تازہ ترین خبریںمسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے

تمام تر نامساعد حالات کے باوجود اسلام کے فروغ کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ چوطرفہ تنقید اور اسلام دشمنی کے تناظر میں اسلامی شریعت، اسلامی تہذیب و تمدن مغرب کی اکتائی ہوئی نسل کے لئے باعث سکون بنتا جا رہا ہے۔ مغرب میں اسلام تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے، بالخصوص مغربی دنیا میں اسلام تیزی سے پھیلنے والا پہلا مذہب بن چکا ہے۔ امریکہ میں ہر سال اوسطاً سترہ ہزار سے زائد لوگ مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔ اس طرح اسلام امریکہ میں دوسرا سب سے بڑا مذہب بن چکا ہے۔ عیسائیت کے مرکز ویٹیکن سٹی نے پہلی مرتبہ اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ مقلدین کے اعتبار سے اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن چکا ہے۔ اس کے عقیدت مندوں کی تعداد رومن کیتھولک عیسائیوں کی تعداد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ویٹیکن سٹی نے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے جس طرح ستائش کی تھی وہ عالم اسلام اور مسلمانوں کے لئے باعث افتخار ہے۔ اس کے بعد وہیں کے ایک اخبار میں کہا گیا کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا منظر ابھرا ہے کہ عیسائیت اب ٹاپ پر نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ مسلمان آگے بڑھ چکے ہیں۔ بہرحال، 9/11 کے بعد دنیا کے جو حالات ہوئے ہیں مسلمانوں کو جس طرح نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہیں دہشت گرد کہا جانے لگا۔ اس فکر کو زائل کرنے میں ویٹیکن سٹی کے نظریات نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اسلام کے بڑھتے اثرات سے گوکہ متعصب طبقہ یقیناً فکر مند ہوا لیکن مجموعی طور پر عیسائیت کی اکثریت اس نظریے کی مخالف ہے کہ اسلام انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ مسلمانوں کی ذہنیت دہشت گردی سے پر ہوتی ہے۔ زیر نظر مضمون دنیا میں اسلام کا بڑھتا دائرہ خاص کر مغرب میں اسلام کی مقبولیت کی اصل وجوہات کا احاطہ کرتا ہے:

ویٹیکن سٹی پوری دنیا کے رومن کیتھولک عیسائیوں کے عقیدتمندوں کا عظیم ترین مذہبی مرکز ہے۔ شہر نما یہ ریاست (City State) اٹلی کی راجدھانی روم کی سرحد سے متصل ہے۔ دنیا کی یہ سب سے چھوٹی ریاست عیسائیوں کے نزدیک مذہبی اعتبار سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس ریاست کا سربراہ پوپ ہوتا ہے جسے پاپائے روم بھی کہا جاتا ہے۔ عیسائی مذہب کے تعلق سے پوری دنیا میں یہاں سے ہی فرمان جاری کئے جاتے ہیں اور پوپ کی زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ بھی پوری دنیا کے رومن کیتھولک عیسائیوں کے لئے قابل تعظیم و قابل تعمیل ہوتا ہے لیکن 2008 میں ویٹیکن سٹی نے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا جوکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے باعث افتخار ہے۔ حالانکہ ویٹیکن سٹی نے راست طور پر یہ رپورٹ اپنی جانب سے جاری نہیں کی تھی مگر اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ موجودہ دور میں شاید یہ بات نہایت تعجب خیز ہے کہ اسلام نے نہایت سرعت کے ساتھ فروغ، ترقی اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ چاروں طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جانے والا اسلام مذہب تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور اسے مقبولیت بھی مل رہی ہے۔ اس کے مقلدین اور پیروکاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سکون اور سچائی کی تلاش میں سیکڑوں اور ہزاروں لوگ اس کی آغوش میں پناہ لے رہے ہیں۔ صرف امریکہ میں ہر سال تقریباً 17000 افراد مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔ مذہبی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اس وقت امریکہ میں یہودیوں کی آبادی تقریباً 4.5 ملین تھی جبکہ مسلمانوں کی آبادی 5.6 ملین تھی۔ اسی لئے اس وقت کی سینیٹر (Senator) ہلیری کلنٹن نے یہ بیان دیا تھا کہ ’’امریکہ میں اسلام تیزی کے ساتھ فروغ پانے والا مذہب ہے جو کہ ہمارے ملک کے باشندوں کے استحکام کے لئے ایک ستون ہے۔‘‘

اسلام نہ صرف امریکہ میں ہی مقبول ہو رہا ہے بلکہ اس کا پیغام دیگر ممالک تک پھیل رہا ہے۔ اس بات کی توثیق امریکہ کے ایک جریدہ یو ایس اے ٹو ڈے (USA Today) نے بھی کی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’’دنیا میں سب سے تیزی کے ساتھ فروغ پانے والا طبقہ مسلمانوں کا ہے۔‘‘ اس کے بعد عیسائیت کے مرکز ویٹیکن سٹی نے پہلی مرتبہ اپنی سالانہ رپورٹ میں بھی اس بات کا انکشاف کیا تھاکہ مقلدین کے ا عتبار سے اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن گیا ہے۔اس کے عقیدت مندوں کی تعداد رومن کیتھولک عیسائیوں کی تعداد سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس بات کا اعتراف ویٹیکن سٹی کے ایک روزنامہ نے بھی کیا تھا۔ ویٹیکن سٹی کے اس وقت کے سالنامہ کو مرتب کرنے والے مونسگنور وٹویو فومینٹی (Monsignor vittorio Formentic) نے ویٹیکن کے ایک اخبار ایل اوسرویٹور رومانو (L’ Osservatore Romano) کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران یہ کہا تھا کہ ’’تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اب ہم ٹاپ پر نہیں ہیں، مسلمان اب ہم سے آگے بڑھ چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ پوری دنیا کی آبادی میں کیتھولک عیسائیوں کی آبادی 17.4 فیصد ہے جو کہ ایک مستحکم فیصد ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی پوری دنیا میں 19.2 فیصد ہے۔ فورمینٹی نے یہ بات بھی واضح کر دی تھی کہ یہ اعداد و شمار 2006 کے ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار تمام مسلم ممالک کے مسلمانوں کے یکجا کئے گئے تھے اور اس کے بعد انہیں اقوام متحدہ کو فراہم کرایا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات کی مزید وضاحت کی تھی کہ یہ اعداد و شمار ویٹیکن کے ذریعہ جاری نہیں کئے گئے کیونکہ ویٹیکن صرف اپنے اعداد و شمار کے بارے میں ہی وضاحت کر سکتا ہے۔ جب صرف کیتھولک عیسائیوں کی بات کی جائے تو دنیا کی آبادی میں وہ 33 فیصد ہیں لیکن ویٹیکن اور اقوام متحدہ کے ترجمانوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا لیکن یہ رپورٹ ان لوگوں کے لئے چشم کشا ہے جو کہ اسلام کی شبیہہ مسخ کرنا چاہتے ہیں اور اسے بہت سی برائیوں اور دہشت گردی سے منسوب کرتے ہیں تاہم ان لوگوں کی اس مہم کا ان مسلمانوں پر کوئی فرق نہیں پڑا جوکہ اسلام اور وحدانیت کے عقیدہ میں یقین رکھتے ہیں۔

روس جیسے ملک میں جہاں روسی انقلاب کے دوران اور اس کے بعد بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کئے گئے تھے وہاں بھی اسلام مذہب نے قابل قدر فروغ حاصل کیا اور وہاں پر مسلمانوں کی تعداد تقریباً 20 ملین ہو گئی تھی۔ پووولزائی (Povolzhye) ریجن میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی تھی جو کہ تقریباً 17 فیصد تھی۔ روس کا جنوبی خطہ ایسا دوسرا مقام تھا جہاں پر مسلمانوں کی آبادی 9 فیصد تھی جبکہ وسطی روس اس مشرقی روس کے دور دراز علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ایک فیصد تھی۔ ساتویں صدی سے اکثر مخالف حالات ہونے کے باوجود چین میں مسلمان اپنے عقیدہ پر قائم رہے تھے۔ چنانچہ دیگر مذاہب کے ساتھ ساتھ اسلام کو چین میں سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا اور اس وقت چین میں تقریباً 200 ملین مسلمان قیام پذیر تھے۔ چینی مسلم سوسائٹی کے اس وقت کے نائب صدر نے الدعوۃ کو بتایا تھا کہ چین میں تقریباً 3500 مسجدیں ہیں اور اماموں کی تعداد تقریباً 4000 تھی۔ کل ملا کر چین میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ ایک امریکی مسلم مذہبی رہنما کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مسلمان استقلال کے ساتھ اپنی پوزیشن بہتر بنا رہے ہیں جو کہ اس نظریہ کے بر عکس ہے جس کو میڈیا نے مسلمانوں کے دہشت گردوں سے مشکوک رابطوں کے تعلق سے امریکی معاشرہ کے سامنے پیش کیا تھا۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والے ایک امام یحیٰ ہیندی نے بتایا تھا کہ 2001 میں امریکی سینٹروں پر حملوں کے بعد امریکی باشندوں میں اسلام کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی دلچسپی پیدا ہوئی تھی تاکہ امریکی مسلمانوں کے عقیدہ اور ان کے نظریہ کے بارے میں جانکاری حاصل ہو سکے۔ جب انہوں نے اسلامی کتابوں کا مطالعہ کیا اور اسلام کے بارے میں جانکاری حاصل کرلی تو ان کا نظریہ بدل گیا اور پھر وہ اسلام کے مقلدین ہوگئے۔ فلسطین نژاد ہیندی جب سعودی عرب کے دورے پر گئے تو انہوں نے وہاں پر ماہرین تعلیم کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جہاں تک میں سوچتا ہوں ہمارا مستقبل روشن ہے کیونکہ ہم دانش مندی کے ساتھ حقائق پر مبنی خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں‘‘۔ ہیندی نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ امریکہ کے مسلمان جن کی تعداد اس وقت 7 سے 9 ملین کے قریب ہے وہ اسلام کو امریکی معاشرہ سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2007 میں اولین امریکی مسلمان کو کانگریس کے لئے منتخب کیا گیا تھا اور آئندہ ان کی تعداد میں اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ اس امریکہ میں کم از کم 30 میئر تھے۔

اسلام ، پیغمبر حضرت محمدؐ اور قرآن کریم کے بارے میں میڈیا نے جو غلط فہمی پھیلائی تھی اس کو دور کر نے کے لئے اے بی سی پرا ئم ٹائم (ABC prime Time) نے ایک اسٹوری براڈ کاسٹ کی تھی۔ یہ جامع اسٹوری نہایت فائدہ مند ثابت ہوئی تھی کیونکہ اس کی وجہ سے نہ صرف غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گیا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں غیر مسلموں کو اصل جانکاری حاصل ہو گئی تھی امریکہ کی ایک تنظیم کیئر (CAIR) نے امریکی مسلمانوں اور ضمیر کی آواز سننے والے دیگر لوگوں نے اس رپورٹ کو براڈ کاسٹ کرنے کے لئے اے بی سی پرائم ٹائم کا شکریہ ادا کیا تھا، جس کی وجہ سے تمام عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے دلوں سے اسلامی فوبیا کی غلط فہمی بھی دور ہوگئی تھی۔ کیئر کے اس وقت کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر نہاد فواد (Nihad fwad) نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس حساس معاملے کو سلجھانے کے لئے اے بی سی نے جو کارنامہ انجام دیا تھا اس کے لئے ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ فواد نے اس بات پر بھی غور کیا تھا کہ اس پروجیکٹ کی تحقیقاتی مہم کے دوران کیئر (CAIR) نے اے بی سی (ABC) کو تعاون دیا تھا۔انہوں نے امریکی مسلمانوں اور ضمیر کی آواز سننے والوں سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لئے نیٹ ورک پر رابطہ قائم کریں تاکہ مسلمانوں کے تعلق سے تعصب پر مبنی جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اس کا ازالہ کیا جا سکے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ماضی میں عرب کی سر زمین سے طلوع ہونے والے مذہب اسلام اور مسلمانوں کو ابتدائی دور میں نظر انداز کیا گیا تھا لیکن اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے یہ ایک صدی کے اندر ہی نصف کرۂ ارض پر ضیا فگن ہو گیا اور اس نے بڑی بڑی ریاستوں میں زبردست تبدیلی لاکر لوگوں کو ایک نئی دنیا سے روشناس کرایا۔ درحقیقت یہ اسلام کی حقانیت، وحدانیت اور آفاقیت کا ہی ثمرہ تھا۔ موجودہ وقت میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے اہل مغرب خصوصی طور پر امریکہ کے نظریہ میں زبردست تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ قرآن کریم اور احادیث مقدسہ کے تراجم سے دیگر اقوام کے لوگ اب اسلامی تعلیمات سے نہ صرف جانکاری حاصل کر رہے ہیں بلکہ اسلامی پیغامات سے ان کے قلوب بھی منور ہو رہے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ مغربی ممالک خصوصی طور پر امریکہ میں دیگر عقائد کے لوگ اسلامی تعلیمات سے آشنا ہوتے جا رہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے ان کے متعصبانہ برتاؤ میں کافی حد تک کمی واقع ہوگئی ہے۔ یہاں پر نیوزی لینڈ کی مثال دینا بر محل ہے۔ جب ایک 28 سالہ آسٹریلوی نژاد نوجوان برنٹین ٹیریئنٹ نے کرائسٹ چرچ میں واقع مسجد النور میں 15 مارچ 2019 بروز جمعہ دہشت گردانہ حملہ کیا تھا جس میں 51 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوئے تھے تو نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اس سانحہ کو ’’نیوزی لینڈ کا یوم ساہ‘‘ قرار دیا تھا اور دہشت گرد نوجوان کو 28 منٹ کے اندر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیر اعظم جیسنڈا نے ہر جمعہ کو مسجد کے اطراف میں فورس تعینات کرنے کے احکامات دیئے تھے۔ انہوں نے اس وقت ملک میں مساوات اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔بہت سے یوروپی اور مغربی ممالک ان کے اقدامات سے بہت متاثر ہوئے تھے اور وہ اسلام اور مسلمانوں کے نہ صرف نزدیک ہونے لگے تھے بلکہ کثیر تعداد میں دیگر عقائد کے لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے لگے تھے۔ چونکہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات نہایت خوشگوار ہیں اس لئے بھی امریکہ کے مسلمانوں کے لئے امریکہ ایک پرسکون ملک بن گیا ہے، جہاں انہیں اپنے عقیدہ پر قائم رہنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی ہے۔

مذکورہ بالا سطور کا مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ امریکہ اور یوروپ میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہونے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کے تناظر میں ویٹیکن کے مطابق ان خیالات کا اظہار کرنا بالکل درست ہے کہ دنیا میں نہایت تیزی کے ساتھ مقبول ہونے والا اور فروغ حاصل کرنے والا مذہب صرف اسلام ہے۔ کچھ ممالک کو چھوڑ کر پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہو گئی ہے اور اسلام و مسلمانوں کو قدر ومنزلت کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔ ویٹیکن کے ذریعہ اسی طرح کا اظہار خیال کیا جانا بھی اسلامی عقیدہ کی پذیرائی کرنے کے مترادف ہے۔

([email protected])

مسلمانوں کا عالمی منظرنامہ……………………..سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close