محاسبہ

موقع جسے جدھر سے ملا وار کردیا

Published

on

محسابہ:سید فیصل علی

کیاہندوستان میں جمہوریت کو ایک مخصوص فکرونظر رکھنے والوں نے یرغمال بنا لیا ہے۔ کیا ملک کا دیرینہ سنسکار واقدار فسطائی قوتوں کے نرغے میں ہے۔ کیا آر ایس ایس بی جے پی کے پارلیمنٹ میں مشن 360کے تحت ملک کو نیا پیرہن دینے کی تیاری ہے۔ کیا ان سب کے لئے ووٹوں کی کانٹ چھانٹ اور ایس آئی آر کو رول ہندوستانی جمہوریت کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔ ایسے کئی سوال ہر سیکولر ذہن میں تشویش کی لہریں پیدا کررہی ہیں۔ خاص کر ایس آئی آرکا منظرنامہ ایک خوف پیدا کررہا ہے۔ ووٹ دینا ایک شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر ایک ہندوستانی شہری محض کاغذی خانہ پری کی کمی کی وجہ سے حق رائے دہی سے محروم ہوجائے تو پھر اسے ایک سانحہ عظیم ہی کہا جائے گا۔ ووٹر لسٹ سے محروم شخص کا ووٹنگ پاور کے بغیر ملک میں سکونت بھی ایک داغ سے کم نہیں ہے۔ جو اس کی حب الوطنی پر مسلسل ضرب پہنچا رہا ہے۔ سوال تو یہ ہے کیا حق رائے دہی سے محروم شخص ملک کی دوسری سہولیات سے محروم تو ہوسکتا ہے لیکن کیا وہ ایس آئی آر میں نام نہیں ہونے سے دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنا گوارہ کرے گا۔ ووٹ کی طاقت سے ملک کی ترقی کو سمت ملتی ہے۔ ووٹ کی طاقت حکومت کو زیر زبر کرتی ہے مگر وہی شہری جب ووٹ کی قوت سے محروم ہوتا ہے تو پھر اس کی حب الوطنی بے بسی کے شکنجے میں نظر آتی ہے۔ یہ وہ المناک منظرنامہ ہے جو آج ووٹ سے محروم لاکھوں افراد جھیل رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص جس کا نام ووٹر لسٹ سے غائب ہے کیا اسے ملک بدر ہونا چاہئے ، سوال تو یہ بھی ہے کہ آخر ایسے افراد جائیں گے کہاں جنھیں ایس آئی آر کا عمل نگل چکا ہے۔ حق رائے دہی یعنی ووٹ کا اختیار ایک مہذب شہری کو باوقار ہی نہیں بناتا بلکہ اسے ملک کی خدمت کا حصہ دار بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں وقتا فوقتا ووٹر لسٹ کی جانچ کی جانی چاہئے اس میں کانٹ چھانٹ ہونی چاہئے لیکن اس کانٹ چھانٹ کے تحت کسی کا ووٹ کا حق چھین لینا اور اسے دنیا کے سامنے بے وقعت قرار دینا ایک ایسا ظلم ہے جس کا کفارہ بھی ادا نہیں کیا جاسکتا۔
ایس آئی آر پر سوال ایک سال سے کھڑا ہوتا رہا ہے مگر اس کے جواب کے بجائے الیکشن کمیشن اپنی دھن میں لگا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ 19ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام ریاستوں میں بھی ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ ایس آئی آر کے ذریعہ اب تک چھ کروڑ ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے جاچکے ہیں۔ ایسے میں یہ اذیت ناک مرحلہ ہے کہ کیا واقعی اتنی بڑی تعداد میں لوگ ووٹ دینے کے اہل ہیں ہی نہیں۔ یعنی وہ ملک کے شہری ہی نہیں۔اتنی بڑی تعداد میں لوگ دستاویز نہیں حاصل کرنے کی وجہ سے اپنی ووٹ دینے کی اہلیت کو ثابت نہیں کرپائے۔ سب سے بڑا تشویش کا موضوع تو یہ ہے کہ جن لوگوں کے نام فہرست سے باہر کئے گئے ہیں ان کا مستقبل کیا ہوگا، کیا وہ ہندوستان میں رہنے کے حقدار ہیں۔ کیا ووٹنگ کے وہ حقدار ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو ان کے دوسرے بنیادی حقوق کا کیا ہوگا۔ یہ سوال اس لئے بھی اذیت ناک ہے کہ مغربی بنگال اور بہار میں گزشتہ دنوں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد جو منظرنامہ ابھرا ہے لاکھوں افراد ووٹ سے محروم کئے گئے ہیں اور اسی محرومیت کی وجہ سے نئی سرکار وجود میں آئی ہے ،خاص کر بنگال میں 27لاکھ ووٹرس کو ٹریبیونل میں بھی نہیں سنی گئی،کیا یہ نئی جمہوریت کا چہرہ ہے۔ مغربی بنگال اور بہار میں گزشتہ دنوں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد یہ اجاگر ہوا کہ دونوں ریاستوں میں ترمیم شدہ ووٹر لسٹ کے اعدادوشمار کو اب سماجی سیکورٹی سے منسلک منصوبوں میں شامل کیا جائے گا۔ اس سے بھی یہ شک گہرا ہوجاتا ہے کہ ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے افراد اب سرکاری منصوبوں کی سہولت سے بھی محروم رہیں گے۔
غورطلب ہے کہ سب سے پہلے بہار میں گزشتہ سال اسمبلی انتخابات سے قبل ایس آئی آر کا عمل شروع ہوا تھا۔ اس پر بڑا شور شرابہ ہوا تھا، کہ اتنی جلد بازی میں ایسا کیوں کیا جارہا ہے۔ الیکشن سے ٹھیک قبل اس عمل کو شروع کرنا شک وشبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد شہریت کے اسناد کولیکر بھی معاملہ ہنگامہ خیز رہا۔ ہنگاموں کا یہ سلسلہ صرف بہار تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اترپردیش ہوتے ہوئے مغربی بنگال تک پہنچ گیا۔ بہار کے ایس آئی آر میں تقریبا 65لاکھ افراد ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے، دوسرے مرحلے میں اترپردیش ، مغربی بنگال، راجستھان، چھتیس گڑھ، تمل ناڈو، کیرلہ ، پڈوچیری ، انڈمان اور نکوبار کے علاوہ گجرات ، مدھیہ پردیش اور گوا میں بھی دس فیصد سے زائد افراد ووٹر لسٹ سے نکال باہر کئے گئے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ ووٹردینے سے محروم ان افراد کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لئے آگے کیا موقع ملے گا۔ یا پھر وہ ہمیشہ کے لئے ووٹ دینے سے محروم ہوجائیں گے۔ ان کی شہریت بے وقعت ہوجائے گی۔ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ ووٹر لسٹ کی وقتا فوقتا ترمیم ضروری ہے۔ جو مرچکے ہیں ان کا نام ہٹانا ضروری ہے۔ لیکن افسوسناک امر تو یہ ہے کہ آج بھی کچھ ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل پورا ہوا ہے اور تقریبا چھ کروڑ لوگ ووٹ دینے کی طاقت سے محروم ہوچکے ہیں۔ تو پھر ملک بھر میں ایسے لوگوں کی تعداد کتنی ہوگی ،اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان کی شہریت برقرار رہے گی کہ نہیں رہے گی، کیونکہ کسی ملک کا شہری حق رائے دہی کا اختیار رکھتا ہے۔ کروڑوں افراد جو آج ووٹر لسٹ سے نکالے گیے ہیں ان کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک اذیت ناک سوال ہے۔ حالانکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا جو مخالف ہے ان کے نام ہی بڑے منصوبہ بند طریقے سے کاٹے گئے ہیں۔ ان کے ووٹ کو بے وقعت بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہرحال ایک محتاط اندازے کے مطابق ایس آئی آر سے ملک میں تقریبا دس کروڑ افراد کے ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے کا خدشہ جتایا جارہا ہے۔بہرحال ووٹر لسٹ سے باہر کئے گئے لوگوں کی شہریت پر ایسی تلوار لٹکی ہے جو کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے۔ ایسے مظلوم افراد کا مستقبل اندھیرے میں ہے۔ ایسے میں یہ تعین کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ کہ انھیں پھر موقع ملنا چاہئے تاکہ کوئی معمولی دستاویز کی کمی کی وجہ سے ووٹر لسٹ سے خارج نہ ہو۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جمہوریت صحیح معنیٰ میں تبھی زندہ رہتی ہے جب وہاں کے شہریوں کے ووٹنگ کے حقوق محفوظ ہوں اور یہ شہری غیر جانبداری اور شفافیت سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔ سیاست کے نئے کھیل سے کروڑوں افراد متاثر ہورہے ہیں۔ اس میں باشعور افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مظلوم افراد کی مدد کریں جو دستاویز مہیا نہیں کرنے کی وجہ سے یا کسی مجبوری کی وجہ سے ایس آئی آر سے ان کا نام غائب ہے،جو سیکڑوں سال سے ہندوستان کی دھرتی پر مقیم ہیں مگر بھگوا سیاست کا ایسا بول بالا ہے کہ حق بات کہنا بھی جرم بن گیا ہے اور باطل پر خموشی مجبوری بن گئی ہے۔ بقول نعمان شوق

جمہوریت کے بیچ پھنسا اقلیت کا دل
موقع جسے جدھر سے ملا وار کردیا

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network