محاسبہ

پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب

Published

on

محاسبہ:سید فیصل علی

اس دور منافق میں جب ممتا بنرجی کے اقبال کا جادو اترتے ہی ان کے چہیتے لیڈران بی جے پی کا دامن پکڑنے لگے ہوں اور جو ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑے ہیں ان پر انڈے پھینکے جارہے ہوں،وہ کرب ناک منظرنامہ ہے۔ بنگال جو کبھی سونار بنگلہ کہلاتا تھا جہاں ٹیگور نے ہندوستانی تکثیر کی اپنی نظموں میں گلفشانی کی تھی جہاں ہندو مسلم دوستی اور تہذیبی ثقافت کی دنیا میں دھوم تھی ،آج وہی بنگال نفرت کے کھیل میں شامل ہے۔ بنگال میں جنگل راج کا تصور نہیں تھا اب جنگل راج حقیقت بن چکا ہے۔ اس دور میں جب جمہوری اقدار عدل وقانون سب بے معنیٰ ہوچکے ہیں ،اور ایک ہی پارٹی کا ڈنکا بج رہا ہے۔اس دور میں انصاف کی آواز بلند کرنا اک بہلاوا کچھ نہیں۔
المیہ تو یہ ہے کہ جس سیاسی پارٹی کے زناکار اب سنسکاری قرار دیئے جارہے ہیں۔ ان کا پھول مالائوں سے استقبال ہورہا ہے۔ جس دور میں محض ووٹوں کے لئے قتل اور عصمت دری کے ایک سزا یافتہ بابا کو بار بار پیرول پر رہائی مل رہی ہے۔ بلقیس اور نربھیا کے واقعات کو روند کر زناکاروں کو ضمانتیں دی جارہی ہیں۔ جس دور میں احتجاج اور مظاہروں کی پاداش میں چھ سال سے تہاڑ جیل میں عمر خالد ، شرجیل امام کی ضمانتیں سیاسی انتقام کا شکار ہورہی ہیں۔جس ملک میں ایک پولیس اہلکار مسلمانوں کو سڑک پر نماز نہیں پڑھنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، پاسپورٹ منسوخ کرنے کی بات کررہا ہے۔انھیں نماز پڑھنے کی پاداش میں جیل بھیجنے کی باتیں کررہا ہے۔ایسے لاقانونیت بھرے ماحول میں جب عدل وقانون بھی ابروئے حکومت کے تابعدار ہوجائے تو ملک کا دیرینہ سنسکار شرمسار ہوتا ہے۔ایسے ملک میں جہاں احتجاج، مظاہرہ ملک سے غداری سے تعبیر کی جارہی ہو، حکومت سے سوال پوچھنا جرم سمجھا جاتا ہو، عدالتیں بھی اس دلسوز روایت پر مہر پر مہر لگاتی جارہی ہوں،ایسے میں کسی جج کا حکومت وقت کو آئینہ دکھانا اور ایک مسلمان کو انصاف دینا واقعی ہمت وحوصلے کی عظیم مثال ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں جب معمولی سی بات پر مسلمانوں کے گھر بلڈوز کئے جارہے ہوں ، مسجدیں ، درگاہوں ، قبرستانوں کو ناجائز قرار دے کر انھیں منہدم کیا جارہا ہوں اسی ہندوستان میں ناجائز قبضہ والے منادر کی عرضی پر سماعت سے عدالت انکار کررہی ہو، جس ملک میں سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کو بھرے کورٹ میں گالیاں دی جارہی ہوں۔ جج صاحبان بھی ابروئے حکومت کے اشارے پر فیصلے صادر کرنے لگے ہوں ،ایسے دور کشاکش میں جب کوئی جج ایک مسلمان کو انصاف دینے کی بات کرتا ہے تو اس کی جرأت پر حیرت ہوتی ہے۔
غورطلب ہے کہ گزشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں حکومت وقت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ سرکار پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہے۔ اسے جرم نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔جمہوری نظام میں ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے ، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ(شہربدری) کا حکم منسوخ کردیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ سابق لوک سبھا امیدوار سمیع احمد کی درخواست پر سنایا۔ سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر بھی کئی سوالات کھڑے کئے۔ عدالت نے سوال کیا کہ محض بی جے پی حکومت مردہ باد یامودی، امت شاہ مردہ باد جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف جرم کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں تو ان پر مقدمات کیوں درج کئے جارہے ہیں یہ آئین جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ پولیس عوام کی خدمت کے لئے ہے وہ کسی حکومت کی ملازم نہیں ہے۔ جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اس دور میں عوام کو حکومت کا غلام بنایا جارہا ہے۔
غورطلب ہے کہ سعید احمد ، عبدالواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) اور این آر سی ، بابری مسجد تنازعہ ، گیان واپی مسجد معاملہ ، وقف بورڈ کے معاملات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کولیکر احتجاج مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ 2019سے 2024کے درمیان ان پر کئی مقدمات قائم کئے گئے ۔ 2025میں انھیں مہاراشٹر پولیس کے حکم سے ایک سال کے لئے ممبئی سے بے دخل کردیا گیا تھا۔ پولیس کا موقف تھا کہ سعید کی سرگرمیوں سے عوام میں خوف وہراس پیدا ہوتاہے، اور امن وامان کو متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کو ڈویزنل کمشنر نے بھی برقرار رکھا۔ نتیجتاً چودھری نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے بھی پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال کو تسلیم کیا اور اسے غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیا۔ اپنے تحریری فیصلے میں بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقوں سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا ، عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہار رائے کی آزادی اور اپنے ملک میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ شہر بدری کی اصل وجہ احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی، صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
سپریم کورٹ کے کئی وکیلوں نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی ستائش کی ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ عدلیہ میں بھی ایسے جج موجود ہیں جو شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت سے سوال کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ بلاشبہ بامبے ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ آئین اور جمہوری اقدار کی ایک بڑی فتح کہی جارہی ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ جس دور میں حکومت مخالف فیصلہ دینے پر راتوں رات جج کا تبادلہ ہوجاتا ہے ، حکومت کی سرزنش کرنے کی پاداش میں روسٹر تبدیل کئے جاتے ہوں ایسے دور میں بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ بلاشبہ امید کی ایک کرن توضرور ہے۔ لیکن کیا یہ فیصلہ ملک کے اقدار وسنسکار کو تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوگا یا ایوان عدل وانصاف واقداروسیاست میں محض طوطی کی آوازبن کر رہ جائیگا۔ بقول شاعر
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network