uttar pradesh

یونیورسٹی میں داخلہ شخصیت سازی اور فکری بالیدگی کے نئے سفر کا آغاز

Published

on

لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں آج نو وارد طلبہ کے لیے ایک جامع اور بامقصد اورینٹیشن پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو نہ صرف شعبے کی علمی فضا اور تحقیقی روایت سے واقف کرانا تھا بلکہ انھیں تعلیم کے عملی تقاضوں، شعبہ جاتی سرگرمیوں، اور مستقبل کے امکانات سے روشناس کرانا بھی تھا تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے سفر کا آغاز اعتماد، شعور اور واضح رہنمائی کے ساتھ کر سکیں۔اس اورینٹیشن پروگرام میں ریسرچ اسکالر راشدہ خاتون نے تمام نووارد طلبہ کا گرم جوشی خیر مقدم کرتے ہوئے شعبے کے تعلیمی اور ادبی ماحول سے روشناس کرایا۔
اس پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر ثوبان سعید نے نووارد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں داخلہ محض ایک نئے تعلیمی مرحلے کا آغاز نہیں بلکہ شخصیت سازی، علمی وسعت اور فکری بالیدگی کے ایک نئے سفر کی ابتدا ہے۔
انھوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو صرف نصابی کتابوں اور امتحانات تک محدود نہ رکھیں بلکہ مطالعہ، تحقیق، تخلیقی اظہار اور علمی سرگرمیوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ شعبۂ اردو طلبہ کو زبان و ادب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تنقیدی شعور، تحقیقی مزاج اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
پروفیسر ثوبان سعید نے نووارد طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ اردو میں ان کے لیے ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی جہاں وہ اپنی علمی، تحقیقی، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو آزادانہ طور پر پروان چڑھا سکیں۔ انھوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ شعبہ ان کی تعلیمی رہنمائی، تحقیقی تربیت اور مستقبل کے تعلیمی و پیشہ ورانہ امکانات کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
پروگرام کے دوران نووارد طلبہ کو شعبۂ اردو کے تعلیمی پروگراموں، نصاب، تدریسی طریقۂ کار، امتحانی نظام، حاضری، داخلی تشخیص، تحقیقی سرگرمیوں، کتب خانے اور دیگر تعلیمی سہولیات کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ طلبہ کو یونیورسٹی کی مختلف کمیٹیوں، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں، این ایس ایس، کھیلوں اور دیگر ہم نصابی پروگراموں میں شرکت کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اس اورینٹیش پروگرام میں ڈاکٹر محمد اکمل نے کہا کہ اردو زبان و ادب ہماری تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اس کے مطالعے کے ذریعے طلبہ نہ صرف ادبی روایت سے واقف ہوتے ہیں بلکہ معاشرے، تاریخ، تہذیب اور انسانی اقدار کو سمجھنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ڈاکٹر محمد اعظم انصاری نے نووارد طلبہ کو شعبے کی مختلف علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ سیمینار، مذاکرے، ادبی نشستیں، مشاعرے، تقریری و تحریری مقابلے، مضمون نویسی، بیت بازی، ڈراما، ثقافتی پروگرام اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر منور حسین یونیورسٹی کی وسیع تر علمی و ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لینگویج یونیورسٹی طلبہ کو مختلف شعبہ ہائے علم کے ساتھ بین الشعبہ جاتی اور ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے قومی و بین الاقوامی سیمینار، ورکشاپس، کانفرنسیں، ادبی و ثقافتی پروگرام، کھیلوں کی سرگرمیاں، این ایس ایس کے تحت سماجی و فلاحی مہمات، قومی و بین الاقوامی دنوں کی مناسبت سے منعقد ہونے والے پروگرام اور مختلف تخلیقی و علمی مقابلے طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر موسی رضا نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اساتذہ سے مسلسل علمی رابطہ رکھیں، کتب خانہ اور دیگر علمی وسائل سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنی دلچسپی کے میدان میں باقاعدہ مطالعہ اور تحقیق کی عادت پیدا کریں۔اس موقع پرڈاکٹر سدھارت سدیپ اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے بھی اظہار خیال کیااور ساتھ شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے ڈاکٹر رضا عباس حیدری نے اپار آئی ڈی اور دوسرے ٹیکنیکل معلومات فراہم کی۔اس پروگرام کے آخر میں نووارد طلبہ نے مختصر طور پر اپنا تعارف پیش کیا۔اس پروگرام کی نظامت ریسرچ اسکالر حسن اکبراور شکریے کے کلمات ریسرچ اسکالر طاہرہ خاتون نے انجام دیا۔اس پروگرام میںڈاکٹر عارف عباس،ڈاکٹر ظفرالنقی اور ڈاکٹر عبد الحفیظکے علاوہ طلبہ بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network