تازہ ترین خبریںمحاسبہ

مشکل میں پڑ گئے ہیں، کہیں بھی تو کیا کہیں

محاسبہ...........................سید فیصل علی

ملک میں ہندوتو کی سیاست اور نااہل قیادت نے یہاں کی ترقیات اور یکجہتی کو جس طرح سپوتاز کیا ہے، اس پر اقوام عالم میں بھی تشویش ہے۔ ماب لنچنگ، لوجہاد، گؤکشی وغیرہ نے جس طرح ہندوتو کے عفریت کو توانا کیا ہے کہ اب تو ایسا لگتا ہے کہ نہ تو کسی کو ترقی کی ضرورت ہے نہ ملک کے دیرینہ وقار کی پرواہ ہے۔ حالانکہ ہمارا ملک بدترین معیشت کے دور سے گزر رہا ہے۔ بھکمری سے متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں ہندوستان، بنگلہ دیش، میانمار حتیٰ کہ پاکستان سے بھی بہت پیچھے ہو چکا ہے۔ مگر پھربھی کہا جا رہاہے کہ دیش بدل رہا ہے، آگے نکل رہا ہے۔

’نیوانڈیا‘ اور نئے بھارت کا نعرہ لگانے والی مودی حکومت کے دور میں ملک بدترین اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔ خستہ حال معیشت اور کساد بازاری کا نتیجہ ہے کہ گروتھ ریٹ مسلسل گر رہا ہے۔ لاکھوں چھوٹی تجارتی یونٹیں بند ہوچکی ہیں، چھوٹے تاجر نقصان کے دور سے گزر رہے ہیں، کئی بڑے صنعتی گھرانوں نے بھی اپنے پروڈکشن میں کمی کر دی ہے، ٹاٹا، مہندرا، ماروتی جیسے اداروں میں ملازمین کی چھٹنی ہو رہی ہے، جس سے بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے، رٹیل اسٹیٹ سیکٹر تباہی کے دہانے پر ہے، دو کروڑ سے زائد نوکریاں ختم ہو چکی ہیں، کسان اپنی پیداوار کو لے کر خودکشی کر رہے ہیں، مہاراشٹر کا بینک دیوالیہ ہو چکا ہے، اس کے چار اکاؤنٹ ہولڈر خودکشی کر چکے ہیں۔ گزشتہ دوبرسوں میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور ہندوتو کی یلغار نے عام زندگی میں جو ویرانی پیدا کی ہے، معیشت کو جس طرح تباہ کیا ہے، اس پر ورلڈبینک بھی متفکر ہے۔ آئی ایم ایف بھی ہندوستان کی گرتی معیشت پر انتباہ کر رہا ہے اور خود ماہر معاشیات ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی گہری تشویش کا اظہارکیا ہے اور وارننگ دی ہے کہ ملک کی معیشت کی حالت مسلسل بگڑتی جا رہی ہے، آنے والے دور میں ملک کی حالت کتنی بدتر ہوگی؟ اس پر حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ جبکہ حکومت کو اس سمت فوری قدم اٹھانا چاہیے۔

دیکھا جائے تو ملک میں مندی کا سب سے زیادہ اثر مہاراشٹر پر پڑا ہے، کسانوں کی خودکشیاں بھی مہاراشٹر میں سب سے زیادہ ہو رہی ہیں، آٹوہب بری طرح سے متاثر ہے، یہاں کے سرمایہ کار دوسری ریاستوں میں شفٹ ہو رہے ہیں۔ شرح نمو پانچ فیصد پر آچکی ہے، ملک کا ہر تیسرا شخص بیکار ہے، مگر اس بیکاری میں بھی یہی گونج ہے کہ دیش بدل رہا ہے، آگے نکل رہا ہے، سب کچھ ٹھیک ہے‘۔ یہ بدلاؤ کتنا خطرناک ہے کہ جس کے تحت نئی نسل کے ہاتھ میں موبائل تھما کر انہیں مصروف کر دیا گیا ہے اور اب یہ عالم ہے کہ نوجوان کو نہ تو اپنے مستقبل کی فکر ہے اور نہ روزگار سے مطلب ہے، جیو کا فری کنکشن ہے، لگے رہو منا بھائی، نوکری مت مانگو، روزگار کی بات مت کرو، ریزرویشن اور معیشت پر سوال نہ اٹھاؤ، بی جے پی کا آئی ٹی سیل ہر وقت نئے نئے ویڈیو کا لطف فراہم کرا رہا ہے اور نئی نسل کو فیس بک، واٹس ایپ پر گمراہ کن نعروں کا نشہ پلایا جا رہا ہے، ان کے ذہن کو زہریلا بنایا جا رہا ہے۔

ملک مسائل کے بوجھ سے دبتا جا رہا ہے، حکومت اس بوجھ کو ہٹانے کے بجائے عوام کا دھیان بٹانے کے لئے ہرحربے کا استعمال کر رہی ہے، ٹی وی کے ذریعہ رام کے ساتھ ساتھ عمران خان کی بیوی تک کے بارے میں منورنجن کرایا جا رہا ہے، بھوکے رہیے! مگر احساس سے عاری رہئے! سرکار اسی سیاست کی بساط بچھا کر شہ مات کا کھیل کھیل رہی ہے۔ ہریانہ اور مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، وہاں نوکریاں دینے کا وعدہ ہو رہا ہے، مگر جہاں چناؤ نہیں ہے، وہاں نوکریوں پر آفت ہے۔ یوگی سرکار کے دور میں 25 ہزار کانسٹیبلوں کی نوکریاں سلب کرلی گئی ہیں، یہ کیسا دیش بدل رہا ہے؟ جہاں معیشت اور ترقیات، سیکولزم اور اقدار سب پس پشت ہو چکے ہیں اور نام نہاد ہندوتو کا گھوڑا آگے دوڑ رہا ہے۔ کل تک جو گاندھی کے قاتل تھے وہ دیش کے ’نائک‘ بنائے جا رہے ہیں، نہرو اور گاندھی کو ’کھلنائک‘ بنایا جا رہا ہے، ساورکر جن پر قتل کا الزام لگا تھا، مگر وہ بری ہوگئے تھے، جبکہ کپورکمیشن نے واضح کردیا تھا کہ گاندھی جی کے قتل کی سازش کی پلاننگ میں ساوکر بھی شامل تھے، لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس، اب ساوکر کو بھارت رتن دینے کی پلاننگ چل رہی ہے، گاندھی جی کے قاتل گوڈسے کا نام بھی بڑے’سمّان‘ سے لیا جانے لگا ہے، انہیں گوڈسے جی کہہ کر پکارا جانے لگا ہے، ان کی مورتیاں بن رہی ہیں، مندر بنائے جا رہے ہیں، گوڈسے اتنا مہان بن چکا ہے کہ اس کے ریوالور کی نیلامی کرانے کی بات اٹھائی جا رہی ہے، یقینا دیش بدل رہا ہے، آگے نکل رہا ہے۔

اس میں دورائے نہیں ہے کہ ملک کی معیشت اور سیاست دونوں غلط سمت میں رواں دواں ہیں، جس کے احتجاج میں ملک کے اقتصادی مشیر اروند نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے، آربی آئی کے گورنر چلے گئے، رگھورام راجن نے بھی شدید احتجاج کیا، لیکن سیاست کے نقار خانے میں معیشت، ترقیات اور ملک کی آواز سنتا کون ہے؟ اچھے دنوں کا خواب دکھانے کے بعد پانچ ٹریلین اکانومی کا سپنا دکھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ سپنا دکھانے والوں نے بینکنگ سیکٹر کو ایسا تہس نہس کیا ہے کہ اب ہر اکاؤنٹ ہولڈر تشویش میں مبتلا ہے کہ بینکوں میں اس کی جمع پونجی کس حد تک محفوظ ہے؟ میں آج کے بھارت اور 15ویں صدی کے ہندوستان کا موازنہ کرتا ہوں، اس دور کی معیشت اور آج کی اکانومی کا تقابل کرتا ہوں تو بڑی حیرانی ہوتی ہے، وہ مسلم حکمرانوں کا دور تھا، آج ہندوتو کا غلبہ ہے۔ اکبر کا اکاؤنٹنسی اور ریونیو کا دور آج بھی ماہرین اقتصادیات کے لئے مثال ہے، اس دور میں ہندوستان کا گھریلو پروڈکٹ برطانیوی سامراج سے چار گنا زیادہ تھا۔ ماہر اقتصادیات اور مورخ اینگس میڈیسن کے مطابق مغل دور میں فی کس آمدنی (Per capita Output) انگلینڈ اور فرانس سے بہت آگے تھی۔ 1640 میں شاجہاں کے دور میں روپے کی قیمت دنیا کی کرنسی سے 50 گنا زیادہ تھی۔ مغلیہ دور اقتدار میں ہندوستان کی خوبصورتی سے اہل مغرب حد درجہ متاثر تھے۔ دہلی، حیدرآباد، کولکاتہ، لکھنؤ اس طرح تھے، جیسے آج پیرس، نیویارک، لندن وغیرہ سمجھے جاتے ہیں۔ تاریخ کے سب سے زیادہ معتوب حکمراں اورنگزیب کے دور میں پوری دنیا کی ایک چوتھائی جی ڈی پی ہندوستان کے پاس تھی۔ اورنگزیب کا دور اقتصادی طور پر دنیا کا سب سے مضبوط ترین دورتھا، جو حیثیت آج امریکہ کی ہے، اس سے کہیں زیادہ حیثیت کا حامل ہندوستان ہوا کرتا تھا۔ مگر یہاں تو تاریخ بدلی جا رہی ہے، اقدار بدل رہے ہیں، بھارت بدل رہا ہے۔

بہرحال ملک کی معیشت اور ترقی بدحالی کے جس کگار پر ہے، اسے بھلے ہی سیاست کے بازی گر نظرانداز کریں، مگر دنیا ہندوستان کی گرتی معیشت اور یہاں کی غربت وافلاس اور بھکمری کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ گلوبل ہنگر انڈکس (جی ایچ آئی) 2019 کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہندوستان بھکمری میں 117 ممالک میں 102ویں مقام پر آچکا ہے، جبکہ پڑوسی ممالک میانمار، بنگلہ دیش حتیٰ کہ پاکستان بھی اس سے بہتر حالت میں ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر روز 244کروڑ کی خوارک برباد ہوتی ہے۔ یہاں 2.1 کروڑ ٹن گیہوں ہرسال برباد ہوتا ہے۔ ایک لاکھ کروڑ کی فصل کٹائی کے بعد خراب ہو رہی ہے۔ ہندوستان کے 38 فیصد بچے عدم تغذیہ کے شکار ہیں۔ غذا کی کمی کا بدترین اثر ان کے قد اور صحت پر پڑ رہا ہے۔ مگر ملک کو صحیح سمت دینے کے لئے یہاں کی سیاست اور نااہل قیادت نے تمام ترقیات کو بے سمت کر دیا ہے۔ پرانے بزرگوں کا کہنا ہے کہ غلط سمت میں اگر آپ پوری رفتار سے بھی جاؤ گے تو بھی منزل نہیں ملے گی، اگر سمت درست ہے تو کچھوے کی رفتار بھی منزل تک پہنچا دیتی ہے، مگر نئے دور، ’نیوانڈیا‘ نئے بھارت میں پرانے لوگوں کی باتیں سنتا کون ہے؟ بقول ڈاکٹر ظہیر رحمتی:

مشکل میں پڑگئے ہیں، کہیں بھی تو کیا کہیں
اب اس کو راہ زن کہیں یا رہنما کہیں

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close