Bihar
جامعہ نورالفلاح للبنات ارریہ میں شانداراورپرکشش انداز میں کی گئی پرچم کشائی،طالبات نے جوش وخروش کے ساتھ منایایومِ آزادی کا جشن اور حب الوطنی کاپیش کیا ثبوت
(پی این این)
ارریہ: دینی تعلیمی و تربیتی ادارہ”جامعہ نورالفلاح للبنات”، نور نگر مٹیاری، پوسٹ باغ نگر، ضلع ارریہ میں80 ویں یومِ آزادی کے موقع پر ادارہ کے بانی اور مہتمم مولانا زبیر احمد مظاہری نے پرچم کشائی کی اور گارجین سمیت مقامی لوگوں اور تمام طالبات، اساتذہ اور معلمات کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر طالبات، اساتذہ اور معلمات کے جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا، کیوں کہ پرچم کشائی کے وقت قومی پرچم لہراتا ہوا ایک نہایت دل کش اور ایمان افروز منظر پیش کر رہا تھا۔
طالبات نے قومی جذبے کے ساتھ قومی ترانہ پیش کیا اور ملک کی ترقی، امن و سلامتی اور خوش حالی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ یہ خوب صورت منظر اس بات کی علامت تھا کہ یہاں کی بچیاں علم و تربیت کے ساتھ وطن سے محبت اور قومی ذمہ داری کا جذبہ بھی اپنے دلوں میں رکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو امن، ترقی اور خوش حالی عطا فرمائے اور جامعہ نورالفلاح للبنات کو دن دگنی رات چوگنی ترقی سے مالا مال کردے۔ پرچم کشائی کے بعد سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا اور ملی نعروں سے جامعہ کا کیمپس گونج اٹھا۔ پرچم کشائی کے بعد تقریب کے شرکاء اور طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ کے بانی مولانا زبیر احمد مظاہری نے یوم آزادی کی حقیقی روح اور تحریک آزادی میں علمائے ہند اور دیگر طبقات کے لازوال کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے انتہائی پر عزم انداز میں شیخ الہند مولانا محمود مدنی دیو بندی کی انقلابی اور تاریخی جد و جہد کا تفصیلی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کس طرح شیخ الہند نے برطانوی استعمار کی جڑیں بلانے کے لیے پہلی جنگ عظیم کے دوران بین الاقوامی سطح پر عثمانی حکومت اور افغانستان کی مدد سے ایک منظم مسلح تحریک کا آغاز کیا تھا، جو تاریخ میں ریشمی رومال تحریک کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ انگریز حکومت کو جب اس خفیہ اور منظم تحریک کا پتہ چلا تو آپ کو مکہ مکرمہ سے گرفتار کر کے بحیرہ روم میں واقع بد نام زمانہ جزیرے مالٹا کی جیل میں قید وبند اور تنہائی کی صعوبتیں جھیلنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ آپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج کی نئی نسل کو آزادی کے متوالےکی عظیم قربانیوں سے مکمل طور پر واقف کرانا ہمارا اخلاقی او ملی فریضہ ہے، تا کہ وہ جان سکیں کہ یہ آزادی کتنی قیمتی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ آپ نے اپنے خطاب میں جامعہ کے نظام تعلیم اور اس کے بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا ادارہ بچوں کو محض تاریخ کے چند صفحات اور سیاسی روایات رٹانے کا کام نہیں کرتا، بلکہ انہیں یہ سکھاتا ہے کہ آزادی کی یہ نعمت کیسے برقرار رکھی جاسکتی اور وہ ایک صالح شہری بن کر ملک وقوم کی کس طرح بہتر خدمت انجام دے سکتی ہیں۔ یہاں اس ابتدائی تعلیم سے لے کر ثانوی سطح تک کی تمام تعلیم مکمل اسلامی اور پاکیزہ ماحول میں دی جاتی ہے، جہاں تربیت یافتہ اور علم وعمل سے لیس اساتذہ کرام اور معلمات اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، لہذا اگر ملت اسلامیہ اور ہمارے نو نہالوں کو دنیا میں آگے بڑھانا ہے تو انہیں دینی اقدار پر کار بند رہتے ہوئے سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ پرچم کشائی کی تقریب کے اختتام پر تمام طالبات اور گارجین حضرات کے مابین مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور آخر میں ایک بار پھر سے مقامی لوگوں اور بچیوں کے گارجین کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیشقرتے ہوئے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان سے ہر طرح کی اعانت کی پرزور اپیل کی۔