Bihar

اسلحہ کے زور پر زمین پر قبضہ کرانے والا بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش،3گرفتار

Published

on

گیا جی : گیا پولیس نے زمین مافیا کے لیے اسلحہ کے زور پر زمینوں پر قبضہ کرانے والے ایک منظم گینگ کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین شاطر نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈیلہا تھانہ پولیس کی کارروائی میں ایک لگژری مہندرا XUV-700، ایک لوڈڈ دیسی پستول، چھ زندہ کارتوس اور چار موبائل فون برآمد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان زمینی تنازعات میں خوف و ہراس پھیلا کر زمین پر قبضہ دلانے کا کام کرتے تھے اور اس کے عوض بھاری رقم وصول کرتے تھے۔
ایس ایس پی سشیل کمار کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ جھارکھنڈ نمبر کی ایک لگژری ایس یو وی میں سوار چند افراد غیر قانونی اسلحہ کے ساتھ ٹکاری کی جانب سے گیا شہر میں داخل ہو رہے ہیں۔ اطلاع کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ٹاؤن ڈی ایس پی-2 دھرمیندر کمار بھارتی کی قیادت میں ڈیلہا تھانہ پولیس نے خصوصی گاڑی چیکنگ مہم شروع کی۔
ٹکاری روڈ پر جانچ کے دوران پولیس کی نظر ایک مشتبہ XUV-700 پر پڑی۔ پولیس ٹیم کو دیکھتے ہی گاڑی میں سوار نوجوان گھبرا گئے، جس کے بعد انہیں روک کر تلاشی لی گئی۔
تلاشی کے دوران گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے محمد چاند بادشاہ کی کمر سے ایک لوڈڈ دیسی پستول اور چھ زندہ کارتوس برآمد ہوئے۔ اس کے علاوہ گاڑی سے چار موبائل فون اور زمین کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والا فیتہ بھی ملا۔ برآمد شدہ سامان نے پولیس کے شبہات کو مزید مضبوط کر دیا کہ ملزمان کسی زمینی تنازع سے متعلق کارروائی کے لیے نکلے تھے۔

گرفتار ملزمان کی شناخت محمد چاند بادشاہ (علی گنج روڈ نمبر 10، چاندوتی تھانہ)، اعجاز ملک (نیو کریم گنج روڈ نمبر 16، سول لائنس تھانہ) اور محمد فاروق (بارا گاؤں، چاکند تھانہ) کے طور پر ہوئی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق پوچھ گچھ میں ملزمان نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ زمین مافیا کے لیے کام کرتے تھے اور اسلحہ کا خوف دکھا کر زمین پر قبضہ دلانے کے ٹھیکے لیتے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان ممکنہ طور پر پنچان پور علاقے میں کسی زمین پر قبضہ کرانے کی کارروائی انجام دے کر واپس لوٹ رہے تھے۔

پولیس ریکارڈ کی جانچ میں محمد چاند بادشاہ کا مجرمانہ پس منظر بھی سامنے آیا ہے۔ وہ اس سے قبل سول لائنس اور چاندوتی تھانہ علاقوں کے مختلف مقدمات میں پولیس کی نظر میں رہ چکا ہے۔ اس سے تفتیشی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ یہ گینگ کافی عرصے سے ضلع میں سرگرم تھا اور زمین کے کاروبار سے جڑے تنازعات میں غنڈہ گردی اور رنگداری کے ذریعے اثر و رسوخ قائم کیے ہوئے تھا۔

ڈی ایس پی-2 دھرمیندر بھارتی نے بتایا کہ گرفتار نوجوانوں کے موبائل فون، رابطوں اور مالی لین دین کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس یہ بھی معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ برآمد شدہ پستول کہاں سے لائی گئی اور اس کے پیچھے کون سا اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک سرگرم ہے۔ اس کے علاوہ  کے انجن نمبر، چیسس نمبر اور ملکیت کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

ڈی ایس پی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے اشارہ ملا ہے کہ اس گینگ کے روابط صرف بہار تک محدود نہیں بلکہ مغربی بنگال تک پھیلے ہو سکتے ہیں۔ پولیس اب ان زمین مافیاؤں کی شناخت میں جٹ گئی ہے جن کے تحفظ میں یہ گینگ کام کر رہا تھا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی پورے نیٹ ورک کا بڑا انکشاف ہوگا۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ ضلع میں زمین مافیا، رنگداری اور غیر قانونی اسلحہ کے سہارے زمین پر قبضہ کرنے والے عناصر کے خلاف مہم مسلسل جاری رہے گی اور ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network