Bihar
جنتا دربار میں 68 مقدمات کی سماعت،ارریہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے جلد عمل درآمد کی دی ہدایت
(پی این این)
ارریہ:سات نشچے 3 کے تحت نافذ کئےگئے “سب کا سمان – زندگی آسان” پروگرام کے ایک حصے کے طور پر گزشتہ کل کلکٹریٹ کے پرمان آڈیٹوریم میں ایک عوامی سماعت( جنتا دربار ) کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ، مسٹر ونود دوہن نے کی۔ میٹنگ کے دوران ضلع کے مختلف بلاکوں کے باشندوں کے مسائل اور شکایات سنے گئے۔ کل 68 مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے متعلقہ محکموں کے افسران کو تمام معاملات کے فوری طور پر منصفانہ اور موثر حل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
سماعت کے دوران کرسا کانٹا بلاک کے ڈھواباڑی کے رہنے والے محمد علی کلام نے گاؤں والوں کی طرف سے سرکاری زمین کی فروخت کے بارے میں شکایت درج کرائی۔ اس طرح جوکی ہاٹ بلاک کے چلہنیا پنچایت کے ملہریا گاؤں کے لوگوں نے ایک اجتماعی درخواست جمع کرائی جس میں ہیلتھ سب سنٹر کی اراضی کو تجاوزات سے بچانے اور اس کی باقاعدہ کارروائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ رانی گنج بلاک کے کھرہاٹ بارموتھرا کی رہنے والی کوشلیا دیوی نے شکایت کی کہ خریدی گئی زمین ایک فرضی شخص کے ذریعے فروخت کی گئی تھی۔ کرسا کانٹا بلاک کے لکشمی پور کے رہنے والے جے نارائن پاسوان نے لال کارڈ کے تحت زمین پر قبضے کی درخواست کی۔ نرپت گنج کے گوکھلا پور کے رہنے والے یوگدھر رام نے زمین کے ریکارڈ میں غلطیاں درست کرنے کے لئے درخواست دی تھی۔ اس دوران بڈیپارہ کے رہنے والے راجیندر رشی دیو نے زمین کی تصفیہ کا مطالبہ کیا۔
رانی گنج بلاک کے گوپال پور پریہار کے رہنے والے محمد صابر باسط نے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی درخواست کی، جب کہ تلکوباری کی رہنے والی عجلیفہ خاتون نے زمین کی منتقلی کے عمل پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ بھگت ٹولہ کے رہنے والے گوپی لال نے شکایت کی کہ رعیت اراضی کو قواعد کے خلاف نااہل افراد اور ٹرسٹوں کو منتقل کیا جارہا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ارریہ میونسپل کونسل کے وارڈ نمبر 17 میں تقریباً چار ماہ قبل تعمیر کی گئی سڑک کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کی شکایت درج کروائی گئی تھی۔
عوامی سماعت کے دوران ضلع مجسٹریٹ نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ موصول ہونے والی درخواستوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور مقررہ مدت میں ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں، تاکہ عام لوگوں کو جلد انصاف اور ریلیف مل سکے۔