Bihar
گستاخ رسولؐ کیخلاف کی جائے سخت کارروائی،نازیہ الہی کے حضو ر ؐ پر دیئے گئے ہتک آمیز بیان پر امیر شریعت کا سخت رد عمل
(پی این این)
پھلواری شریف:سوشل میڈیا میں وائرل ایک بدنام زمانہ خاتون نازیہ کے ذریعہ حضورؐ کی حیات طیبہ اور معاشرتی زندگی پر دیے گئے گستاخانہ، نازیبا اورہتک آمیز بیان پرامیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی نے سخت رد عمل کا اظہارکیا ہے۔
انہوں کہا کہ اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام حضرت محمدؐکو پوری انسانیت کے لیے نمونہ بنا کر بھیجا ہے، کیونکہ ان کی سیرت و کردار و عمل کا ایک ایک پل تاریخ انسانی کی ایک زندہ حقیقت ہے جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا کا کوئی مذہب اور تاریخ قاصر ہے ،اسی لیے ملک و بیرون ملک کے معاندینِ اسلام نے بھی حضورؐ کے اخلاق و عادات اور آپ کی انقلاب انگیز تعلیمات کو سراہا ،ایسے محسن انسانیتؐ کے بارے میں گستاخانہ بیان سے نازیہ الہی کی بیمارذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے، اسلئے اس طرح کے نازیبا تبصرہ کرنے والی نازیہ الٰہی پر قانونی کاروائی کی جائے، تاکہ دوسروں کے لئے بھی درس عبرت ہو، وہ ایسے اشتعال انگیز بیانوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے ملک میں اضطرار کی لہر پیدا کرنا چاہتی ہے۔
ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانامفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی نے نازیہ الٰہی کے گستاخانہ ویڈیوںکلپ اورتبصرے کو ملک کے امن وامان کوبگاڑنےکی سازش قراردیا ، کیوں کہ ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کے احترام، سماجی ہم آہنگی ،اور قانون کی حکمرانی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، کسی بھی مذہب، عظیم شخصیت یا مذہبی عقیدے کے بارے میں توہین آمیز تبصرے معاشرے میں تناؤ پیدا کر سکتے ہیں، وکالت کےپیشہ سےوابستہ نازیہ الٰہی اکثر اپنے متنازعہ بیانات کے ذریعہ سرخیوں میں رہنا چاہتی ہے اورسربازارتوہین آمیزتبصروں سے دل آزاری کرتی رہتی جوکہ نہایت ہی شرمناک ہے، ایسے گستاخ رسولؐکو دستورکی دفعات 199اور 299کے تحت فوراً گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے، کیونکہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے، لیکن اپنے نبی کی ہتک عزت کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا اس لیے ہمارا حکومت سے پرزورمطالبہ ہے کہ بد امنی پھیلانے والی اس خاتون نازیہ الہی کو سخت سزادی جائے ۔