Bihar
گیا جی:بجلی محکمہ میں بدعنوانی کا بڑا انکشاف
(پی این این)
گیاجی: ضلع گیا کے امام گنج بلاک کے منجھولی گاؤں کے رہائشی اور آئس فیکٹری کے مالک اُمیش ساؤ کی شکایت پر کی گئی جانچ میں بجلی محکمہ کے افسران اور ملازمین کا کردار مشتبہ پائے جانے کے بعد ضلع انتظامیہ نے سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ جانچ رپورٹ کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ ششانک شبھنکر نے جونیئر انجینئر (جے ای) سمیت پانچ افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اُمیش ساؤ نے ضلع مجسٹریٹ سے شکایت کی تھی کہ ان کی آئس فیکٹری میں بجلی محکمہ کی ٹیم نے جانچ کے دوران ’’ٹوکا‘‘ لگا کر مشین چلانے کا الزام عائد کیا تھا۔ شکایت کنندہ نے اس الزام کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جونیئر انجینئر سچن کمار نے معاملہ رفع دفع کرنے کے عوض رقم کا مطالبہ کیا تھا۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے جانچ کی ذمہ داری شیرگھاٹی کے سب ڈویژنل افسر (ایس ڈی او) کو سونپی۔ جانچ کے دوران بجلی محکمہ کی جانب سے فیکٹری میں ’’ٹوکا‘‘ لگا کر مشین چلانے سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ مزید یہ کہ جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جونیئر انجینئر سچن کمار نے اپنے محکمہ کے اکاؤنٹنٹ رنجیت کمار کے بینک کھاتے میں یو پی آئی کے ذریعے 20 ہزار روپے منگوائے تھے۔ شکایت کنندہ کا یہ بھی الزام تھا کہ 50 ہزار روپے نقد بھی غیر قانونی طور پر وصول کیے گئے تھے۔
سب ڈویژنل افسر کی جانچ رپورٹ کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ نے جونیئر انجینئر سچن کمار، اسسٹنٹ انجینئر راجیو جھا، اکاؤنٹنٹ رنجیت کمار، انسانی وسائل کے ملازم سنجے پاسوان اور سپروائزر وکرم سنگھ کے خلاف محکمانہ اور تادیبی کارروائی کرنے کی ہدایت سپرنٹنڈنگ انجینئر کو دی ہے۔
ساتھ ہی جونیئر انجینئر کی معطلی کے لیے محکمہ کو تجویز بھیجنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔جانچ کے دوران ایک لائن مین کا کردار بھی مشتبہ پایا گیا۔ ضلع انتظامیہ نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کارروائی کو بجلی محکمہ میں بدعنوانی کے خلاف انتظامیہ کی ایک بڑی اور اہم کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔