دلی این سی آر
مہیلا سمان اور سنجیوانی یوجنا حاصل کرنے کیلئے دہلی کا ووٹر ہونا ضروری :کجریوال
نئی دہلی : دہلی میں مہیلا سمان یوجنا اور سنجیوانی یوجنا کے لیے رجسٹریشن کل سے شروع ہونے جا رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے آج ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ تاہم، ان دونوں اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے والوں کے لیے ایک شرط ہے۔ ان دونوں اسکیموں کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دہلی کے ووٹر ہوں گے۔
کیجریوال نے کہا، مہیلا سمان یوجنا اور سنجیوانی یوجنا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے دہلی کا ووٹر ہونا ضروری ہے۔ ایسے میں ہر کسی کو اپنے اپنے گھروں میں ووٹر کارڈ تیار رکھنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ویب سائٹ پر جائیں اور دیکھیں کہ ان کا ووٹ کینسل ہوا ہے یا نہیں۔
بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بہت بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹ سے لوگوں کے نام ہٹا رہے ہیں۔ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ آپ کو کسی اسکیم کا فائدہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم آنے کی صورت میں اپنے ووٹر کارڈ تیار رکھیں۔ ووٹ کٹے تو ہم جڑواں بچے کرائیں گے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی ووٹ نہیں ہے تو، براہ کرم ہمیں بتائیں اور ہم اسے مکمل کریں گے۔
12 دسمبر کو، کیجریوال نے دہلی حکومت کی طرف سے مہیلا سمان یوجنا شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں واپس آتی ہے تو اس رقم کو بڑھا کر 2,100 روپے کر دیا جائے گا۔
دوسری طرف، آتشی نے کہا تھا کہ موجودہ مالی سال کے اختتام سے پہلے، خواتین کو اس اسکیم کے تحت 31 مارچ 2025 تک ایک یا دو قسطیں ملیں گی۔ یہاں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے آتشی نے کہا کہ یہ اسکیم خواتین کو بااختیار بنانے کے حکومت کے وعدے کو پورا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے خواتین کو 1000 روپے کی امداد فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا ہے۔ اس اقدام کو روکنے کے لیے اپوزیشن کی تمام کوششوں کے باوجود، ہم نے اسے کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے۔” آتشی نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد خواتین کو مالی آزادی فراہم کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان کے پاس اپنے خاندانوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے کافی رقم نہ ہو۔ ارکان پر منحصر ہے۔
آتشی نے کہا تھا کہ موجودہ یا سابق مستقل سرکاری ملازمین، وہ خواتین جو ایم پی ہیں یا رہ چکی ہیں، ایم ایل اے یا کونسلر ہیں، وہ خواتین جنہوں نے پچھلے مالی سال میں انکم ٹیکس ادا کیا ہے اور جو پہلے ہی کسی قسم کی پنشن حاصل کر رہی ہیں۔ اس اسکیم کا فائدہ نہیں پائیں گی ۔
عام آدمی پارٹی کی حکومت نے دہلی میں 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو مفت علاج فراہم کرنے کے لیے سنجیوانی یوجنا شروع کی ہے۔ 18 دسمبر کو اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ انتخابات کے بعد ہماری پارٹی کی حکومت بننے کے بعد ہم سنجیوانی اسکیم کو نافذ کریں گے اور دہلی میں 60 سال سے زیادہ عمر کے ہر بزرگ کا مفت علاج کریں گے۔
کیجریوال نے کہا کہ اگر ہماری حکومت بنتی ہے تو ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے تمام بزرگوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ ہم بزرگوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہمارا وجود ہے۔ آج ملک جہاں تک پہنچ گیا ہے اسے بزرگوں نے پہنچایا ہے۔ بزرگوں نے 24 گھنٹے محنت کی، خون پسینہ بہایا، اپنے خاندان کی پرورش کی، معاشرے کو آگے بڑھایا اور ملک کو آگے لے گئے۔ ان کے بچے ہونے کے ناطے ان کے بڑھاپے میں ان کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ ہم نے دہلی میں ‘وزیر اعلیٰ یاترا اسکیم’ کو نافذ کیا۔ اس اسکیم کے تحت اب تک ملک کے کونے کونے میں تقریباً ایک لاکھ بزرگ یاترا پر گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑھاپے میں ایک چیز سب کو پریشان کرتی ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے سو بیماریاں انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ آدمی کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ اس کا علاج کیسے ہو گا۔ آج میں دہلی کے بزرگوں کے لیے ‘سنجیوانی یوجنا’ کا اعلان کر رہا ہوں۔ 60 سال سے زائد عمر کے تمام بزرگوں کا مفت علاج کیا جائے گا۔ ہم اس سکیم کو انتخابات کے بعد پاس کریں گے۔
دلی این سی آر
دلی کے آر ایم ایل اسپتال میں مریضوں کی زندگیوں سے مبینہ کھلواڑ
(پی این این)
نئی دہلی: ملک کے اہم سرکاری اسپتالوں میں شمار ہونے والے دہلی کے رام منوہر لوہیا( آر ایم ایل) اسپتال میں مریضوں کے علاج اور جانوں کے تحفظ کو لے کر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ الزام ہے کہ اسپتال کے ٹراما سینٹرکے نیوروسرج ڈپارمنٹ سمیت مختلف شعبوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حد درجہ لاپروائی کے باعث مریضوں کو بروقت اور مناسب علاج نہیں مل پا رہاہے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر روزانہ کئی مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
مریضوں اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سنگین حالت میں اسپتال پہنچنے والے مریضوں کو فوری طبی امداد ملنا ضروری ہے، لیکن علاج میں تاخیر، ڈاکٹروں کی عدم توجہی اور مریضوں کی شکایات کو سنجیدگی سے نہ لینے جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ خاص طور پراسپتال کے ٹراما سینٹر میں پہنچنے والے شدید زخمی اور نازک حالت کے مریضوں کے علاج میں کسی بھی قسم کی تاخیر ان کی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایسے ہی معاملے میں ایک مریض جس کی ٹراما سینٹر کے نیوروسرجری ڈپارٹمنٹ میں طویل علاج کے دوران موت ہوگئی،اس معاملے میںان کےاہل خانہ کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ روڈ ایکسیڈنٹ میں اس کے چھوٹے بھائی کے ہاتھ اور سرمیں چوٹ آئی تھی،اسے علاج کے لئے آرایم ایل اسپتال میں لایا گیا، لیکن بروقت اسے ایڈمنٹ نہیں کیاگیا، بہت بھاگ دوڑ اور محنت و مشقت کے بعداسے ایڈمنٹ کیاگیا، لیکن اس کے بعد بھی وقت پر مناسب طبی امداد نہ ملنے، علاج کے دوران ڈاکٹروں کی حد درجہ لاپروائی او رمناسب دیکھ ریکھ سمیت مختلف بدانتظامی کے باعث اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو کھو دیا۔
ذرائع اور متاثرہ افراد کا الزام ہے کہ بعض ڈاکٹروں کی لاپروائی کے باوجود اسپتال انتظامیہ کی جانب سے مؤثر نگرانی اور جواب دہی کا نظام نظر نہیں آتا، سوال پوچھے جانے پر تسلی بخش جواب نہیں دیا جاتا،مریض کی حالت اور وہ ٹھیک ہوپائے گا یا نہیں اس تعلق سے بھی کوئی واضح جواب ڈاکٹروں کی طرف سے نہیں ملتا۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر کسی ڈاکٹر یا طبی عملے کی غفلت سے مریض کی حالت بگڑتی ہے تو اس کی ذمہ داری طے کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے انتظامیہ کیا اقدامات کر رہی ہے۔
اسپتال انتظامیہ پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ لاپروائی برتنے والے ڈاکٹروں اور عملے کو نہ تو مؤثر طور پر تنبیہ کر رہی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف سخت کارروائی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ انتظامیہ کی اس مبینہ چشم پوشی سے نہ صرف لاپروائی کرنے والے اہلکاروں کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں بلکہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ میں بھی خوف اور بے اعتمادی پیدا ہو رہی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آر ایم ایل جیسے بڑے اور اہم اسپتال میں مریضوں کے علاج سے متعلق کسی بھی شکایت کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسپتال کے ٹراما سینٹر اور دیگر تمام شعبوں میں علاج کے نظام، ڈاکٹروں کی حاضری، مریضوں کو بروقت طبی سہولت کی فراہمی اور مبینہ طبی غفلت کے معاملات کی غیر جانب دارانہ جانچ کرائی جائے۔
متاثرہ خاندانوں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مریضوں کی جانوں سے مبینہ طور پر ہونے والے کھلواڑ کو فوری طور پر روکا جائے، لاپروائی کے ذمہ دار ڈاکٹروں اور عملے کی جواب دہی طے کی جائے اور اسپتال انتظامیہ کو بھی اپنی نگرانی کی ذمہ داریوں میں کوتاہی پر جواب دہ بنایا جائے، تاکہ علاج کے لیے اسپتال آنے والے کسی بھی مریض کو لاپروائی یا انتظامی غفلت کی قیمت اپنی جان سے نہ چکانی پڑے۔
واضح رہے کہ مریضوں کی جان اور علاج کا معاملہ انتہائی حساس ہے، اس لیے ان الزامات اور شکایات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور اگر کسی سطح کسی بھی ڈاکٹریا انتظامیہ کے کسی بھی عملے پر کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جا ئے۔
دلی این سی آر
جامعہ میں عالمی امن اورچیلنجزو امکانات کے موضوع پر لیکچر
(پی این این)
نئی دہلی : مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم(سی ڈی او ای)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے نیلسن منڈیلا سینٹر فار پیس اینڈ کنفلکٹ ریزولیوشن (این ایم سی پی سی آر) کے اشتراک سے سی ڈی او ای کانفرنس ہال میں ’عالمی امن دوہزار چھبیس:چیلنجز اور امکانات ‘ کے موضوع پر ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی سرپرستی اورپروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی ،مسجل، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعاون و رہنمائی میں کیا گیا۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس( آئی ای پی) کے چیف آپریٹنگ آفیسر، جناب بریٹ سیول نے یہ اہم خطبہ دیا۔ پروگرام کا انعقاد سی ڈی او ای کے ڈائریکٹر اور این ایم سی پی سی آر میں پروفیسر کے عہدے پر فائز پروفیسر اسلم خان کی قیادت میں کیا گیا، جب کہ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ابوذر خیری نے مہمان مقرر اور شرکا کا خیرمقدم کیا۔
مہمان خطیب جناب سیول نے گلوبل پیس انڈیکس (جی پی آئی) کے حوالے سے بدلتے ہوئے عالمی امن کے منظر نامے پر روشنی ڈالی ، جو تیئس اشاریوں کے توسط سے امن کا جائزہ لیتا ہے جن میں سماجی تحفظ اور سلامتی، جاری تنازعات اور عسکریت پسندی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ اٹھارہ برسوں میں سے پندرہ میں عالمی امن میں کمی آئی ہے اور اس نے تنازعات کی بدلتی ہوئی نوعیت کو اجاگر کیا ہے ، جس میں بیرونی طاقتوں کے بڑھتے کردار، پراکسی ایکٹرز اور طویل تنازعات شامل ہیں۔
ہندوستان پر گفتگو کرتے ہوئے ، خطیب نے کہا کہ چھوٹے اور نسبتاً یکساں ممالک کے ساتھ موازنہ ہندوستان کے حجم، تنوع اور جغرافیائی پیچیدگیوں کی مناسب عکاسی نہیں کرسکتا۔ اس سلسلے میں ان کا موقف تھا کہ چین، امریکہ اور برازیل جیسے بڑے ممالک کے ساتھ موازنہ زیادہ معنی خیز تناظر فراہم کر سکتا ہے۔ انھوںنے مصنوعی ذہانت اور ڈرون جنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں بھی بات کی، اور خاص طور پر روس یوکرین تنازعہ میں، اور جنگ کے لیے اے آئی اور امن کے لیے اے آئی میں سرمایہ کاری کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی طرف توجہ مبذول کروائی۔
لیکچر پر اظہار خیال کرتے ہوئے این ایم سی پی سی آرکے پروفیسر راجیو نایان نے امن کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والے طریقہ کار اور اشاریوں کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہندوستانی فکری روایات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کو بامعنی اور پائے دار بنائے رکھنے کے لیے اس کے ساتھ انصاف کا ہونا بھی ضروری ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں پروفیسر اسلم خان نے اس بات پر زور دیا کہ امن کو محض جنگ کی عدم موجودگی یا کسی ایک اشاریے کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔ انھوں نے ایک ایسے وسیع ترنظام پر مبنی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا جو سلامتی، ترقی، طرزِ حکمرانی، ٹیکنالوجی، انصاف، ثقافت اور انسانی بہبود کے باہمی مربوط کرداروں کو تسلیم کرے۔ انھوں نے مقامی سیاق و سباق اور فکری روایات پر مبنی نقطہ نظر تشکیل دیتے ہوئے عالمی اشاریوں کا تنقیدی جائزہ لینے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
لیکچر کے بعد فیکلٹی اراکین، تحقیقی اسکالرس اور طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کا مذاکراتی سیشن ہوا۔ پروگرام کا اختتام این ایم سی پی سی آر کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدھانشو ترویدی کے اظہارتشکر پر ہوا۔
دلی این سی آر
محبت اور اعتماد کی علامت ہے رکشا بندھن کا تہوار:گورنر
رکھشا بندھن کے مقدس تہوار پر دہلی کے تمام باشندوں کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔یہ تہوار، بھائی اور بہن کے درمیان محبت، اعتماد اور پیار کی علامت ہے، ایک دوسرے کی حفاظت، ایک دوسرے کی عزت کرنے اور زندگی بھر ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ آئیے، اس رکشا بندھن پر، اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی عزت، حفاظت اور بااختیار بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کریں۔ جب میری سیکورٹی ٹیم کی خواتین نے راکھی باندھی، دن کو گرمجوشی، پیار اور خوشی سے بھر دیا۔ان کے دلی اشارے نے رکھشا بندھن کے جذبے کو خوبصورتی سے پکڑ لیا – محبت، اعتماد اور یکجہتی کا جشن، اور ایک یاد دہانی کہ یہ بندھن انفرادی رشتوں سے آگے بڑھ کر اس کمیونٹی کے احساس کو مضبوط بنانے کے لیے جو ہم بانٹتے ہیں۔سب کو رکھشا بندھن کی بہت بہت مبارکباد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
