Connect with us

Bihar

جمیعت علماء ارریہ کے زیر اہتمام ارریہ میں ضلع کے اربابِ مکاتب و مدارس کے لئے منفرد اور تاریخی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد۔

Published

on

ارریہ:گزشتہ روز بعد نماز ظہرتا نماز عصر،دینی تعلیمی و تربیتی اور معروف ومشہور ادارہ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ کے وسیع و عریض کیمپس میں جمعیت علماء کے زیر اہتمام، ڈاکٹر عابد حسین صدر جمعیت علماء ارریہ کی صدارت، مولانا  مفتی جاوید اقبال صدر جمعیت علماء بہار کی سرپرستی، مولانا مفتی اطہر القاسمی، نائب صدر جمیعت علماء بہار و جنرل سیکرٹری جمعیت علماءارریہ کی حسن نظامت، مولانا شاہد عادل قاسمی نائب صدر جمعیت علماء ارریہ و پرنسپل مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ کی نگرانی میں مدارس اسلامیہ ضلع ارریہ کے تمام نظماء، مہتممین، منتظمین، اساتذۂ کرام،ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور درد دل رکھنے والے دانشوران قوم و ملت کی تربیت اور گائیڈ کے کے لئے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ایک پروقار منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ اس پروقار اور منفرد ورک شاپ کا بابرکت آغاز قاری مطیع الرحمن صاحب کی تلاوت سے ہوا جبکہ قاری قمر الزماں قمر نعمانی اور مولانا فیاض راہی نے نعتوں کا گلدستہ پیش کیا اور اس پروقار اور خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی عالم ربانی، فاضل جلیل اور فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مہمان خصوصی کی حیثیت سےجبکہ مہمان اعزازی کی حیثیت سے، مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد و مفتی عمیر انور مظاہری امام و خطیب قطب شاہی و ڈائریکٹر سدرہ ایجوکیشن اکیڈمی حیدراباد سمیت ملت اسلامیہ کی عظیم شخصیات اور دیگر معززین نے شرکت فرماکر اس منفرد ورکشاپ کے حسن کو دو بالا کر دیا اور اس خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد، مہمان اعزازی مولانا مفتی جاوید اقبال صدر جمیعت علماء بہار نے ضلع ارریہ کے تمام  مہتممین، اساتذہ کرام، ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور دانشوران قوم و ملت کو ملک کی موجودہ حالات کے پیش نظر مدارس اسلامیہ کا نظام کیسے چلائیں؟ مدارس اسلامیہ کی استقامت اور اس کی بقا کے لئے کیا کیا لائے عمل درکار ہیں؟ اور زمینی سطح پر کن کن دستاویزات سمیت دیگر کیا کیا ضروری چیزیں حقیقیق طور پر از حد لازمی ہیں؟، اس کے متعلق پوری تفصیل کے ساتھ جانکاریاں دیں۔  ضلع بھر کے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد سے خطاب کرتے ہوئے  مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء دین اسلام کے پاور ہاؤس ہیں، علماء کے ذریعہ اللہ اور رسول کے کلام دین اسلام کے پیروکاروں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دینی مدارس اسلام کے تحفظ کے قلعے ہیں، اس لئے اس کی حفاظت ضروری ہے۔ مولانا نے کہا کہ آپسی اختلافات کے وقت غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے گریز کریں اور مل بیٹھ کر مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ علماء حضرات کو تعلیمی بیداری اور قومی یکجہتی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیئے۔  آپ نے یہ بھی کہا کہ عام لوگ تو اپنے لئے جیتے ہیں مگر ہم علماء کو لوگوں کے لئے جینا ہے، ان کے لئے پریشانیاں اٹھانی ہیں۔ آپ نے کہا امام ضامن ہے، یعنی امام کی نماز صحیح ہوگی تو مقتدیوں کی نماز بھی صحیح ہوگی اور مساجد کے ائمۂ حضرات اپنے آپ کو صرف نماز کا امام نہ گردانیں بلکہ اپنے آپ کو  لوگوں کے ایمان کا بھی امام سمجھیں!، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی نماز کی فکر تھی، ان کے ایمان کی فکر تھی، ان کے معاملات کی فکر تھی، ویسے ہی فکر ہمیں بھی اوڑھنی چاہیے اور اس کو عملی جامہ پہناناچاہیے پھر آپ نے ایک صحابی کی نماز صحیح نہیں ہونے کے واقعہ کو تفصیل سے بتایا اور اس ضمن میں آپ نے کہا کہ مقتدی کی نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور ان کی نمازیں درست ہوں، یہ امام کی ذمہ داری ہے، آپ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا ہم مسجدوں میں اپنے مقتدی کے لئے اور مدرسوں میں ہم اساتذہ طلباء کے لئے توقف کرتے ہیں؟ آپ نے کہا عالم کا کردار یہ ہے کہ بغیر اشتہار اور بغیر دعوت نامہ کی فریقین کے معاملے کو دیکھیں اور اس کا تصفیہ شریعت کی روشنی میں کریں! یہ انتظار نہ کریں کہ ہم کو مدعو کریں گے۔ بلکہ خود سے پہنچ کر فریقین کے درمیان مصالحت کروائیں اور مصالحت کروانے میں فریقین کی عزت نفس کا پورا پورا خیال رکھیں! آپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تو ہم امامت کے لئے جھگڑا کرتے ہیں پھر آپ نے یہاں پر بھی ایک صحابی کا نام لیا جو امامت کر رہے تھے اور حضور کی آہٹ پاکر کر پیچھے ہٹ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے منع فرما دیا۔ دیکھئے وہاں اللہ کے رسول نے ایسا نمونہ پیش کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی آپ نے اماموں سے کہا کہ جس طرح حضورؐ نے اپنی حیات طیبہ میں صرف صحابہ کی نمازوں کی فکر نہیں کی تھی بلکہ آپ نے معاشرے کے معاملات کی بھی فکر کی تھی آپ نے ہندوستان کے ایک وکیل کا تذکرہ کرتے ہوئے اور ایک جج کی بات کو رکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ آپ اپنا مقدمہ لائیں گے تو ہم اپنے قانون کے حساب سے فیصلہ کریں گے۔ جب عدالت میں ہمارے مقدمات پہنچے تو حکومت کو ہمارے معاملات میں مداخلت کا راستہ مل گیا۔ اس لئے امت کے اختلافات کو علماء ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین تک پہنچ کر، ان کےآپسی اختلافات کو ختم کراکر دم لیں! فی الوقت کے حالات کے پیش نظر ضرورت ہے کہ لوگ اپنے مقدمات کا فیصلہ علماء سے کرائیں!، علماء کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی معیشت کی بھی فکر کریں اپنی دولت کی حفاظت کریں ورنہ آئندہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ روپیہ بھر کے لے جائیں اور آپ کو زمین اور مکان نہ ملے۔ آپ نے کہا بازاروں میں جن سامانوں  کی رسد اور ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہےتو ان چیزوں کی قیمت بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور جب ڈیمانڈ کم ہوتی ہے تو قیمت کم ہو جاتی۔  آپ نے کہا مکئی کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس میں کولسٹرول نہیں ہوتی ہے آپ مکئی کی فصل میں محنت کرتے ہیں مگر آپ کو  قیمت کم ملتی ہے۔ اسلام دین فطرت اور فطری قوانین پر عمل ضروری ہے علماء کا کام کسی ایک شعبہ سے جڑا ہوا نہیں ہونا چاہیے! اور علماء منکرات پر انگلیاں رکھیں۔ پھر آپ نے ملیشیا میں نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکیوں کے ورک شاپ کے انعقاد کاذکر کیا اور کہا کہ ملیشیا میں نکاح سے قبل پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس ورک شاپ کی سند ہے یا نہیں اگر سند ہوتی ہے تو اس کی شادی ہوتی ہے ورنہ نہیں۔ آپ نے کہا کہ زوجین کے اختلافات کو ان کے بچوں کی موجودگی میں ان کی کفالت اور دیگر ممتا کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے درمیان کے اختلافات کو ختم کروانا علماء کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ علماء کو تو مسلمانوں کے تمام مسائل کی فکر ہونی چاہیے اگر اس کی فکر نہیں ہے تو گویا آپ علماء کو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کی کوئی فکر نہیں ہے جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عالم کو اپنے عوام کی فکر نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ آخر میں آپ نے مدارس کے اساتذہ سے کہا کہ طلباء کو جسمانی سزادینے سے گریز کریں! یہ شرعا بھی جائز نہیں ہے اور نہ ہی قانوناً درست ہے، خاص کر آج کے ماحول کے پیشِ نظر بچوں کو جسمانی سزا دینے کو حرام سمجھیں۔ آپ نے کہا مدرسوں کی تعمیر سے زیادہ اس کی سیفٹی کی ضرورت ہے۔ جب کہ مولانا مفتی جاوید اقبال نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ارباب مدارس اپنے مدرسوں کے لئے تین کام کو فوقیت دیں نمبر ایک اپنے اپنے مدرسوں کی زمین کو مدرسے کے نام سے تبدیل کریں! اور دو نمبر پر ٹرسٹ یا سوسائٹی بنائیں اور نمبر تین مدرسے کی آمدنی اور خرچ کی اوڈٹ کرائیں!،  تعمیراتی عمل کے اسٹیمیٹ کو نگر پریشد یا پنچایت سے پاس کرائیں! کیونکہ آپ کی خامی کی وجہ سے آپ کا ادارہ بند ہو سکتا ہے، ایسے کوئی مدرسہ بند نہیں ہوگا، مدرسوں کی آمدنی پبلک کی چیز ہے اور پبلک کی چیز کا حساب انہیں دینا ضروری ہے۔آپ نے یہ بھی کہا کہ عام طور پر مدرسوں کی مشترکہ بینک میں کھاتہ نہیں ہوتا ہے اس لئے اس جانب پہل کریں! اور جوائنٹ کھاتا کھلوائیں خاص کر سرحدی علاقے کے ارباب مدارس اپنے دستاویزات درست کر لیں اور ارباب مدارس جذبات سے نہیں حکمت سے کام کریں! ڈرنے اور خوف کھانےکی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ جمعیت علماء ضرورت پڑنے پر آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، آپ کی اعانت کے لئے ہر وقت تیار ہے اور رہے گی اوراس ورکشاپ کے مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدر آبادنے بھی مدارس کے کاغذات اور دستاویزات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی قانون کو ہلکے میں نہ لیں!، ورنہ بعد میں یہی آپ کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ فی الوقت ملک ہندوستان میں رائی کو پہاڑ اور پہاڑ کو رائی بنانے کا کام ہورہاہے۔ اس لئے مدارس کے ذمہ داران یہ بات نوٹ کر لیں کہ جس جس شعبے میں کمیاں اور کمزوریاں ہیں تو ان کمزوریوں کا ازالہ کریں! اور اپنی نافعیت برقرار رکھیں انشاءاللہ آپ خراب حالات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر لیں گے اور آپ کے ادارے کا بال بھی بانکا نہیں ہوگا۔ آپ نے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا مومنین کو یقین دلانا ہے کہ انہیں دنیاوی زندگی میں خوف، بھوک، مالی نقصانات، جانوں کے زیاں (شہادت یا موت) اور پیداوار کی کمی جیسی آزمائشوں سے گزارا جائے گا تاکہ صبر کرنے والے اور سچے ایمان والے الگ ہو سکیں۔ آپنے اخیر میں کہا جو ادارے صحیح نہج پر چلتے ہیں ان کے ساتھ خدا کی نصرت ہوتی ہے۔ آپ نے کہا جب آپ کا ادارہ نافعیت اور ثمر آور درخت کی طرح ہوگا تو یقینا نصرت خداوندی آپ کے ادارے پر ہوں گی ، اس لئے مدارس کی نافعیت کے ہمیشہ ملحوظ نگاہ رکھیں! آپ علماء کرام دین کے معمار ہیں اور آپ پرجو فرائض منصبی عائد ہیں،  اس کی تکمیل ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ کریں! واضح رہے کہ ارریہ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر علمائے کرام کے لئے تعلیم اور قومی اتحاد پر ایک تاریخی تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس سے قبل مہمانوں کی شال پوشی کرکے انہیں اعزاز بخشا گیا پھر ورکشاپ کی شتہ اور ادبی انداز میں نظامت کے فرائض انجام دے رہے مولانا مفتی محمد اطہرالقاسمی نے مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی علمی، ادبی اور ملی خدمات پر مشتمل سپاس نامہ پڑھ کرسنایا اور ان کی ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ پھر اس ممتاز، منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کے نگران مولانا شاہد عادل قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمان خصوصی، مہمانانِ اعزازی اور ضلع کے تمات ارباب مدارس، ائمہ مساجد، حفاظ ومعلمین مکاتب اور مختلف اخبارات کے نمائندوں کا شاندار استقبال کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور آپ نے فرمایا کہ ارریہ کی سرزمین اپنے علماء، صلحا اور اکابرین کی بڑی قدر کرتی ہے اپنی قدر کی بقا کے لیے ہم علماء کو چاہیے کہ ہم اپنے وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیں آپ نے یہ بھی کہا کہ آج کا پروگرام اصلاحی پروگرام ہے ہم لوگ اپنی اصلاح کے لیے اکٹھا ہوئے اور ملک میں جمہوریت کی بقا اور اس کی سالمیت کے لئے ہم ہمیشہ پیش پیش رہیں
 اس تاریخ ساز منفرد خصوصی تربیتی ورکشاپ کو کامیاب بنانے میں جمعیت علماء کے اراکین سمیت تمام رضاکاروں نے اہم کردار ادا کیا جن میں پونے سے تشریف فرما قاری ڈاکٹر محمد طالب صدیقی بانی و مہتمم المعہد الاسلامی مولوی ٹولہ ڈوریا سوناپور، مولانا اکبر صادق ندوی امام وخطیب جامع مسجد یتیم خانہ ارریہ، مولانا مبارک صدیقی، مفتی محمد خالد قاسمی، مفتی ہمایوں اقبال ندوی، مولانا مصور عالم ندوی، مولانا دانش احمد قاسمی، مولانا عمر فاروق قاسمی، مفتی محمد ثاقب قاسمی اور مولانا غلام مجتبیٰ رشادی،
مولانا محمد فاروق مظہری ،مولانا محمد فیروز نعمانی ،مولانا آس محمد مظاہری ،مولانا غیاث الدین نعمانی ،مولانا عبد الجبار ندوی ،مفتی نعیم الدین ندوی ،مفتی دلشاد احمد نعمانی ،مفتی جاوید اختر مظاہری ،قاری حسیب الرحمان رحمانی ،مولانا محمد سفیان قاسمی ،مولانا اکبر صادق ندوی ،ڈاکٹر محمد معیز عالم ،مولانا وثیق الرحمن قاسمی ،قاری امیتاز احمد کاشفی ،مولانا کاشف نسیم ،مولانا ارشد جمال سبیلی ،مفتی محمد نعمان ابراہیمی ،مولانا ہلال مفتاحی ،مولانا اکرام الدین نعمانی ،مفتی محمد ثاقب قاسمی، الحاج محمد اسعد، الحاج رضی احمد ،ماسٹر شاکر رضا ،مفتی محمد خالد قاسمی ،حافظ نعمان اسلم ،مولانا محمد آصف قاسمی ،مولانا دانش احمد قاسمی ،مولانا عامر قاسمی ودیگر جمعیت علماء کے ضلع، بلاک اور پنچایتوں کے تمام اراکین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

سنگین جرم میں ملوث افرادکو دی جائے سخت سزا، متاثرہ خاندان کو ہر حال میں ملے انصاف

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:دربھنگہ کے پرانی منصفی محلہ میں یاماہا ایجنسی کے منیجر مرحوم فیض احمد کے قتل کے بعد انصاف کی مانگ مسلسل زور پکڑتی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں بہار ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین مولانا غلام رسول بلیاوی اور راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے سینئر رہنما و رکن قانون ساز کونسل عبدالباری صدیقی نے الگ الگ مرحلوں میں مقتول کے گھر پہنچ کر اہلِ خانہ سے ملاقات کی، اظہارِ تعزیت کیا اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
مولانا غلام رسول بلیاوی نے مرحوم فیض احمد کے والد ماسٹر اسد احمد اور دیگر اہلِ خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی اور سوگوار خاندان کو صبر کی تلقین کی۔ انہوں نے مقدمے کی پیش رفت سے متعلق معلومات حاصل کیں، جس پر اہلِ خانہ نے بتایا کہ چندن پٹی گاؤں میں واقع یاماہا ایجنسی کے سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کی واردات میں متعدد افراد ملوث تھے، لیکن پولیس نے اب تک صرف ایک ملزم سونو پاسوان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا ہے۔اہلِ خانہ نے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کے سامنے مطالبہ رکھا کہ قتل میں شامل تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، سی سی ٹی وی فوٹیج کی فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) سے سائنسی جانچ کرائی جائے، متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے، مناسب مالی امداد فراہم کی جائے اور اسپیڈی ٹرائل کے ذریعے تمام مجرموں کو سخت سزا دلائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی کرائم برانچ یا کسی آزاد ایجنسی سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ قتل کی مبینہ سازش بے نقاب ہو سکے۔
مولانا غلام رسول بلیاوی نے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ بہار ریاستی اقلیتی کمیشن اپنے آئینی اور قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سنگین جرم میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بچنے نہیں دیا جانا چاہیے اور متاثرہ خاندان کو ہر حال میں انصاف ملنا چاہیے۔
عبدالباری صدیقی نے موقع ہی سے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) دربھنگہ سے ٹیلیفون پر بات کرکے متاثرہ خاندان کے لیے مناسب معاوضہ اور سرکاری امداد فراہم کرنے کی درخواست کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سے بھی گفتگو کرتے ہوئے ہدایت دی کہ قتل میں ملوث تمام افراد کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے، کسی بھی ملزم کے ساتھ نرمی نہ برتی جائے اور اسپیڈی ٹرائل کے ذریعے انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے۔
اس موقع پر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدر اور جنتادل (یو) کے رہنما نظرعالم، دیدار حسین چاند، ریاض خان قادری، ڈاکٹر انتخاب ہاشمی، مولانا مہدی رضا روشن القادری، مولانا بشیر الہدیٰ قادری، حافظ نصیر احمد سرپنچ، محمد شاہد، محمد سیفو، حافظ محمد ابو شحمہ، نواب، حبیب اصغر، ڈاکٹر آفتاب عالم، ڈاکٹر منصور خشتر، حامد انصاری، سمیر خان، اشرف احمد، ضمیر خان، بھولو یادو، عبدالباسط سمیت بڑی تعداد میں معززینِ شہر اور مقامی باشندے موجود تھے۔
شرکاء نے مشترکہ طور پر قاتلوں کی فوری گرفتاری، غیرجانبدارانہ تحقیقات، مناسب سرکاری امداد اور متاثرہ خاندان کو جلد از جلد انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

Continue Reading

Bihar

گاؤں کی ترقی کے بغیر ترقی یافتہ بہارکا عزم ادھورا،آتم نربھر بھارت کی تعمیر میں گرام پنچایتوں کا کردار انتہائی اہم : ڈاکٹر پریم کمار

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: بہار اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے پنچایت وکاس دیوس کے موقع پر ریاست کے عوام اور پنچایتی راج اداروں سے وابستہ تمام منتخب نمائندوں کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کی ہیں۔ ڈاکٹر پریم کمار نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے جمہوری نظام کی سب سے مضبوط بنیاد ہماری گرام پنچایتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کی ترقی، عوامی شراکت داری اور آتم نربھر بھارت کی تعمیر میں پنچایتوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈاکٹر پریم کمار نے کہا کہ ہندوستان کی روح گاؤں میں بستی ہے اور گاؤں کی ہمہ جہت ترقی کے بغیر ترقی یافتہ بہار اور ترقی یافتہ ہندوستان کا عزم پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتیں محض انتظامی اکائی نہیں بلکہ دیہی عوام کی خواہشات، مسائل اور ترقیاتی منصوبوں کو زمین پر پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کی 73 ویں ترمیم کے ذریعے پنچایتی راج اداروں کو آئینی مضبوطی ملی اور گاؤں میں جمہوریت کو نئی توانائی حاصل ہوئی۔ آج ملک میں لاکھوں منتخب پنچایت نمائندے عوام کی خدمت میں سرگرم ہیں، جن میں بڑی تعداد میں خواتین بھی قیادت کر رہی ہیں۔ یہ سماجی تبدیلی اور جمہوریت کی مضبوطی کی علامت ہے۔
اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی جانب سے پنچایتوں کو بااختیار بنانے کے لیے کئی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی سڑکیں، صفائی ستھرائی، پینے کا پانی، رہائش، صحت، تعلیم، ڈیجیٹل خدمات، منریگا اور روزگار سے جڑی اسکیموں کے ذریعے گاؤں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنچایت نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت، ایمانداری اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے علاقے کی ترقی کو آگے بڑھائیں۔ گرام سبھا کو مضبوط بنانا، مقامی ضروریات کے مطابق منصوبوں کو تیار کرنا اور معاشرے کے آخری شخص تک ترقی کے ثمرات پہنچانا ہی پنچایتی نظام کا بنیادی مقصد ہے۔ڈاکٹر پریم کمار نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس“ کے منتر کے ساتھ گاؤں کی ترقی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ بہار میں بھی پنچایتی راج اداروں کو مضبوط بنانے اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی توسیع کی سمت میں مسلسل کام ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنچایتیں جمہوریت کی پاٹھ شالا (درسگاہ) ہیں، جہاں عام شہری براہ راست حکومت اور ترقیاتی عمل سے جڑتے ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور معاشرے کے تمام طبقات کی شراکت داری سے پنچایتیں ترقی کے نئے ماڈل پیش کر سکتی ہیں۔
بہار اسمبلی کے اسپیکر نے پنچایت نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم، ماحولیات کے تحفظ، صفائی ستھرائی، پانی کے تحفظ، خواتین کو بااختیار بنانے اور خود کفیل گاؤں کی تعمیر کے لیے خصوصی کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط پنچایتیں ہی مضبوط ریاست اور مضبوط قوم کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت وکاس دیوس ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم گاؤں کو خوشحال، خود کفیل اور ترقی یافتہ بنانے میں اپنا تعاون دیں گے۔

Continue Reading

Bihar

سارن آر جے ڈی وفد کا بھوجپور ضلع کے بلوٹی گاؤں کادورہ،بھرت بھوشن تیواری کے اہل خانہ سے کی ملاقات اورکیاتعزیت اظہار

Published

on

(پی این این)
چھپرا :سابق سارن لوک سبھا امیدوار روہنی اچاریہ کی ہدایت پر ضلع آر جے ڈی کا ایک وفد ہفتہ کو بھوجپور ضلع کے بلوٹی گاؤں پہنچا۔انہوں نے پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے نوجوان بھرت بھوشن تیواری کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔وفد نے بھرت تیواری کو ان کی تصویر پر پھولوں کا گلدستہ چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ کو ہر قیمت پر انصاف کی یقین دہانی کرائی۔
وفد میں آر جے ڈی کے ضلع ترجمان ہرے لال یادو،بزنس سیل کے ریاستی نائب صدر سی اے امیت گپتا،پٹنہ کے سماجی کارکن سچن یادو،لالو کمار اور سونپور کے وکی کمار شامل تھے۔وفد نے لواحقین سے واقعہ کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کیں اور ان کے درد اور مقامی انتظامیہ کے خلاف الزامات کو سنجیدگی سے سنا۔اہل خانہ نے بتایا کہ بھرت کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود پولیس نے نہتے بھرت کو بے دردی سے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔اسے فرضی انکاؤنٹر بتاتے ہوئے ترجمان مسٹر یادو نے کہا کہ سیلاب کے دوران تباہ کن پورا جوینیا گاؤں گنگا میں ڈوب گیا تھا۔حکومت نے بے گھر لوگوں کی بحالی کے لیے تقریباً 1100 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔یہ رقم اعلیٰ ضلعی افسران غبن کر رہے تھے۔بھارت بھوشن بے گھر غریبوں کے حقوق کو محفوظ بنانے کے لیے ضلع انتظامیہ کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ بہار میں ڈبل انجن والی حکومت کے بدعنوان اہلکاروں کو بھرت کی کوششیں قابل قبول نہیں ہیں۔انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں نے حکومت کے اشارے پر کام کرتے ہوئے سماجی کارکن بھرت کو قتل کر دیا۔
ڈاکٹر روہنی کا حوالہ دیتے ہوئے وفد نے کہا کہ اگر واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات میں کوئی غفلت برتی جاتی ہے یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تصدیق ہوتی ہے تو قصوروار اہلکاروں کو قانون کے مطابق سزا دینے کو یقینی بنانے کے لیے اس آمرانہ حکومت کے خلاف بھرپور طریقے سے احتجاج کیا جائے گا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network