دیش

فیصلوں میں اے آئی کا استعمال خطرناک

Published

on

نئی دہلی :سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے قانونی مثالوں کا استعمال انتہائی خطرناک ہے۔ کورٹ نے کہا کہ یہ خطرہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا بھوپال گیس المیہ میں زہریلی گیس کا رسائو تھا۔
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس ارادھے کی بنچ نے نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (ایل سی ایل ٹی) کے فیصلے کو منسوخ کردیا اور کہا کہ اے آئی سے بنائے گئے جھوٹے اور غیر موجود فیصلوں کو کورٹ میں اصلی بتا کر پیش کرنا نظام عدل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے معاملوں میں عدالتوں کو بالکل نرمی نہیں دکھانی چاہئے۔
غورطلب ہے کہ ایل سی ایل ٹی میں اپنے فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے جن قانونی معاملوں کو حوالہ دیا تھا ان میں کئی معاملے اصل نہیں تھے۔ فیصلوں میں کچھ معاملوں کا نام لکھا گیا تھا جو پوری طرح نقلی تھے۔ ان کا قانونی سائٹیشن بنایا گیا تھا۔ ان کا کوئی حقیقی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
جموں وکشمیر بینک لمیٹڈ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دیا تھا کہ ان کے وکیل نے نقلی حوالہ نہیں دیا تھا یہ ریسرچ کا موضوع ہے۔ عدالت میں کہا کہ وہ اے آئی کے خلاف نہیں بلکہ اس کی غلط جانکاری کے خلاف ہے، اس لئے اے آئی کا استعمال انتہائی ہوشیاری ، جانچ پڑتال اور انسانی نگرانی میں کی جانی چاہئے۔
اگر کوئی وکیل بنا کسی جانچ کے اے آئی کی جانکاری کو کورٹ میں پیش کرتا ہے تو اس کی پیشہ ورانہ غلطی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی جج بھی ایسی غلط جانکاری پر بھروسہ کرتا ہے تو یہ سنگین غلطی مانی جائے گی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نظام عدل میں ایمانداری اور بھروسہ بنائے رکھنا ضروری ہے۔ اے آئی کا استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن جانچ اور فیصلہ انسانی ذہن کے مطابق ہونا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network