تازہ ترین خبریںمحاسبہ

دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے

محاسبہ…………….سید فیصل علی

اسلام آباد میں کرشنا مندر کا کام روک دیا گیا ہے، پاکستان کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ق) نے پاکستان میں مندر کی تعمیر پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے ذریعہ ہندوؤں کو زمین دیا جانا غیرقانونی ہے، اس پارٹی کی حمایت میں مولویوں کی ایک جماعت بھی مندر تعمیر کے خلاف میدان میں اتر چکی ہے۔ کئی مذہبی تنظیموں کے ذریعہ فتوے بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ایک مولوی صاحب زیرتعمیر مندر کی جگہ جاکر باقاعدہ اذان بھی دے آئے ہیں، شاید وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس جگہ پر مسجد تھی، اس لئے وہاں مندر نہیں بنایا جا سکتا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کسی بھی ملک میں جہاں کسی خاص مذہب والوں کو اکثریت حاصل ہو تو وہاں رہنے والے دوسرے مذاہب کے لوگوں کے بنیادی حقوق بے معنیٰ ہو جاتے ہیں؟ اکثریت کے دم پر اقلیت کے حقوق کو کچلنا کہاں کا انصاف ہے؟

سیاست اور مذہب جب ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہو جاتے ہیں تو سب سے زیادہ خسارہ مذہب کا ہی ہوتا ہے اور اس کی اصل روح کہیں گم ہو جاتی ہے، انسانیت، امن پسندی، رواداری، ایک دوسرے سے محبت کے پیغامات سیاست کی چکی میں پس جاتے ہیں، انتہا پسندی اور شدت پسندی کا بول بالا ہو جاتا ہے اور جب اکثریتی طبقہ کا زعم اس میں در آئے تو مذہب کا سارا تقدس نابود ہو جاتا ہے، طاقت اور اکثریت کے دم پر ہر ناجائز عمل جائز بن جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے اور ہندوستان میں بھی ہو رہا ہے، لیکن پاکستان اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی آگے ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اولین مندر کی تعمیر کو روکنا اسی جنون کا منظرنامہ ہے۔

بہرکیف پاکستان کی ایک سیاسی جماعت اور کچھ مولویوں کے ایک گروپ نے مندر تعمیر کا معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچایا، جہاں کورٹ نے اسے لغو سمجھتے ہوئے خارج کر دیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس فاروق نے کہا ہے کہ آئین کی دفعہ 20 کے تحت پاکستان میں رہنے والی سبھی اقلیتوں کیلئے آزادانہ طور پر اپنے مذہبی مقامات تیار کرنے کا پورا اختیار ہے۔ کورٹ نے عرضی دہندگان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کی طرح ہندوؤں کو بھی مذہبی رسومات ادا کرنے کا پورا حق ہے۔ مگر ان تمام تر آئینی اختیارات اور حقوق کے باوجود پاکستان میں شدت پسندی کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ پاکستان کا جاگیردارانہ ماحول، مسلکی معاملوں میں خون خرابے، شیعہ سنی جھگڑے، مسجدوں میں نمازیوں پر بم دھماکے اور اسکولی بچوں پر دہشت گردانہ حملے پاکستان کی شبیہ بن چکے ہیں، اس کے علاوہ پاکستان میں دہشت گردوں کا غلبہ وہاں کے مذہبی جنونیوں اور سیاستدانوں کو بھی تقویت پہنچا رہا ہے۔ پاکستان میں مندر نہیں بننے دیں گے، اسی شدت پسند فکر کا نتیجہ ہے۔ کیا پاکستان کے اس مذہبی جنون سے بھارت کے نام نہاد ہندوتو کے علم برداروں کو طاقت نہیں ملے گی؟

غور طلب ہے کہ پاکستان میں ہندوؤں کی تعداد 8 لاکھ ہے،جن میں بڑی تعداد سندھ کے ہندوؤں کی ہے۔ اسلام آباد میں 30 ہزار سندھی ہندو مقیم ہیں، وہاں پر کوئی مندر نہیں ہے، البتہ اسلام آباد کے مضافات میں واقع سیدپور گاؤں میں ایک چھوٹا سا قدیم مندر کا کھنڈر ہے، جسے قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ ہندوؤں کا مطالبہ ہے کہ ان کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے، اس لئے انہیں حکومت کی جانب سے کچھ زمین دی جائے تاکہ اس مندر کی توسیع کریں یا از سر نو تعمیر کریں اور اپنے مذہبی رسومات ادا کریں، چنانچہ پاکستان اقلیتی اوقاف بورڈ کی جانب سے مندر سے متصل 4 ایکڑ زمین دینے کے ساتھ ساتھ حکومت نے 10 کروڑ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔ پاکستان کے ہندوؤں نے اس اعلان کا پرجوش خیر مقدم کیا، بنیادیں کھو دی گئیں، نئے سرے سے مندر تعمیر کا کام شروع ہوا، لیکن حکومت کے ذریعہ اقلیتی طبقے کی پذیرائی کے عمل سے شدت پسند مولویوں کے ابروئے مبارک اور سیاستدانوں کی سیاست پر بل آگئے، فتوے در فتوے جاری کر دیئے گئے اور ایک ہنگامہ شروع ہوگیا، حالانکہ 60 کے عشرے تک پاکستان میں 22 سرکاریاں چھٹی ہوتی تھیں، جن میں کرسمس کی ایک ہفتے کی چھٹی کے علاوہ، بیساکھی، ایسٹر، دسہرہ، دیوالی اور ہولی وغیرہ کو قومی تعطیل کا درجہ حاصل تھا، مگر قانون وہی ہے، حکمراں پہلے بھی تھے، لیکن انہوں نے کبھی اعتراض نہیں کیا، پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی اسٹیٹ کے طور پر جانا اور پرکھا، مگر آج پاکستان مذہبی شدت پسندی اور سیاست کی چکی میں پس رہا ہے، جس کا خمیازہ کبھی کبھی ہندوستانی مسلمانوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ 20 رمضان المبارک سن 8 ہجری بمطابق 10جنوری 630عیسوی کو حضور اکرمؐ اور آپؐ کے جاں نثارصحابہؓ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مکہ پر فتح دلائی تو انہوں نے کعبہ کو ضرور بتوں سے پاک کیا، لیکن جو گھروں میں بت تھے انہیں کچھ نہیں کیا گیا۔ صحابہ کرامؓ تو دوسروں کی عبادت گاہوں کا حد درجہ خیال رکھتے تھے۔ حضرت عمرفاروق کو یروشلم میں پادریوں نے مشورہ دیا کہ وہ چرچ میں نماز پڑھ لیں تو انہوں نے صرف اس لئے گریز کیا کہ کہیں مسلمان اسے مسجد میں نہ بدل دیں، چنانچہ انہوں نے چرچ سے کچھ فاصلے پر جاکر نماز ادا کیں۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں اسلامی تاریخ و تعلیم اور تہذیب کی روشمنی میں سجھائی نہیں دیتا کہ اسلام بھائی چارہ، رواداری، اخلاق، امن وآشتی وانسانیت کا عظیم مذہب ہے، قرآن کریم میں بھی یہی تلقین کی گئی ہے کہ’تمہارا دین تمہارے لئے اور ہمارا دین ہمارے لئے‘۔ ستم تو یہ ہے کہ دوسروں کی عبات گاہوں کا خیال رکھنے والے اسلام کے پیروکار آج اس بات پر سیخ کباب ہو رہے ہیں کہ پاکستان میں مندر کیوں بن رہا ہے؟ حیرت تو یہ ہے کہ سعودی عرب میں چرچ کی تعمیر کی بات پر کسی عالم دین کی کوئی شرگوشی تک نہیں ہوئی۔ اومان میں 100 سالہ پرانا مندر ہے، جہاں آج بھی پوجا پاٹھ ہوتی ہے، بحرین میں آٹھ مندر ہیں، جنہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے، دبئی میں ایک کمرشیل عمارت کی چھت پر مندر بنایا گیا تھا، 1918 متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی میں مندر بنانے کیلئے حکومت نے زمین عطیہ کیا تھا، جس کے سنگ بنیاد کے موقع پر وزیراعظم نریندمودی کو بھی مدعو کیا گیا تھا، مگر کسی کے ماتھے پر شکن نہیں آئی۔ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں مندر تعمیر ہوتے رہے ہیں، برصغیر میں تو ایک طویل عرصے تک مسلمانوں کی حکومت رہی ہے، اورنگ زیب عالم گیر کو سخت گیر حکمراں کہا جاتا ہے، مگر انہوں نے کبھی کسی مندر کی تعمیر پر روک نہیں لگائی، بلکہ انہوں نے تو کئی مندروں کو قومی خزانے سے عطیات بھی دیئے، بہار کے گیا ضلع کے وشنوپتھ مندر کیلئے انہوں نے تو جاگیر عطا کی تھی، سکھوں کے سب سے بڑے گردوارے امرتسر گولڈن ٹیمپل کی سنگ بنیاد بھی معروف صوفی بزرگ میاں منیر نے رکھی تھی۔ اسلام تو رواداری کا سرچشمہ ہے، مگر اس سرچشمے کو سیاست اور جاہل مولویوں کی حماقت آلودہ کر رہی ہے۔

خدا کا شکر ہے کہ پاکستان میں مذہبی شدت پسندوں کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں مندر کی تعمیر کو روکا گیا تو بھارت میں فسطائی عناصر کو موقع ملے گا، وہاں بھی مسجدوں کی تعمیر کیخلاف پابندی کی آواز کو کوئی روک نہیں سکے گا۔ بہرحال اسلام آباد میں مندر کی تعمیر پر روک ایک اسلامی فلاحی ریاست کے مذہبی تصور کے منافی ہے۔ کرتار پور راہداری کا کھولنا بھی پاکستان کا ایک مستحکم عمل تھا، لیکن اس کے برعکس مندر کی تعمیر پر روک ایک رجعت پسندانہ اقدام ہے، مگر میں پھر کہوں گا کہ جب مذہبی قائدین سیاسی بساط کا مہرہ بن جائیں، مذہبی پیغامات کے بجائے سیاست کے مقلد ہوجائیں تو پھر مذہب کا سارا تصور اور سارا تقدس ختم ہو جاتا ہے، امن وآشتی، روادری اور انسانیت کی باتیں سب بے معنیٰ ہوجاتی ہیں۔ بقول فراق گھورکھپوری:

مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستی
دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے

([email protected])

محاسبہ………………………………………………………………………………………سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close