Bihar
بھاگلپور:4 سال سے فائلوں میں قید 20 کروڑ کی بُنکر اسکیم،سلک سٹی کے بُنکروں کی جدید تربیت کا خواب ادھورا، 2022 میں اعلان کے بعد بھی سردارپور میں شروع نہیں ہوئی تعمیر
(پی این این؍سعید انور)
بھاگلپور:سلک سٹی کے بُنکروں کو جدید تربیت، تکنیکی سہولت اور روزگار کے بہتر مواقع دینے کے لیے سال 2022 میں اعلان کردہ تقریباً 20 کروڑ روپے کی ملٹی پرپز عمارت اسکیم چار سال بعد بھی زمین پر نہیں اتر سکی ہے۔ سردارپور (ناتھ نگر) میں تقریباً 25 کٹھہ زمین پر تربیتی مرکز، گیسٹ ہاؤس اور اجتماعی عمارت بنانے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اب تک تعمیراتی کام شروع نہ ہونے سے اسکیم کی افادیت اور بُنکروں کے مفاد میں خرچ ہونے والی رقم کو لے کر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اسکیم کے تحت چمپانگر، ناتھ نگر، نرگا اور تانتی بازار سمیت آس پاس کے بُنکروں کو ایک ہی چھت کے نیچے جدید ٹیکنالوجی، پیداواری صلاحیت اور سرکاری اسکیموں کی تربیت دینے کی تجویز تھی۔ باہر سے آنے والے نمائندوں اور تربیت حاصل کرنے والوں کے لیے گیسٹ ہاؤس کی سہولت بھی تجویز کی گئی تھی۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ مرکز بھاگلپور کی بُنکری صنعت کو نئی ٹیکنالوجی سے جوڑنے اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
سال 2022 میں اعلان کے بعد بُنکروں کو امید تھی کہ جلد ہی تربیتی مرکز کی تعمیر شروع ہوگی۔ مگر چار سال گزر گئے اور اسکیم اب بھی کاغذات سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔ تعمیر شروع نہ ہونے سے مقامی بُنکروں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ان کا سوال ہے کہ جب اسکیم بُنکروں کی تربیت اور روزگار کے لیے تھی تو اب تک اس کے نفاذ میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔
اسی علاقے میں تقریباً 40 سال سے بند پڑی صنعتی اکائی کو دوبارہ شروع کرانے کا مطالبہ بھی اٹھ رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بند اکائی کو دوبارہ زندہ کرنے کے ساتھ 20 کروڑ کی تربیتی اور سہولت مرکز اسکیم کو زمین پر اتارا جائے تو ناتھ نگر کی بُنکری صنعت کو نئی طاقت مل سکتی ہے۔ اس سے مقامی نوجوانوں کو روزگار اور بُنکروں کو جدید ٹیکنالوجی اور بازار سے جڑنے کا موقع ملے گا۔
بی جے پی ضلع ترجمان ڈاکٹر ابھی نندن یادو نے معاملے کو سنگین بتاتے ہوئے صنعت وزیر کو خط بھیج کر اسکیم کی اعلیٰ سطحی جانچ اور احیاء کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بُنکروں کے نام پر دستیاب کرائی گئی رقم کا مناسب استعمال ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کروڑوں روپے کی اسکیم چار سال بعد بھی شروع نہیں ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس کی ہے۔
ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بُنکروں کے لیے مقررہ رقم کو یوں ہی برباد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے صنعت وزیر سے پورے معاملے کی جانچ کرا کے اسکیم کو جلد از جلد زمین پر اتارنے اور سردارپور کی برسوں سے بند صنعتی اکائی کو دوبارہ شروع کرانے کی سمت میں پہل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ مقامی نوجوانوں کو روزگار مل سکے۔اب بڑا سوال یہی ہے کہ 20 کروڑ روپے کی یہ اسکیم آخر چار سال سے کہاں اٹکی ہے، تعمیر کی کارروائی کیوں شروع نہیں ہوئی اور بُنکروں کے لیے تجویز کردہ سہولیات کا فائدہ انہیں کب ملے گا؟ سلک سٹی کے بُنکر اب اعلان نہیں، اسکیم کے زمین پر اترنے کا انتظار کر رہے ہیں۔