Bihar
بہار میں پنچایت انتخابات میں تاخیر کا امکان، نہ ہی ریزرویشن کا عمل ہوا ہے شروع اور نہ ہی ووٹر لسٹ ہوئی جاری
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں پنچایت عام انتخابات کے مقررہ وقت، یعنی دسمبر 2026 تک مکمل ہونے پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ انتخابات کے لیے عہدوں کے اعتبار سے ریزرویشن کے تیسرے مرحلے کا عمل اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔ ادھر موجودہ ریاستی الیکشن کمشنر کی مدتِ کار ختم ہونے میں بھی صرف تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔اب تک پنچایت انتخابات کے سلسلے میں صرف 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر مختلف عہدوں کے لحاظ سے آبادی کا تعین کرکے اس کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ دوسری جانب رواں سال کے چھ ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ووٹر لسٹ کی اشاعت، پولنگ مراکز کے تعین اور ریزرویشن جیسے اہم انتخابی مراحل کے آغاز کے لیے بھی ابھی تک کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
ادھر ریاستی الیکشن کمیشن کے موجودہ الیکشن کمشنر ڈاکٹر دیپک پرساد کی مدتِ ملازمت ختم ہونے میں بھی تقریباً تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ ان کی میعاد 27 جولائی 2026 کو مکمل ہو جائے گی۔بھارتی انتظامی خدمت (آئی اے ایس) کے افسر ڈاکٹر دیپک پرساد کو 2020 میں ریاستی الیکشن کمیشن کا کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2025 میں ان کی مدتِ کار میں ایک سال کی توسیع کی گئی تھی۔
اب اگر ریاستی حکومت نئے ریاستی الیکشن کمشنر کا تقرر کرتی ہے تو کمیشن کی سرگرمیوں کو دوبارہ پوری رفتار سے بحال کرنے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔ اور اگر نئے کمشنر کی تقرری میں تاخیر ہوئی تو محدود وقت میں پنچایت انتخابات کی تیاریوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔نئے الیکشن کمشنر کو سب سے پہلے نو تشکیل شدہ شہری بلدیاتی اداروں (اربن لوکل باڈیز) سمیت دیگر بلدیاتی اداروں میں انتخابات کے عمل کا آغاز بھی کرنا ہوگا۔
بہار پنچایتی راج ایکٹ، 2006 کے مطابق پنچایت انتخابات کے لیے ریاستی الیکشن کمیشن کی ہدایت، نگرانی اور کنٹرول میں ضلع سطح پر مختلف عہدوں کے لیے ریزرویشن کا تعین کیا جانا لازمی ہے۔پہلی بار ریزرویشن کا تعین 2006 میں کیا گیا تھا، جبکہ اس کے بعد مسلسل دو انتخابی ادوار مکمل ہونے پر 2016 میں دوسری مرتبہ ریزرویشن مقرر کیا گیا۔ اب تیسرے مرحلے میں تمام عہدوں کے لیے نئے سرے سے ریزرویشن کا تعین کرنا قانونی طور پر ضروری ہے۔اس عمل کے تحت تقریباً ڈھائی لاکھ عہدوں کے لیے ریزرویشن مقرر کیا جانا ہے۔ تاہم اس معاملے پر نہ ریاستی الیکشن کمیشن اور نہ ہی ریاستی حکومت نے اب تک کوئی باضابطہ پیش رفت یا اعلان کیا ہے۔