Bihar

گیا جی: ضلع میںعوامی اداروں کے حفاظتی انتظامات خستہ،86 میں سے 76 ہوٹل اور 73 میں سے 6 اسپتال فائر سیفٹی معیار پر فیل، فائر آڈٹ میں سنگین لاپروائیوں کا انکشاف

Published

on

(پی این این)
گیا جی : اگر آپ کسی ہوٹل میں قیام کرتے ہیں یا علاج کے لیے کسی اسپتال کا رخ کرتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ ضلع میں کیے گئے فائر سیفٹی آڈٹ نے عوامی اداروں کی حفاظتی تیاریوں کی سنگین حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جانچ کے دوران بڑی تعداد میں ہوٹل اور اسپتال آگ سے تحفظ کے لازمی معیار پر پورا اترتے نہیں پائے گئے، جس سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بڑے حادثے کا خطرہ برقرار ہے۔
منگل کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میں ضلع فائر آفیسر امن کمار سنہا نے بتایا کہ مظفرپور میں پیش آئے اسپتال آتشزدگی حادثے کے بعد بہار فائر سروس کی جانب سے ریاست بھر میں خصوصی جانچ مہم چلائی جا رہی ہے۔ اسی مہم کے تحت گیا ضلع میں اسپتالوں، ہوٹلوں اور دیگر عوامی اداروں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا۔
ضلع فائر آفیسر کے مطابق ضلع کے 73 اسپتالوں، 86 ہوٹلوں اور 151 کوچنگ اداروں کا معائنہ کیا گیا۔ جانچ کے دوران 76 ہوٹل اور 6 اسپتال ایسے پائے گئے جہاں کم از کم ضروری فائر سیفٹی انتظامات بھی موجود نہیں تھے۔ اس کے علاوہ 42 دیگر اداروں میں بھی آگ سے تحفظ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی سامنے آئی۔معائنے کے دوران کئی مقامات پر فائر ایکسٹنگوشرز کی کمی، ایمرجنسی ایگزٹ راستوں کا فقدان، فائر الارم سسٹم کی عدم موجودگی اور آگ بجھانے کے لیے مناسب پانی کے ذخیرے کی کمی جیسی سنگین خامیاں پائی گئیں۔
فائر محکمہ نے تمام متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر تمام ضروری حفاظتی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے بعد محکمہ کی ٹیم دوبارہ معائنہ کرے گی۔امن کمار سنہا نے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے اندر خامیاں دور نہ کرنے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر ایسے اداروں کو سیل کرنے سمیت دیگر تعزیری اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
ضلع فائر آفیسر نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اسپتالوں اور دیگر عوامی اداروں میں آگ لگنے کے واقعات نے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسی پس منظر میں ریاستی حکومت نے تمام اضلاع میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ممکنہ حادثات کو روکا جا سکے۔
فائر محکمہ کی خصوصی مہم آئندہ بھی جاری رہے گی۔ اسپتالوں اور ہوٹلوں کے بعد اب اپارٹمنٹ، گیس ایجنسیاں، پٹرول پمپ، سنیما ہال اور دیگر بھیڑ بھاڑ والے مقامات کی بھی فائر سیفٹی جانچ کی جائے گی۔ضلع فائر آفیسر نے اداروں کے منتظمین سے اپیل کی کہ وہ فائر سیفٹی قوانین کو محض قانونی رسمی کارروائی نہ سمجھیں۔ یہ براہِ راست عوام کی جان و مال کے تحفظ سے وابستہ معاملہ ہے۔ معمولی سی غفلت بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے بروقت حفاظتی معیار کو پورا کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network