تازہ ترین خبریںمحاسبہ

یوں شمع جلانے سے بنے گی نہ کوئی بات

محاسبہ…………….سید فیصل علی

کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے تھالی، تالی کے بعد اب دیوالی کا نسخہ پیش کیا گیا ہے۔ پی ایم نے ملک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موم بتی جلائیں اور 9 منٹ تک روشنی کریں۔ دنیا کے سب سے عظیم جمہوری ملک کے پردھان منتری کے ذریعہ دیوالی کے ذریعہ کورونا کا دیوالہ نکالنے کا نسخہ پوری دنیا کیلئے حیران کن ہے، کیونکہ جب آج ترقی یافتہ ممالک اس وبائی مرض کا علاج ڈھونڈ رہے ہیں، بڑے بڑے سائنسداں اور ڈاکٹر سر جوڑے بیٹھے ہیں، کورونا کو شکست دینے کی تیاریاں چل رہی ہیں، اس کی جانچ کیلئے تیار کئے گئے کٹس کی صلاحیت کو تیز تر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو ایسے عالم میں بھارت میں پی ایم کے ذریعہ تھالی پٹنے، تالی بجانے اور اب اتوار (آج) کو موم بتی جلانے کا نسخہ نہ صرف عجیب وغریب ہے، بلکہ یہ طریق کار بے یقینی اور الجھن پیدا کرنے والا ہے اور ہرذی شعور کے ذہن و دل میں یہ خدشہ پیدا کرتا ہے کہ کیا 130 کروڑ کے بھارت میں اب ڈاکٹروں، سائنسدانوں اور میڈیکل کی ٹیم ناکام ہو گئی ہے؟ کورونا کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی میڈیکل تھیوری نہیں رہ گئی ہے کہ اب دیوالی کے ذریعہ کورونا کا دیوالہ نکالنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

کورونا کی وجہ سے آج دنیا کی حالت دیگرگوں ہے، 204 ممالک کورونا کی گرفت میں ہیں، متاثرین کی تعداد 10 لاکھ سے بھی اوپر پہنچ چکی ہے، مرنے والوں کی تعداد 60 ہزار ہو چکی ہے، فرانس میں ایک دن کے اندر 17 سو اموات کا ہونا اس مرض کی قہر سامانی کا عبرت ناک منظرنامہ ہے، دنیا کا چودھری امریکہ تو سب سے زیادہ کورونا زدہ ہے، وہاں متاثرین کے تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ایران، ہندوستان اور پاکستان سمیت پورا برصغیر بھی کورونا کی چپیٹ میں ہے، خود بھارت میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 3 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ممبئی، دہلی، ہریانہ اور اترپردیش سے مزدوروں کی نقل مکانی کو دنیا دیکھ رہی ہے، قومی شاہراہوں پر چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ سیکڑوں میل کا سفر دیکھ کر دل دہل جاتا ہے، ان بے سروسامان مزدوروں کا درد یہ ہے کہ ان کیلئے کورونا سے زیادہ بھوک وپیاس خوف ناک ہے، مزدوروں کی اس نقل مکانی پر خود صدر جمہوریہ نے تشویش کا اظہارکیا ہے اور سرکار کو ان پر دھیان دینے کی تلقین کی ہے، مگر سرکار کا عالم تو یہ ہے کہ تھالی بجاؤ، تالی بجاؤ اور اب دیوالی مناؤ ہی کورونا کا توڑ ہے۔

کورونا کے خوف سے لاکھوں مزدوروں نے دلی، ممبئی، پونے، ہریانہ وغیرہ کو خیرباد کہہ دیا ہے، مگر کورونا کو لے کر نقل مکانی کا درد صرف مزدوروں کا نہیں ہے، بلکہ آج کروڑوں لوگ لاک ڈاؤن کے تحت گھروں میں مقید ہیں، ان میں بدلی بڑھتی جا رہی ہے، وہ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ آج اندور، پونے سے لے کر بہار کے مدھوبنی وغیرہ شہروں تک کورونا مریضوں کی جانچ کیلئے جانے والی میڈیکل ٹیموں پر حملے ہو رہے ہیں، کیونکہ جو لوگ ضروریات زندگی کی اشیاء سے محروم ہیں، انہیں کورونا سے جتنا ڈر نہیں ہے، بلکہ انہیں کہیں اس سے زیادہ کئی طرح کا خوف دامن گیر ہے۔ سرکار نے لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اپنا تو لی، مگر اس لاک ڈاؤن نے ملک کے 130 کروڑ عوام کو جس طرح جکڑ رکھا ہے، انہیں نفسیاتی مریض بناکر رکھ دیا ہے، اس ماحول سے نکالنے کے بجائے موم بتیاں جلاکر کورونا بھگانے کا ’ٹوٹکا‘ اپنانے کی تلقین ہو رہی ہے۔ نوٹ بندی کے ذریعہ ملک کی ’کایاکلپ‘ کرنے کی بات کرنے والے اب موم بتیوں کے ذریعہ ’چمتکار‘ دکھانا چاہتے ہیں، کیا اب عوام ایسے چمتکار پر بھروسہ کریں گے؟

کورونا کے اس خبیث دور میں تھالی بجانے، تالی بجانے اور دیوالی کو لے کر دنیا متحیر ہے، لیکن مجھے کوئی حیرت نہیں ہے۔ میں سیاسی مبصرین کے اس خیال سے بھی متفق ہوں کہ یہ سب شگوفے عجلت میں کئے گئے لاک ڈاؤن کے بعد پیدا ہوئے حالات کے خلاف عوام کے ذہن کو موڑنے کے حربے ہیں۔ ملک کے خاص ایشوز، بھکمری اور غریبی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے تاکہ لوگ حکومت پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے قدرت کا قہر سمجھ کر صبر کرلیں۔ مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا ہندوستان کے عوام آج بھی 15 ویں صدی میں جی رہے ہیں؟ آج کے جدید سائنسی دور میں تھالی بجانے، تالی پیٹنے اور دیا جلانے سے کیا کوئی وبا بھاگ سکتی ہے؟ آج سائنس کی انتہائی ترقی یافتہ ’یگ‘ میں ’اندھ وشواس‘ کے نئے نئے کھیل دکھائے جا رہے ہیں، موم بتی جلاکر کورونا کو بھگانے کی ریسرچ دور کی کوڑی ہے، اندھیارے کو اندھیارے سے ہرانے کا نسخہ ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس سائنسی ’یگ‘ میں نئے نئے ’پریوگ‘ کے تحت ملک کو ’ڈارک ایج‘ میں پہنچانے کی بات ہو رہی ہے۔

آج ملک کی تقریبا تمام ریاستیں کورونا کی یلغار سے دوچار ہیں، ان ریاستوں میں کورونا ٹیسٹنگ کٹ(جانچ مشین) وینٹی لیٹر، ماسک کی زبردست قلت ہے، جس کی وجہ سے خود پولیس کے اہلکار، ڈاکٹر، میڈیکل ٹیمیں کورونا کے شکار ہو رہے ہیں، ایمس کے 9 ڈاکٹر کورونا سے متاثر ہیں، نظام الدین مرکز سے منسلک پولیس اسٹیشن کے 17 پولیس اہلکار کورونا کی زد میں ہیں، دہلی کے باڑہ ہندو راؤ اسپتال کے ڈاکٹروں نے اپنی سیفٹی کو لے کر استعفیٰ کی دھمکی دی ہے، ڈاکٹروں کو نہ صرف کورونا سے بلکہ جانچ کے تحت عوام کے درمیان جانے سے بھی خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ سونیا گاندھی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ”لاک ڈاؤن جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ ہے، جس نے عوام کی زندگی کو سخت مشکلات سے دوچار کر دیا ہے“۔ لیکن حکومت عوام کو مشکل کی گھڑی سے نکالنے، راحت کاری کی نئی حکمت عملی بنانے کے بجائے کبھی تھالی بجانے، کبھی تالی بجانے اور کبھی دیوالی منانے کی بات کر رہی ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ 2دن قبل وزیراعظم نے کورونا کے تحت ملک میں پیدا ہوئے حالات کو لے کر تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے خصوصی میٹنگ کی تھی، اس میٹنگ میں وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بہار کی صورتحال کو کافی سنگین قرار دیتے ہوئے حکومت سے ایک ہزار وینٹی لیٹر، ماسک اور دیگر سہولیات کا مطالبہ کیا، مگر افسوس تو یہ ہے کہ حکومت اس مطالبے کو پورا کرنے سے بھی قاصر رہی۔ بہار ایک بڑی ریاست ہے، جہاں خود این ڈی اے کی سرکار ہے، وہاں جب کورونا کو روکنے کیلئے میڈیکل سہولیات کا فقدان ہے تو دیگر ریاستوں کا کیا عالم ہوگا یہ سوچنے کا مقام ہے۔

ستم سیاست تو یہ بھی ہے کہ دیزاسٹر مینجمنٹ کو چست درست کرنے کے بجائے یوگ مینجمنٹ کی راہیں اپنائی جا رہی ہیں، ریاست کے وزرائے اعلیٰ سے حال چال لینے کے بعد وزیراعظم نے نئے پریوگ کے تحت دوسرے دن ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ملک کے 40 نامور اسپورٹس پرسن سے بھی بات کی اور ان سے بیداری مہم چلانے کی اپیل کی۔ کاش وزیراعظم کورونا کا مقابلہ کرنے کیلئے ملک کے نامور ڈاکٹروں، سائنسدانوں، پولیس اہلکاروں سے مشورہ کرتے، لوگوں میں جو ڈپریشن اور بددلی کا ماحول پیدا ہو رہا ہے، اس سے نکالنے کی سعی ہوتی تو بات سمجھنے والی ہوتی، اب بھلا کھیل کی دنیا کے سرخیل کورونا کے معاملے میں کس حد تک کار آمد ہوں گے یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ کورونا کی وجہ سے ملک کی معیشت پر بھاری ضرب پڑ رہی ہے، میڈل کلاس اور خاص کر غریب طبقے کا ذریعہ معاش بھی حالات کی چکی میں پس رہا ہے اور خط افلاس کے نیچے رہنے والوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں، اس کی کورونا سے بھی لڑائی چل رہی ہے اور بھو ک سے بھی جنگ جاری ہے، ایسے عالم میں تھالی بجانے اور شمع جلانے کی بات دل کو جلانے جیسی بات ہے۔

ڈیزاسٹرمینجمنٹ کو یوگ مینجمنٹ کی طرح لینے کی بات چھوڑی جائے ورنہ ملک اس نئے پریوگ سے خسارہ عظیم سے دوچار ہوگا۔ خاص کر ’پورٹی لائن‘ سے نیچے کے لوگ کس بے بسی سے دوچار ہوں گے اس پر بھی ماہر معیشت کو گہری تشویش ہے، لیکن اس فکرو تشویش سے بے نیاز کورونا کے نام پر جو کھیل چل رہا ہے، اس کا سیدھا نقصان ہندوستان کے غریب طبقے کو ہوگا۔ بقول شاعر:

یوں شمع جلانے سے بنے گی نہ کوئی بات
اٹھیئے کسی غریب کی قسمت سنواریئے

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close