Bihar
بہار کے تمام اسپتالوں میں دستیاب ہوں گی علاج کی تمام سہولتیں،تمام 36 ضلعی اسپتالوں کوجدید آلات سے لیس کرنے کی تیاریاں شروع، وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے مقرر کر دی ڈیڈ لائن
(پی این این)
پٹنہ:بہار کے تمام ضلعی اسپتالوں کو 15 اگست سے پہلے سپر اسپیشلٹی اسپتالوں کے طور پر ترقی دینے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کے اعلان اور وزیر صحت نشانت کے احکامات کے بعد محکمہ صحت نے ریاست کے تمام 36 ضلعی اسپتالوں کو سپر اسپیشلٹی اسپتال بنانے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔اس منصوبے کے تحت ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی، جدید طبی تشخیصی آلات کی فراہمی اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو غیر ضروری طور پر ریفر کرنے کے نظام کے انکشاف کے بعد حکومت نے یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔
ان اسپتالوں میں سپر اسپیشلٹی سطح کی صحت سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ ضلعی سطح پر ہی شدید مریضوں کا مؤثر علاج ممکن ہو سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سنگین مریضوں کو میڈیکل کالج اسپتالوں کی طرف ریفر کرنے کے رجحان کو روکا جا سکے۔وسائل کی کمی کا بہانہ بنا کر مریضوں کو دوسرے اداروں میں بھیجنے کی ضرورت کم ہو جائے گی اور مقامی سطح پر ہی ہنگامی طبی علاج کی سہولت دستیاب ہو سکے گی۔
ضلعی اسپتالوں میں انڈین پبلک ہیلتھ اسٹینڈرڈز (آئی پی ایچ ایس) کے مطابق وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گی۔ یہاں نیورولوجی، کارڈیالوجی، آنکولوجی اور نیفروالوجی جیسی طبی خصوصی شاخوں کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ ماہر ڈاکٹر تعینات کیے جائیں گے۔اس کے ساتھ جدید ترین تشخیصی ٹیکنالوجی، 24×7 کریٹیکل کیئر (آئی سی یو) اور پیچیدہ سرجری کے لیے ماڈیولر آپریشن تھیٹر جیسی سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہوں گی۔ ان اسپتالوں میں نہ صرف عام معالج بلکہ دل، سرطان اور دماغی امراض کے علاج میں مہارت رکھنے والے تجربہ کار سپر اسپیشلسٹ ڈاکٹر بھی خدمات انجام دیں گے۔
شدید مریضوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کے لیے وینٹی لیٹر، ڈائیلیسز یونٹ اور کارڈیک مانیٹر سے لیس جدید آئی سی یو قائم کیے جائیں گے۔ اسی طرح اعضا کی پیوند کاری (آرگن ٹرانسپلانٹ) یا دماغی سرجری جیسی پیچیدہ اور خطرناک جراحی کو جراثیم سے پاک اور محفوظ ماحول میں انجام دینے کے لیے جدید ترین ماڈیولر آپریشن تھیٹر کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ان اسپتالوں میں کیتھ لیب کے علاوہ سرجری یا سنگین بیماری کے بعد مریضوں کی بحالی کے لیے فزیوتھراپی اور ری ہیبِلیٹیشن سینٹر بھی موجود ہوں گے۔ ہنگامی حالات میں چوبیس گھنٹے ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ محفوظ خون کی منتقلی کے لیے اسپتال کے احاطے میں ہی بلڈ بینک کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
درحقیقت گزشتہ چند برسوں سے بہار کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو ہائر سینٹر ریفر کرنے کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔ ریفر کے نام پر پرائیویٹ اسپتالوں میں مریضوں کو زبردستی داخل کروا کر مبینہ طور پر وصولی اور غیر قانونی کمائی کا کاروبار چلایا جاتا ہے۔غریب مریضوں کے اہلِ خانہ دلالوں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ ان دلالوں کے ساتھ مبینہ طور پر سرکاری اسپتالوں کے کچھ ڈاکٹر بھی ملی بھگت میں شامل ہوتے ہیں۔