈاکٹر شہلا احمد نے” ہیرا منڈی“ کے عنوان سے ایک کہانی پیش کی۔ ٹی این بھارتی نے ”میرے بچپن کی چھبیس جنوری“ کے عنوان سے ایک مضمون پڑھا جس میں انہوں نے دہلی میں اپنے بچپن میں 26جنوری کی پریڈ کی منظر کشی کی۔ ہندی کے مشہور افسانہ نگار راجندر کمار نے کہانی” سوچ “سنائی۔ جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سوچ بدلنے سے ستارے بدل جاتے ہیں۔ محمد رضوان نے” ہندوستانی فلموں میں اردو نغمے اور فلسفہ ¿ حیات“ کے عنوان سے ایک عمدہ مضمون پڑھا۔جس میں انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فلموں کو اردو نغموں سے شہرت حاصل ہوئی ہے۔ اردو نے ہندوستانی فلموں کو تقویت بخشی ہے۔ آرزو،جوش،ندا فاضلی،شکیل بدایونی،مجروح ،کیفی،سردار جعفری تما م بڑے شاعر ہندوستانی فلموں کے لیے نغمے لکھتے تھے۔ اس موقع پر ظہیر احمد برنی نے شفیق الرحمن کی تصنیف” مزید حماقتیں “پر دلچسپ گفتگو کی۔
اس نشست میں ڈاکٹر عقیل احمد نے” خواجہ میر درد کی شاعری“ پر ایک مضمون پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ میر درد کی شاعری کا خاص وصف تصوف ہے۔ متصوفانہ شاعری ہی ان کے کلام کی جان ہے۔میر درد نے اپنی شاعری کو انسان دوستی کا ذریعہ بنایا جس میں انسانی حقوق کی اہمیت اور انسان کے بلند مرتبے پر خاص اہمیت دی گئی۔اس موقع پر دہلی یونیورسٹی کی استاد اور غزل سنگر محترمہ انوپما سری واستو، احترام صدیقی، نعیم ہندوستانی،کمال احمد نے خاص طور سے شرکت کی۔
آخر میں سکریٹری نے شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ اگلی نشست8 فروری2025ءکو ہوگی۔

دلی این سی آر

گجرات یکساں سول کوڈ کے خلاف جمعیۃ عدالت سےکرے گی رجوع : مولانا محمود اسعد مدنی

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے گجرات اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ یکساں سول کوڈ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے اُن عائلی و شخصی قوانین بالخصوص حق وراثت کی واضح شکلوں کو عملاً ختم کرنے کی کوشش ہے جو آئینِ ہند کے تحت تسلیم شدہ ہیں اور قرآن و سنت سے ماخوذ ہونے کی بنا پر محض سماجی ضابطے نہیں بلکہ لازمی دینی احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی حکومت کو مذہبی عقائد اور شرعی احکام میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں۔ مزید برآں یکساں سول کوڈ کے نام پر مذہبی شخصی قوانین کا خاتمہ legislative overreach ہے جو ملک کی بڑی عدالت میں سخت آئینی جانچ پر پورا نہیں اترتا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدرمحترم نے یہ بیان جمعیۃ کے وکلاء پینل کے ذریعہ اس قانون کے مطالعے کے بعد دیا ہے۔
جمعیۃ کے وکلاء پینل کی جانب سے بل کے جامع مطالعے کے بعد یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ اس قانون میں خاص طور پر تین ایسے بنیادی پہلو شامل ہیں جو صریح طور پر اسلامی احکام کی واضح ہدایات سے متصادم ہیں۔ ان میں سرفہرست اسلامی نظامِ وراثت ہے، جس کے حصے قرآنِ کریم میں نہایت صراحت کے ساتھ متعین اور ناقابلِ ترمیم قرار دیے گئے ہیں۔ہر ایک وارث کا حصہ علیحدہ طور پر بیان کیا گیا ہے اور اسے حدود اللہ قرار دے کر تجاوز کرنے والوں کو ظالم کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ محض مسلم پرسنل لا کا حصہ نہیں بلکہ صریح احکامِ الٰہی ہیں، جن پر عمل ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہٰذا اس قانون کے ذریعے ان احکام کو ختم یا غیر مؤثر بنانے کی کوشش نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ عدل کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور مسلمانوں کے ساتھ آئین سازوں کے کیے گئے عہد کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
اسی طرح تعددِ ازدواج پر کلی پابندی عائد کر کے ایک مسلمہ شرعی اجازت کو غیر قانونی قرار دینا بھی مذہبی آزادی میں مداخلت ہے۔ مزید برآں، عدالت سے ماورا طلاق کی تمام صورتوں پر مکمل پابندی عائد کرنا اور اس پر تین سال تک کی سزا مقرر کرنا، نیز ساٹھ دن کے اندر نکاح کی رجسٹریشن نہ کرنے پر ساٹھ ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے سے متعلق دفعات نہ تو آئینی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی اخلاقی و قانونی معیارات پر پورا اترتی ہیں۔ یہ اقدامات غیر متناسب ہیں بلکہ شہری (سول) معاملات کو بلا جواز فوجداری دائرے میں لے آنے کی ایک سنگین مثال بھی ہیں۔
مولانا مدنی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا کہ’’ ایک ملک ہے تو ایک قانون ہونا چاہیے‘‘، اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر شیڈولڈ ٹرائبس کو اس قانون سے مستثنیٰ کیوں رکھا گیا؟ کیا وہ ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا عملی امتیاز آئین کے آرٹیکل 14 (حقِ مساوات) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور اس مقصد کے لیے تمام آئینی و قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے تاکہ مسلمانوں کے مذہبی و آئینی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور شریعتِ اسلامی کے لازمی احکام کو کسی بھی صورت میں متاثر نہ ہونے دیا جائے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی کے اسکولوں میں ریلز اور ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی حکومت نے دارالحکومت کے تمام اسکولوں کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ سکول کے اوقات میں ریلز اور مختصر ویڈیوز بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان ہدایات کا اطلاق طلباء کے ساتھ اساتذہ اور عملے کے دیگر ارکان پر بھی ہوگا۔ حکومت نے تمام اسکولوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ طلباء، اساتذہ اور عملہ اسکول کے احاطے میں خاص طور پر پڑھائی کے اوقات میں ریلیز اور مختصر ویڈیوز نہ بنائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تفریح یا سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بنانا اب دارالحکومت بھر کے اسکولوں میں سختی سے ممنوع ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیاں تعلیمی کام، نظم و ضبط یا ادارے کے وقار کو متاثر کرتی ہیں۔دہلی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (DoE) نے اس سلسلے میں ایک سرکلر جاری کیا ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ اسکول کے احاطے میں تفریح کے لیے مختصر ویڈیوز (ریلز) بنائی جا رہی ہیں۔
اسکول انتظامیہ کو مطالعہ کے اوقات میں اس کی سختی سے ممانعت کرنی چاہیے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیاں مطالعہ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسکولوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی توجہ ہٹانے والی سرگرمیوں سے منع کریں اور تعلیمی اداروں کے وقار کو برقرار رکھیں۔ سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر کسی کی توجہ پڑھائی پر مرکوز ہونی چاہیے۔محکمہ نے کہا کہ تعلیمی، ثقافتی یا بیداری کے موضوعات پر ویڈیو حکام سے اجازت لینے کے بعد ہی بنائی جا سکتی ہے۔ ایسی ویڈیوز اساتذہ کی نگرانی میں بنائی جائیں۔ مزید برآں، اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مطالعہ میں خلل نہ پڑے اور بچوں کی حفاظت اور رازداری کو برقرار رکھا جائے۔ سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکول کے احاطے میں کوئی نامناسب، غیر تعلیمی یا تشہیری مواد ریکارڈ نہیں کیا جانا چاہیے۔
سرکلر میں کہا گیا ہے کہ تمام اسکولوں، اساتذہ اور طلباء کو اس ہدایت سے آگاہ کیا جائے۔ یہ ان پر زور دیتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہدایت کی خلاف ورزی نہ ہو۔ سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہدایت کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔حکومت نے محسوس کیا تھا کہ ریلز اور مختصر ویڈیوز بنانے سے اسکول کے کیمپس میں تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ طلباء کو پڑھائی سے ہٹایا جا رہا تھا۔ تعلیمی اداروں کے وقار اور نظم و ضبط کو پامال کیا جا رہا تھا۔

Continue Reading

دلی این سی آر

امیر جماعتِ اسلامی ہند کی کابل اسپتال پر حملے کی شدید مذمت، شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے امیر، سید سعادت اللہ حسینی نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اسپتال پر مبینہ پاکستانی فضائی حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
میڈیا کو جاری اپنے بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ’’ ہم کابل میں اسپتال پر پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں 400 سے زائد افراد جاں بحق اور 250 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ہم متاثرین کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور اس المناک وقت میں افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ رات کے وقت ہوا اور اس نے اس طبی مرکز کو بری طرح تباہ کر دیا جہاں بڑی تعداد میں کمزور اور زیرِ علاج مریض موجود تھے۔ اسپتال دیکھ بھال اور تحفظ کی جگہ ہوتے ہیں، اور ایسے اداروں پر کسی بھی قسم کا حملہ بین الاقوامی انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے حملوں میں قیمتی جانوں کا ضیاع، خصوصاً اُن افراد کا جو پہلے ہی تکلیف میں تھے اور علاج کے مراحل سے گزر رہے تھے، یہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والے شدید انسانی بحران کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
امیر جماعت نے مزید کہا کہ ’’ یہ افسوسناک واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازعہ، جو ایک طویل اور حساس سرحد کے حامل ہیں، پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ شہری ڈھانچے کی تباہی اور ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کو واضح کرتی ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے تحمل کے مظاہرے اور کشیدگی کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ “دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کو ہر حال میں ٹالا جانا چاہیے اور کسی بھی صورت اسے بھڑکنے نہیں دینا چاہیے۔ خطے کا امن اور استحکام انتہائی اہم ہے، اور کشیدگی میں اضافہ پورے علاقے کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔ مسائل اور اختلافات کو طاقت یا جنگ کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ہم پاکستان اور افغانستان دونوں سے اپیل کرتے ہیں کہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید بے گناہ جانوں کے ضیاع کا سبب بنیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ” واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن بحال کرنے کے لیے نئی اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔ پائیدار امن، جنگ اور تصادم سے نہیں ، انصاف، انسانی وقار کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی قائم ہو سکتا ہے، ۔‘‘

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network