Bihar
حکومت عام لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں،بہار کے نائب وزیراعلیٰ بیجندر پرساد یادو نے سہیوگ شیویر کا کیا معائنہ،ضلع کی 40 پنچایتوں میں کیمپوں کاکیا گیا انعقاد
چھپرا:بہار حکومت کی اختراعی پہل سہیوگ شیویر کے تحت ضلع کے کل 40 پنچایتیوں میں کیمپ کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ اور سارن کے انچارج وزیر بیجندر پرساد یادو مہمان خصوصی کے طور پر ضلع کی تین مختلف پنچایتوں میں منعقدہ سہیوگ شیوروں میں شریک ہوئے۔انہوں نے بالترتیب سونپور بلاک کے نیاگاؤں پنچایت،دگھوارا کے آمی پنچایت اور رکھا کے فیروسا پنچایت میں منعقد کیمپوں میں حصہ لیا اور عوام سے بات چیت کی۔
اپنے خطاب میں نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار حکومت پنچایت سطح پر سہیوگ شیور کا انعقاد کر رہی ہے تاکہ عام شہریوں کو ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دفاتر کے چکر لگانے کی پریشانی سے نجات مل سکے۔انہوں نے کہا کہ کیمپوں میں موصول ہونے والی شکایات اور درخواستوں پر مقررہ مدت میں کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی کے لیے 30 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔مقررہ مدت میں ریزولوشن مکمل کیا جائے گا۔جو اہلکار یا افسر ڈیڈ لائن پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سب کا سمان،زندگی آسان کے تحت ریاستی حکومت کے سات نشچئے-3 کا ایک اہم جزو کے تحت حکومت عام لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے براہ راست پنچایت سطح تک پہنچ رہی ہے۔انہوں نے ضلع کے باشندوں سے اپیل کی کہ وہ سہیوگ شیویر کے ذریعے اپنے مسائل اور شکایات درج کر کے اس اہم اقدام کا فائدہ اٹھائیں۔
ڈپٹی سی ایم نے کہا کہ سہیوگ کیمپ میں درخواستیں جمع کرانے کے علاوہ شہری اپنی شکایات اور درخواستیں سہیوگ پورٹل کے ذریعے آن لائن بھی جمع کر سکتے ہیں۔ریاستی حکومت نے اس مقصد کے لیے sahyog.bihar.gov.in پورٹل تیار کیا ہے۔جہاں درخواست کی صورتحال پر بھی نظر رکھی جا سکتی ہے۔
کیمپ کے دوران پہلے موصول ہونے والی اور پراسیس شدہ درخواستوں کے مستفیدین کو رقم،برتھ سرٹیفکیٹ،راشن کارڈ،معذوری سرٹیفکیٹس اور بیت الخلا تعمیر کے مراعات تقسیم کئے۔کیمپ میں مختلف محکموں کے افسران اور عملے نے عوام سے شکایات اور درخواستیں موصول کیں اور بہت سے مسائل کو موقع پر ہی حل کیا گیا۔اس موقع پر ڈی ایم ویبھو سریواستو،ایس ایس پی ونیت کمار،متعلقہ بلاکس کے عہدیدار ، عوامی نمائندے اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔