مسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

ناقص فتویٰ امت کی پریشانی کا سبب

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ ہر دور اور ہر ماحول میں اسلام اپنی افادیت اور اہمیت کے جلوے دکھاتا رہا ہے۔ اسلام میں بعض امور پر نرمی بھی برتی گئی ہے۔ حالات کے تحت کام کرنے کی بھی تلقین کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گیارہویں صدی تک اسلام اپنی مقبولیت کی منزلیں طے کرتا رہا۔ دنیا کے ہر گوشے میں اس کے قدم جا پہنچے، لیکن بعد میں جو مغرب کی شورش ہوئی، مسلمانوں کے اقبال کا زوال شروع ہوا تو تہذیبی و ثقافتی ماحول بھی مجروح ہوا۔ دین کے تئیں بھی سخت روش اختیار کی گئی۔ بات بات پر فتویٰ دینے کا رواج عام ہوا، مسلمانوں کے مسائل عدالت میں جانے لگے، غرض کہ اسلامی قوانین پر اسی بہانے سے مغرب کی سازش بھی کامیاب ہوئی۔ بر صغیر کو لیجئے تو یہاں بھی اسلام آپسی ٹکراؤ کا شکار زیادہ ہے۔ مسلکی تصادم نے اسلام کے اقبال کا گلا گھونٹ رکھا ہے۔ ہندوستان کی بات کی جائے تو یہاں بھی بات بات پر فتویٰ دینے کا چلن ہے اور اسلام دشمن میڈیا اس کے بہانے مسلمانوں کی انتہا پسندی اور مظالم کے ڈھنڈورے پیٹتا ہے۔ فتووں کے بہانے وہ اسلام اور شریعت کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے اور یہ حالت صرف ہندوستان کی نہیں ہے عالم اسلام کی ہے، جو آج مغرب کے نشانے پر ہے۔ انہی فتووں کو لے کر اب مفتیان اکرام کی ذمہ داری کے تناظر میں سعودی عرب نے اہم قدم اٹھایا تھا۔ خادمین حرمین و شریفین سعودی عرب کے سابق شاہ مرحوم شاہ عبد اللہ فتووں کے ذریعہ فتووں کی اہمیت کے پیش نظر مفتیوں کو ذمہ داری کی تلقین کی تھی اور اسکالروں کو تربیت دیئے جانے پر زبردست زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو لوگ فتوے جاری کرتے ہیں ان کا تعلیم یافتہ ہونا اور باصلاحیت ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ ہر صورت حال میں اپنی کارکردگی انجام دے سکیں۔ شاہ نے فتووں کے بڑھتے چلن اور شریعت پر نشانے کے تناظر میں دار الافتائ کی ذمہ داریوں پر زور دیا اور کہا کہ جو قابل اعتماد نہیں ہے، شریعت سے بھی واقف نہیں ہے اور نہ امت کے مسائل کی جانکاری رکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں حالات کا اندازہ ہوتا ہے، ایسے افراد کے لئے دار الافتائ کے دروازے بند رکھے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میڈیا ان فتووں کو لے کر شریعت پر نشانہ لگاتا ہے، میڈیا کو ایسے فتوے شائع نہیں کرنا چاہیے جو اسلامی اسکالر نے جاری نہیں کئے۔ 10 سال قبل فتویٰ پر بین الااقوامی کانفرنس ریاض میں منعقد ہوئی تھی، جن میں فتویٰ کو لے کر میڈیا کی شرپسندی پر بھی تشویش کا اظہار ہوا تھا۔ مسلم معاشرے میں فتووں کی اہمیت، درست فتویٰ جاری کرنا اسکالروں کے لئے اسلامی فریضہ قرار دیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ فتوے حالات اور اسلام کے اعتدال پسند اصول کے تحت ہونے چاہیے۔ اس کانفرنس میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ امت کو جن درپیش مسائل کا سامنا ہے ان کا درست اور قابل قبول حل تلاش ہونا چاہیے کیونکہ آج کا المیہ یہ ہے کہ مسلمانان عالم قرآن کریم اور رسولؐ اکرم کی تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں، یہی دوری ان کی زبوں حالی کا سبب ہے۔ زیرنظر خصوصی صفحہ آج کے حالات میں بھی ملت اسلامیہ کو ایک روشنی دیتا ہے:

خادم حرمین وشریفین اور سعودی عرب کے سابق کنگ مرحوم شاہ عبداللہ نے فتووں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مفتیوں اور اسکالروں کو تربیت دیئے جانے پر زبردست زور دیا تھا۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ جو لوگ فتوے جاری کرتے ہیں ان کا تعلیم یافتہ ہونا اور باصلاحیت ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ ہر صورتحال میں وہ اپنی کارکردگی بخوبی انجام دے سکیں۔ دارالافتائ کے دروازے ان لوگوں کے لئے نہیں کھولے جائیں جو کہ قابل اعتماد نہیں ہیں، شریعت سے بھی واقف نہیں ہیں اور نہ ہی جنھیں امت کے مسائل کی جانکاری ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق 10 سال قبل یہ بیان شاہ عبداللہ نے دیا تھا۔ فتویٰ پر بین الاقوامی کانفرنس، جو کہ ریاض میں منعقد ہوئی تھی اس کے افتتاحی اجلاس میں کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ ’’میڈیا کو بھی ان فتووں کو شائع نہیں کرنا چاہیے جو کہ ایسے لوگوں کی جانب سے جاری کئے گئے ہوں جو کہ اسلامی اسکالر نہیں ہیں۔‘‘

اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے اسکالروں کا مملکت کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ، مسلم ورلڈلیگ (MWL) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن عبد المحسن الترکی اور شوری کونسل کے صدر صالح بن حمید نے استقبال کیا تھا۔ مسلم ورلڈلیگ کی ذیلی تنظیم فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام اس فتویٰ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا اور اس کا افتتاح شاہ عبداللہ کی جانب سے مکہ معظمہ کے اس وقت کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے کیا تھا۔ اس پانچ روزہ کانفرنس میں دنیا کے مختلف ممالک کے 170 سے زائد اسکالروں نے شرکت کی تھی۔ الترکی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ تقریباً 40مقالوں میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ کس طرح سے فتووں میں اعتدال پسندی بر قرار رکھی جانی چاہیے، اشتعال، تنازع اور اختلاف سے نہ صرف گریز کرنا چاہیے بلکہ ان منفی نظریات کو بھی نظر انداز کرنا چاہیے جو کہ ممکنہ طور پر مسلم نوجوانوں کے اذہان پر مضر اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ مسلم ورلڈ لیگ اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے تین سال سے تیاریاں کر رہی تھی۔ کویت چوٹی کانفرنس میں شاہ عبداللہ کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے یہ بھی تذکرہ کیا تھا کہ عرب ممالک کے لیڈروں کو اپنے آپسی تنازعات بھول کر اتحاد اور استحکام کا ایک نیا باب کھولنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’شاہ عبداللہ کی پہل پر آج دنیا، عرب ممالک اور ملت اسلامیہ کے استحکام اور یکجہتی کے لئے امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے۔‘‘

سعودی عرب کے معروف اسکالر شیخ سلمان العودہ کے مطابق میڈیا اور ثقافتی جیسے عناصر ہمیشہ افکار وعمل پر اثر انداز ہوتے ہیں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ اجتماعی ذہنی الجھنوں کے تعلق سے باہمی مشوروں، نظریات اور تبادلۂ خیال کے توسط سے ہم ہر ایک نئے مسئلہ پر اسلامی نقطۂ نظر سے متفق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کانفرنس کے دوران یہ وضاحت بھی کی تھی کہ فتووں کو جاری کرنے کے تعلق سے ضابطہ سازی کی کوشش کی جائے گی کیونکہ کانفرنس یا دارالافتائ کے پاس فتووں کو نافذ کرنے کے اختیارات نہیں ہوتے ہیں۔ اگر ہم درست فتووں کی تشہیر سیٹیلائٹ چینل یا انٹرنیٹ کی سائٹ پر کرتے ہیں تو یہ امت کے لئے بہت بڑی خدمت تصور کی جائے گی۔ انہوں نے اسکالروں سے کہا تھا کہ وہ متنازع ایشوز پر ریسرچ کرنے کے بعد واضح ضابطے وضع کریں۔ انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ غزہ کی موجودہ صورتحال سے متعلق فتویٰ جاری کریں جو کہ اس وقت کی ضرورت ہے اور لوگ رہنمائی کے لئے علماء کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

کانفرنس کے شرکاء نے مختلف مسائل بشمول اجتماعی اجتہاد پر بحث و مباحث کئے تھے اور عصری مسائل سے نمٹنے کے لئے ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی تھی کیونکہ مسلم معاشرے میں فتووں کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ چنانچہ شرکاء نے اپنے باہمی نظریہ میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ درست فتویٰ جاری کرنا اسکالروں کا اسلامی فریضہ ہے جو کہ اسلام کے اعتدال پسندانہ اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔ شاہ عبداللہ کے تقریری مکتوب، جسے کانفرنس میں شہزادہ خالد نے پڑھ کر سنایا تھا، میں محققین سے مختلف مسائل پر فتویٰ جاری کرنے کے لئے رہنما ضابطے وضع کرنے پر اپنی جانب سے تعاون دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امت اسلامیہ کو اس وقت اسلام مخالف بہت سی مہموں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن میں جھوٹے الزامات اور غزہ و دیگر ملکوں میں جنگ و جدل کے حالات بھی شامل ہیں۔

چنانچہ موجودہ صورتحال کا یہ تقاضہ ہے کہ مسلمان آپسی اختلافات کو بھول کر متحد ہو جائیں اور ایک ہی آواز میں اسلام مخالف طاقتوں سے مقابلہ کریں لیکن غیر مجاز اور غیر تربیت یافتہ لوگوں کی جانب سے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر فتووں کو مشتہر کرنے سے اسلام کی شبیہ مجروح ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے دیگر مذاہب کے لوگوں کو نہ صرف اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل جاتا ہے بلکہ وہ قرآن کریم اور پیغمبر اسلام ؐکے بارے میں بھی جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے لگتے ہیں۔ مملکت، جہاں پر اس کے قیام سے ہی اسلامی قانون کے اعتدال پسندانہ راہ پر عمل کیا جاتا رہا ہے، میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اجتماعی اسلامی موقف کو یقینی بنایا جائے کیونکہ اسلامی معاشرے کو انتشار اور خودسری سے ہمیں محفوظ رکھنا ہے۔‘‘ فتوے زندگی کے چھوٹے یا بڑے مسائل پر علمائے دین کے وہ نظریات اور ضابطے ہوتے ہیں جو کہ قرآن مقدس یا احادیث رسولؐ سے اخذ کئے جاتے ہیں۔انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے اس بات کی بھی وضاحت کی تھی کہ جنوبی، انتہا پسند اور متعصب لوگوں کے ذریعہ جو فتوے جاری کئے جاتے ہیں، ان سے مسلم نوجوانوں کے اذہان، عقائد اور اخلاقی اقدار آلودہ ہو جاتے ہیں۔

اس تقریب کے دوران الترکی نے سامعین کی توجہ اس جانب بھی مبذول کی تھی کہ اس وقت غزہ کے باشندے ایک سنگین آزمائش کے دور سے گزرے ہیں لہذا، مسلمانوں خصوصی طور پر عرب لیڈروں کو حملے رکوانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھنی چاہیے، وہاں پر پابندیوں کو ختم کرایا جانا چاہیے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی معاونت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مسلمان نہ صرف مذہبی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر رہے ہیں بلکہ وہ قرآن کریم اور پیغمبر حضرت محمدؐ کی تعلیمات سے بھی دُور ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ فقہ اکیڈمی کے سکریٹری جنرل صالح ال سر ذوقی نے کہا تھا کہ فقہ اکیڈمی، جس میں پوری دنیا کے معروف اسکالر شامل ہیں وہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ امت کو اب جن درپیش مسائل کا سامنا ہے ان کا درست اور قابل قبول حل تلاش کیا جائے۔ الترکی نے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ کچھ لوگ مسائل پر عمیق غور وخوض نہیں کرتے ہیں اور ان شرعی ضابطوں پر عمل کئے بغیر فتوے جاری کر دیتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہے اور جن کی تشریح پیغمبر اسلام کے ذریعہ کی گئی تھی۔ ان کی وجہ سے مسلمانوں کے سامنے عصری مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ غیر مستند لوگوں کے ذریعہ، جو فتوے جاری کئے جاتے ہیں وہی مستند علماء کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دارالافتاء کے معروف اسکالروں نے تصدیق شدہ فتوے جاری کرنے کے لئے ایک ویب سائٹ www.alifta.com شروع کر دی تھی، جس کا مقصد مملکت میں قابل قبول اور تصدیق شدہ فتوے جاری کرنا تھا کیونکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوا تھا کہ مسلم نوجوانوں کو جہاد میں حصہ لینے کے لئے کچھ انتہا پسند گروپوں نے اپنی جانب سے ناقص اور نام نہاد فتوے جاری کر دیئے تھے۔ اس طرح کے فتووں سے امت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس ویب سائٹ پر کسی فتوے پر نظرثانی کرکے اس کے تصدیق شدہ ہونے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح انتہا پسند گروپوں کی جانب سے جاری کئے گئے فتووں کی نشاندہی ہو جاتی ہے کیونکہ ایک ناقص فتویٰ امت کے لئے پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔ اس ویب سائٹ تک رسائی کرنے والے افراد کسی بھی مسئلہ پر سوال پوچھ سکتے ہیں، جن کا جواب معروف اسکالروں اور معروف علماء کی جانب سے فوری طور پر دیا جاتا ہے۔ اس سائٹ پر دین اسلام کی معروف اور عظیم صحابیات، جن میں حضرت خدیجۃ الکبریؓ، حضرت صفیہ ؓ، حضرت زینب ؓ، حضرت حفصہؓ، حضرت عائشہ ؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت عصمہ بنت ابوبکر ؓ، حضرت ام سلمہٰؓ اور حضرت ام دردہؓ وغیرہ کا نام نامی شامل ہیں، انہوں نے پیغمبر حضرت محمدؐ کی جن احادیث کا ذکر کیا ہے، ان سے بھی فرزندان توحید استفادہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ سعودی عرب نے مسلمانوں کو متحد کرنے کے لئے اسلامی ضابطوں کو یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسی لئے مملکت کے مقامی اور بیرونی باشندوں نے اس ویب سائٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ویب سائٹ کے توسط سے انہیں مختلف مسائل کے متعلق تصدیق شدہ مذہبی ضابطوں کی جانکاری حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

جدہ کے ال سلامہ ضلع میں واقع دعوۃ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل محمد حبیب نے کہا تھا کہ دارالافتاء کی ویب سائٹ زبردست جانکاری دینے والی ہے اور پوری دنیا میں لوگ اس سے استفادہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’’لوگ عرصہ دراز سے اس ویب سائٹ کا انتظار کر رہے تھے اور معروف اسکالروں جیسے بن باز اور بن حیثمین کے ذریعہ دیئے گئے مذہبی فتووں کو اس سائٹ پر پوسٹ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ دالافتاء کو ان مذہبی اصولوں اور ضابطوں کا انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کرانا چاہیے۔’’ مصر کی ال ازہر یونیورسٹی نے کثیر لسانی ترجمہ کراکے بہت بڑا کام کیا ہے، جن سے بہت سے غیر ملکی باشندے بھی استفاد کر رہے ہیں۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ فتویٰ ان قو انین اور ثبوتوں کی مناسبت سے دیا جاتا ہے جو کہ قرآن کریم اور احادیث رسولؐ کی آیات سے اخذ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے عالم (یا بورڈ) کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے، جس کا دل اخلاص اور علم سے منور ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی شخص کی انفرادی موقعہ پرستی سے نہ صرف پاک ہوتا ہے بلکہ سیاسی حلقہ بگوشی پر بھی وہ انحصار نہیں کرتا ہے۔چنانچہ یہ عصری دنیا کی ضروریات کے پیش نظر وافر افادیت رکھتا ہے۔

آج کے جدید دور میں ایسی بہت سی آزاد ریاستیں موجود ہیں، جہاں پر ان کا اپنا قانونی نظام یا پھر علماء کے ادارے ہیں اور ہر ملک مذہبی ضابطوں کی اپنے طریقہ سے تشریح کرکے ان کا نفاذ کرتے ہیں لیکن مسلم ممالک میں سرکاری مفتی کا ایک اعلیٰ مقام ہوتا ہے، جو کہ شریعت کا مستند ومنفرد عالم ہوتا ہے۔ ال ازہر یونیورسٹی کی شرعیہ کورٹ آف اسلامک کلچرل سینٹر اور لندن جامع مسجد کے علماء کے درمیان یہود و نصاریٰ سے بین العقائد مذاکرات کے تعلق سے 2007 میں قرآن کریم، احادیث، یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک اہم ترین فتویٰ جاری کیا گیا تھا، جس میں روحانی استدلال کے ساتھ عمل کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں جو تجاویز پیش کی گئیں تھیں، ان کے تعلق سے شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ ’’ہم مکہ معظمہ میں آپ کی کانفرنس پر عمل آوری کرتے آ رہے ہیں۔ امت اسلامیہ میں فتوے کی اہمیت اور مفتیان اکرام کے اہم رول پر اس کانفرنس سے اخذ کئے گئے نتائج پر آئندہ چوٹی کانفرنس میں مزید غور کیا جائے گا۔‘‘

اسلامی فقہ کے مطابق فتویٰ کے ضابطے جزو لاینفک ہیں، جن میں اسلام کے ظہور پذیر ہونے سے اب تک کوئی تحریف نہیں کی گئی ہے اور ہر دور میں وہ قابل عمل رہے ہیں جبکہ دنیاوی قوانین میں ترمیم یا ترمیمات ہوتی رہی ہیں۔ اسی لئے سعودی عرب کی جانب سے ایک مشترکہ ضابطہ وضع کرنے کی سعی کی گئی تھی تاکہ مفاہمت کا جذبہ پیدا ہو جائے اور اجتہادات سے مسائل حل کر لئے جائیں۔ اکثر یہ محسوس کیا گیا ہے کہ اقوام عالم کے دیگر مذاہب کے پیروکار باطنی طور پر تو اسلام کی حقانیت تسلیم کرتے ہیں لیکن عام طور پر اس کا اظہار نہیں کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے اسلام اور فتوے کے تعلق سے جو کانفرنس منعقد کرائی تھی، اس کا ایک مقصد دیگر اقوام، جنہوں نے اسلام کو دہشت گردی سے منسوب کر دیا تھا، ان تک یہ پیغام پہنچانا تھا کہ اسلام صرف انسانیت، امن و آشتی، رواداری اور بقائے باہم کا درس دیتا ہے۔

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close