تازہ ترین خبریںمحاسبہ

ابھی مایوس مت ہونا، ابھی بیمار زندہ ہے

محاسبہ…………….سید فیصل علی

شہریت قانون کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج ہے،شمال مشرقی ریاستوں میں حالات بے قابو ہیں، خدشہ ہے کہ کہیں شمال مشرق کے عوام کا احتجاج وسیع تر نہ ہوجائے، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی ٹکراؤ کا مرکز بن چکا ہے، یونیورسٹی 5جنوری تک بند کردی گئی ہے، بنگال میں اسٹیشن سمیت 5 ٹرینوں میں آگ لگا دی گئی ہے، آسام کی حالت تو مت پوچھئے، وہاں کے 8 اضلاع کرفیو کے حصار میں ہیں، 15 سے زائد شہروں میں ملٹری گشت جاری ہے، اضافی فوج طلب کرلی گئی ہے، 3 لوگ مارے جا چکے ہیں، بی جے پی کا دفتر اور ایم ایل اے کا گھر جلانے کی خبریں ہیں، لیڈران روپوش ہو چکے ہیں، ٹرین، ایئرلائنس سے لے کر ٹریفک ٹھپ ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کا دورہ شیلانگ منسوخ ہو چکا ہے۔ گوہاٹی میں منعقد ہونے والی جاپانی وزیر اعظم اور مودی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ہنگامے کی نذر ہو چکی ہے۔ شہریت قانون کو لیکر ہند، بنگلہ دیش رشتوں میں کڑواہٹ آچکی ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے اپنا ہند دورہ منسوخ کردیا ہے، بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی تنقید ہو رہی ہے، برطانیہ، فرانس، امریکہ ودیگر کئی ملکوں میں اس قانون پر شدید ردعمل ہوا ہے۔ اسے غیر انسانی قرار دیتے ہوئے امریکہ نے ہندوستان میں مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ وہاں کی حقوق انسانی کمیشن نے امت شاہ کے امریکہ داخلہ پر بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریت کے نئے قانون نے انسانیت کی آنکھوں میں آنسو بھر دیئے ہیں، ہندوستان کی جمہوریت اور سیکولرکردار خاص کر آئین کے آگے آج ایک ایسا سوال کھڑا ہے جس کا جواب مشکل ہے۔ گو کہ مودی اور امت شاہ کہہ رہے ہیں کہ اس قانون سے مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ مگر ماہرین قانون اور سپریم کورٹ کے سابق جج کاٹجو، گانگولی سمیت کئی اہم شخصیات کی نظر میں یہ قانون انسانیت اور آئین کو مہلک ضرب پہنچاتا ہے۔ ایک طرف اس قانون سے آئین کے آرٹیکل 14 (مساوات کا حق) کی خلاف ورزی ہے تو دوسری طرف ملک کی رواداری اور سیکولرزم کو بھی گہری چوٹ پہنچاتا ہے اور مذہبی تفریق کو ہوا دیتا ہے۔ مسلمانوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرتا ہے۔ ہندوستان جس کی عظمت کی مثال دنیا دیتی ہے وہاں اب نئے قانون میں بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان سے آنے والے ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں، بودھوں، جینیوں اور پارسیوں کو شہریت دینے کی دریا دلی دکھائی جا رہی ہے۔ مگر اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کرنا تنگ نظری کی انتہا ہے۔ مذکورہ بالا ملکوں سے آنے والے افراد کو پناہ گزیں تسلیم کرکے سمّان دیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو گھس پیٹھیا قرار دے کر مجرم بنایا جا رہا ہے۔ اس دورخی انسانیت سوز قانون کی ہرسمت مذمت ہو رہی ہے۔ مگر زہریلی سیاست اور ہندوتو کے نقارخانہ میں سنتا کون ہے؟

بی جے پی نے اس قانون کے ذریعہ مسلمانوں کو جھٹکا دینے کی کوشش کی ہے تو نتیش کمار کی منافقانہ سیاست سے بھی مسلمانوں کو کرارا جھٹکا لگا ہے۔ پارلیمنٹ میں جنتا دل یو نے اس قانون کی حمایت کرکے اپنا مسلم دشمن چہرہ عیاں کردیا ہے، لیکن یہ جھٹکا قدرت کا نظام ہے کہ سچائی کے آئینہ پر پڑی دھول ایک نہ دن زائل ہوتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج نتیش کو اس کے لیڈر ہی آئینہ دکھا رہے ہیں، پون ورما، پرشانت کشور وغیرہ لیڈروں نے کھلے طور پر اس قانون کو مسلم دشمن قانون قرار دیا ہے۔ سرکار کی مسلم دشمن پالیسی کو لیکر کانن گوپی ناتھن جیسے آئی اے ایس مستعفی ہوچکے ہیں۔ بہار بیتیا کے رہنے والے مہاراشٹر کے کیڈر کے آئی پی ایس عبدالرحمن نے بھی اس کالے قانون کے خلاف اپنے آئی جی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ معروف ادیب یعقوب یاور نے احتجاج میں اپنا سرکاری ایوارڈ واپس کر دیا ہے۔ نصیر الدین شاہ، سورا بھاسکر سمیت بالی وڈ کی سیکڑوں ہستیاں اس بل کے خلاف ہیں، معروف مؤرخ عرفان حبیب کی قیادت میں 80 دانشوروں نے اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، گویا پورا ملک اس کالے قانون کے خلاف ماتم کناں ہے، جمعہ کے روز 2 ہزار شہروں میں مسلمانوں کا احتجاج دنیا نے دیکھا اور اس احتجاج کا سلسلہ دراز ہے، بایاں محاذ ہو یا دیگر علاقائی پارٹیاں اب سب اس قانون کے خلاف سڑکوں پر آرہی ہیں۔ دہلی کے رام لیلا میدان میں سونیا گاندھی، منموہن سنگھ، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ذریعہ موجودہ حکومت کی خطرناک پالیسی کو اجاگر کرنا اس بات کا غماز ہے کہ یہ کالا قانون ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ حالانکہ مغربی بنگال، کیرل، پنجاب، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، مہاراشٹر جیسی غیر بی جے پی حکومتوں نے اپنی ریاستوں میں اس قانون کے نفاذ سے انکار کیا ہے مگر بہار جس کی ثقافت، سیکولر کردار ملک کے لیے مثال رہی ہے، جو انقلاب کی سرزمین کہلاتی ہے وہاں نتیش کمار کی اس قانون کی حمایت سے نہ صرف مسلمانوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے بلکہ بہار کے سیکولر کردار کی بھی تذلیل ہوئی ہے۔

جنتا دل یو کو مسلمانوں کی بدولت سیاسی طاقت حاصل ہوئی تھی بہار کے عوام نے بی جے پی کے قدم روکنے کے لئے لالو نتیش گٹھ بندھن کو ووٹ دیا تھا مگر نتیش کمار کا بی جے پی کی گود میں بیٹھ جانا مسلمانان بہار کے لئے ایک کڑوا گھونٹ تھا مگر پھر بھی امیدیں برقرار تھیں لیکن اب یہ امیدیں بھی دم توڑ چکی ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں اس شرمناک قانون پر سوال اٹھ رہا ہے خود جنتا دل یو کے اندر کئی غیر مسلم لیڈران بھی اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں، مگر جنتا دل یو کے مسلم لیڈران خاص کر درجنوں ممبران اسمبلی مصلحت اور منافقت کی چادر اوڑھے چپی سادھے پڑے ہیں، یقین نہیں آتا کہ راجیہ سبھا کی مسلم جنتا دل یو رکن پارلیمنٹ کہکشاں پروین نے قانون کی حمایت میں کیسے ووٹ دے دیا؟ یہ وہ زخم ہے جو کبھی نہیں بھرے گا۔ مسلمان اور دلت آنے والے انتخابات میں اس کا بدلہ لیں گے۔

بہر حال یہ تو طے ہے کہ اس قانون کے کوڑے سے مسلمانوں کو سزا دی جائے گی، حالانکہ سپریم کورٹ میں اس قانون کے خلاف 18 عرضیاں داخل کی جا چکی ہیں جس کی سماعت 18 دسمبر کو ہونے والی ہے مگر آج تو عدلیہ خود جوڈیشیل ریفارم کی زد میں ہے۔ ملک کے آئین، جمہوریت سب پر جب نئی تہذیب اور نئی سیاست کی پرت چڑھ رہی ہے تو ایسے دور میں کیا سپریم کورٹ اس قانون پر قدغن لگانے کی جرأت کر سکے گا؟ سپریم کورٹ نے رام مندر بنانے کی راہ ہموار کردی، ناناوتی کمیشن نے گجرات فسادات معاملہ میں مودی کو کلین چٹ دے دی۔ تین طلاق اور بابری مسجد معاملہ میں کامیابی کے نشے سے سرشار حکومت نے سوچا تھا کہ شہریت قانون کے معاملہ میں بھی مسلمان سڑکوں پر نہیں آئیں گے۔ مگر آج جس طرح پورے ملک میں اس قانون کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں وہ بھی ایک نیا منظر نامہ ہے۔ 29 ریاستوں سے اب محض نو ریاستوں تک اقتدار تک سمٹ جانے والی بی جے پی کے لیڈران بھلے ہی اس ایشو کو ہندو، مسلم بنانے کی کوشش کررہے ہیں مگر تمام تر کوششوں کے باوجود یہ احتجاج ہندومسلم ایشو نہیں بن سکا ہے، کیونکہ اس قانون کے خلاف برادران وطن بھی مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ ٹی وی چینلوں کی چیخ وپکار بھی اس آواز کو سپوتاز کرنے میں ناکام ہے۔ عوام، میڈیا کی ذہنیت اور اینکروں کی فطینیت بخوبی سمجھ چکے ہیں۔ نتیش کمار کی منافقت کا راز بے نقاب ہونے کے بعد اب سب کی نظریں لالو پرساد کی طرف اٹھی ہوئی ہیں۔ آرجے ڈی نے 21 دسمبر کو بہار بند کا اعلان کیا ہے۔ لالو پرساد یادو نے جیل سے مسلمانوں کو حوصلہ رکھنے کی تلقین کی ہے اور یہ پیغام ٹوئٹ کیا ہے:

ابھی آنکھوں کی شمعیں جل رہی ہیں اصول زندہ ہے
ابھی مایوس مت ہونا، ابھی بیمار زندہ ہے
ہزاروں زخم کھاکر بھی میں دشمن کے مقابل ہوں
خدا کا شکر کہ اب تک دلِ خوددار زندہ ہے

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close