uttar pradesh

انصاف و انسانیت پر مبنی سیاست سے ہی ملک بنے گا وشو گرو : ڈاکٹر ایوب

Published

on

(پی این این)
سنت کبیر نگر:ملک میں نفرت کی سیاست نے جہاں دو فرقوں میں خلیج پیدا کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو سبوتاژ کر رہی ہے ،وہیں ملک کی شبیہ بیرونی ملکوں میں خراب ہو رہی ،مگر حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے، وہ بلڈورز سے ان کی عبادت گاہوں و گھروں کو منہدم کر کے فخر محسوس کر رہی ہے اور اس کی حامی تنظیمیں مسلسل مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا کام کر رہی ہیں۔حکومت پولرائزیشن کی سیاست کے علاوہ ملک کے مفاد میں کوئی مثبت قدم اٹھاتے ہوئے اس پر قدغن نہ لگایا تو یہ ملک کے لئے بہتر نہیں ہوگا اور دنیا میں اس کی شبیہ کو مزید نقصان پہنچے گا۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے دنیا میں ملک کی خراب ہوتی شبیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انصاف و انسانیت پر مبنی سیاست سے ہی ملک وشوا گرو بنے گا۔
ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ملک میں روز بروز انصاف و انسانیت کو مجروح کر ملک کے بھائی چارے کی فضا کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے ،یہ محض اقتدار میں بنے رہنے کے لئے بی جے پی نفرت کی سیاست پر گامزن ہے ،اور حامی تنظیموں کے شرپسندوں کے ذریعہ کئے جا رہے ظلم پر خاموشی صرف پولرائشن کی راہ کو ہموار بنانے میں کوشاں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے بغیر کسی ثبوت کے مساجد و مزارات و گھروں کو غیرقانونی قرار دے کر منہدم کیا جارہا ہے، یہ غیر قانونی و غیر آئینی ۔ بی جے پی کے پاس صرف ہندو مسلم کی سیاست کے علاوہ ترقی کا کوئی ایشو نہیں ہے۔ ملک میں گھپلے کا سیلاب ہے۔
ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ ملک میں ایک جانب بےروزگاری و مہنگائی عروج پر ہے، روزبروز مہنگائی کے اضافہ سے عام شخص پریشان ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بڑی خاموشی کے ساتھ اضافہ کیا جا رہا ہے ۔پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے غریب و کمزور طبقے کو بھکمری کی دہلیز پر پہنچا دیا ہے۔ دہاڑی مزدور و اوسط درجہ کے لوگ مہنگائی کے سبب اپنے بچوں کی تعلیم دلانے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑی خاموشی کے ساتھ دواوں کی قیمتوں مزید اضافہ سے غریب و کمزور طبقہ کو علاج کرانے میں دشواری پیش آرہی ہے،لیکن حکومت اس مہنگائی و بے روزگاری پر قدغن لگانے کے برعکس اپنے اقتدار کی فکر ہے اور اقتدار پر قبضہ بنائے رکھنے کے مقصد سے وہ نفرت کی سیاست پر گامزن ہے ،اس کو عوام کی کوئی فکر نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اکثریت کو اب آہستہ آہستہ سمجھ میں آرہا ہے،مگر بی جے پی حامی نفرت کی سیاست کے سبب مسلسل اکثریت کو مذہب کی بنیاد پر گمراہ کر تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر بی جے پی اقدار پر برقرار نہ رہی تو ہندوتوا خطرے میں آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان حالات حاضرہ پر غور فکر کے ساتھ اپنی قیادت پیس پارٹی کے پرچم کے نیچے جمع ہوکر اپنی سیاسی کامیابی کی راہ ہموار بنائیں ۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network