uttar pradesh
نیٹ پیپر لیک کیخلاف مظاہرہ کرنے پہنچی خاتون ایم ایل اے پلّوی پٹیل گرفتار
(پی این این)
وارانسی: اپنا دل کی رہنما اور سِیراتھُو سے ایم ایل اے پلّوی پٹیل کو پیر کے روز نیٹ پیپر لیک اور دیگر مسائل کے خلاف مجوزہ مظاہرے کے دوران بی ایچ یو کے باہر سے پولیس نے گرفتار کر لیا۔ پلوّی پٹیل نے کاشی ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے سنگھ دوار کے پاس سے احتجاجی مارچ نکالنے کی اپیل کی تھی، لیکن انتظامیہ کی جانب سے اس کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
موقع پر تعینات پولیس فورس نے پلّوی پٹیل اور ان کے حامیوں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ مظاہرے کے پیشِ نظر بی ایچ یو اور آس پاس کے علاقوں میں کئی تھانوں کی پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ پولیس کمشنر موہت اگروال سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے بھی موقع پر کمان سنبھال رکھی تھی۔ پلّوی پٹیل نے کہا کہ ان کے لکھنؤ میں واقع دفتر کی جانب سے وارانسی انتظامیہ کو تحریری اطلاع دی گئی تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پرامن احتجاج کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جب بھی سڑکوں پر اترتی ہیں، پوری اطلاع دے کر اپنے کارکنوں کے ساتھ مظاہرہ کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتر پردیش پولیس دہلی سے کنٹرول ہوتی ہے یا لکھنؤ سے، یہ تو نہیں معلوم، لیکن مظاہرے کی اجازت نہیں دی جاتی۔انہوں نے الزام لگایا کہ پریاگ راج، کوشامبی، جونپور اور وارانسی میں جگہ جگہ پولیس فورس لگا کر لوگوں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسی مستعدی سے پیپر لیک مافیاؤں کے خلاف کارروائی کی جاتی تو طالب علموں کا مستقبل خراب نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس جو کارروائی کرنا چاہتی ہے، کرے، لیکن وہ ڈرنے والی نہیں ہیں۔
پولیس کمشنر موہت اگروال نے بتایا کہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے مارچ نکالنے کی اپیل کی گئی تھی، جس کی کسی بھی قسم کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر میمورنڈم دینا ہے تو تین چار نمائندے کسی افسر کو یا انہیں خود میمورنڈم سونپ سکتے ہیں، لیکن کسی بھی صورت میں امن و امان اور قانون کی صورتحال کو خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، پلّوی پٹیل پولیس کی نگرانی سے بچتے ہوئے جونپور سے وارانسی کے بابت پور علاقے تک آٹو میں عام مسافروں کے درمیان بیٹھ کر پہنچی تھیں۔