Bihar
جمیعت علماء ارریہ کے زیر اہتمام ارریہ میں ضلع کے اربابِ مکاتب و مدارس کے لئے منفرد اور تاریخی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد۔

ارریہ:گزشتہ روز بعد نماز ظہرتا نماز عصر،دینی تعلیمی و تربیتی اور معروف ومشہور ادارہ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ کے وسیع و عریض کیمپس میں جمعیت علماء کے زیر اہتمام، ڈاکٹر عابد حسین صدر جمعیت علماء ارریہ کی صدارت، مولانا مفتی جاوید اقبال صدر جمعیت علماء بہار کی سرپرستی، مولانا مفتی اطہر القاسمی، نائب صدر جمیعت علماء بہار و جنرل سیکرٹری جمعیت علماءارریہ کی حسن نظامت، مولانا شاہد عادل قاسمی نائب صدر جمعیت علماء ارریہ و پرنسپل مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ کی نگرانی میں مدارس اسلامیہ ضلع ارریہ کے تمام نظماء، مہتممین، منتظمین، اساتذۂ کرام،ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور درد دل رکھنے والے دانشوران قوم و ملت کی تربیت اور گائیڈ کے کے لئے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ایک پروقار منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ اس پروقار اور منفرد ورک شاپ کا بابرکت آغاز قاری مطیع الرحمن صاحب کی تلاوت سے ہوا جبکہ قاری قمر الزماں قمر نعمانی اور مولانا فیاض راہی نے نعتوں کا گلدستہ پیش کیا اور اس پروقار اور خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی عالم ربانی، فاضل جلیل اور فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مہمان خصوصی کی حیثیت سےجبکہ مہمان اعزازی کی حیثیت سے، مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد و مفتی عمیر انور مظاہری امام و خطیب قطب شاہی و ڈائریکٹر سدرہ ایجوکیشن اکیڈمی حیدراباد سمیت ملت اسلامیہ کی عظیم شخصیات اور دیگر معززین نے شرکت فرماکر اس منفرد ورکشاپ کے حسن کو دو بالا کر دیا اور اس خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد، مہمان اعزازی مولانا مفتی جاوید اقبال صدر جمیعت علماء بہار نے ضلع ارریہ کے تمام مہتممین، اساتذہ کرام، ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور دانشوران قوم و ملت کو ملک کی موجودہ حالات کے پیش نظر مدارس اسلامیہ کا نظام کیسے چلائیں؟ مدارس اسلامیہ کی استقامت اور اس کی بقا کے لئے کیا کیا لائے عمل درکار ہیں؟ اور زمینی سطح پر کن کن دستاویزات سمیت دیگر کیا کیا ضروری چیزیں حقیقیق طور پر از حد لازمی ہیں؟، اس کے متعلق پوری تفصیل کے ساتھ جانکاریاں دیں۔ ضلع بھر کے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء دین اسلام کے پاور ہاؤس ہیں، علماء کے ذریعہ اللہ اور رسول کے کلام دین اسلام کے پیروکاروں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دینی مدارس اسلام کے تحفظ کے قلعے ہیں، اس لئے اس کی حفاظت ضروری ہے۔ مولانا نے کہا کہ آپسی اختلافات کے وقت غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے گریز کریں اور مل بیٹھ کر مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ علماء حضرات کو تعلیمی بیداری اور قومی یکجہتی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیئے۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ عام لوگ تو اپنے لئے جیتے ہیں مگر ہم علماء کو لوگوں کے لئے جینا ہے، ان کے لئے پریشانیاں اٹھانی ہیں۔ آپ نے کہا امام ضامن ہے، یعنی امام کی نماز صحیح ہوگی تو مقتدیوں کی نماز بھی صحیح ہوگی اور مساجد کے ائمۂ حضرات اپنے آپ کو صرف نماز کا امام نہ گردانیں بلکہ اپنے آپ کو لوگوں کے ایمان کا بھی امام سمجھیں!، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی نماز کی فکر تھی، ان کے ایمان کی فکر تھی، ان کے معاملات کی فکر تھی، ویسے ہی فکر ہمیں بھی اوڑھنی چاہیے اور اس کو عملی جامہ پہناناچاہیے پھر آپ نے ایک صحابی کی نماز صحیح نہیں ہونے کے واقعہ کو تفصیل سے بتایا اور اس ضمن میں آپ نے کہا کہ مقتدی کی نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور ان کی نمازیں درست ہوں، یہ امام کی ذمہ داری ہے، آپ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا ہم مسجدوں میں اپنے مقتدی کے لئے اور مدرسوں میں ہم اساتذہ طلباء کے لئے توقف کرتے ہیں؟ آپ نے کہا عالم کا کردار یہ ہے کہ بغیر اشتہار اور بغیر دعوت نامہ کی فریقین کے معاملے کو دیکھیں اور اس کا تصفیہ شریعت کی روشنی میں کریں! یہ انتظار نہ کریں کہ ہم کو مدعو کریں گے۔ بلکہ خود سے پہنچ کر فریقین کے درمیان مصالحت کروائیں اور مصالحت کروانے میں فریقین کی عزت نفس کا پورا پورا خیال رکھیں! آپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تو ہم امامت کے لئے جھگڑا کرتے ہیں پھر آپ نے یہاں پر بھی ایک صحابی کا نام لیا جو امامت کر رہے تھے اور حضور کی آہٹ پاکر کر پیچھے ہٹ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے منع فرما دیا۔ دیکھئے وہاں اللہ کے رسول نے ایسا نمونہ پیش کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی آپ نے اماموں سے کہا کہ جس طرح حضورؐ نے اپنی حیات طیبہ میں صرف صحابہ کی نمازوں کی فکر نہیں کی تھی بلکہ آپ نے معاشرے کے معاملات کی بھی فکر کی تھی آپ نے ہندوستان کے ایک وکیل کا تذکرہ کرتے ہوئے اور ایک جج کی بات کو رکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ آپ اپنا مقدمہ لائیں گے تو ہم اپنے قانون کے حساب سے فیصلہ کریں گے۔ جب عدالت میں ہمارے مقدمات پہنچے تو حکومت کو ہمارے معاملات میں مداخلت کا راستہ مل گیا۔ اس لئے امت کے اختلافات کو علماء ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین تک پہنچ کر، ان کےآپسی اختلافات کو ختم کراکر دم لیں! فی الوقت کے حالات کے پیش نظر ضرورت ہے کہ لوگ اپنے مقدمات کا فیصلہ علماء سے کرائیں!، علماء کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی معیشت کی بھی فکر کریں اپنی دولت کی حفاظت کریں ورنہ آئندہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ روپیہ بھر کے لے جائیں اور آپ کو زمین اور مکان نہ ملے۔ آپ نے کہا بازاروں میں جن سامانوں کی رسد اور ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہےتو ان چیزوں کی قیمت بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور جب ڈیمانڈ کم ہوتی ہے تو قیمت کم ہو جاتی۔ آپ نے کہا مکئی کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس میں کولسٹرول نہیں ہوتی ہے آپ مکئی کی فصل میں محنت کرتے ہیں مگر آپ کو قیمت کم ملتی ہے۔ اسلام دین فطرت اور فطری قوانین پر عمل ضروری ہے علماء کا کام کسی ایک شعبہ سے جڑا ہوا نہیں ہونا چاہیے! اور علماء منکرات پر انگلیاں رکھیں۔ پھر آپ نے ملیشیا میں نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکیوں کے ورک شاپ کے انعقاد کاذکر کیا اور کہا کہ ملیشیا میں نکاح سے قبل پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس ورک شاپ کی سند ہے یا نہیں اگر سند ہوتی ہے تو اس کی شادی ہوتی ہے ورنہ نہیں۔ آپ نے کہا کہ زوجین کے اختلافات کو ان کے بچوں کی موجودگی میں ان کی کفالت اور دیگر ممتا کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے درمیان کے اختلافات کو ختم کروانا علماء کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ علماء کو تو مسلمانوں کے تمام مسائل کی فکر ہونی چاہیے اگر اس کی فکر نہیں ہے تو گویا آپ علماء کو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کی کوئی فکر نہیں ہے جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عالم کو اپنے عوام کی فکر نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ آخر میں آپ نے مدارس کے اساتذہ سے کہا کہ طلباء کو جسمانی سزادینے سے گریز کریں! یہ شرعا بھی جائز نہیں ہے اور نہ ہی قانوناً درست ہے، خاص کر آج کے ماحول کے پیشِ نظر بچوں کو جسمانی سزا دینے کو حرام سمجھیں۔ آپ نے کہا مدرسوں کی تعمیر سے زیادہ اس کی سیفٹی کی ضرورت ہے۔ جب کہ مولانا مفتی جاوید اقبال نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ارباب مدارس اپنے مدرسوں کے لئے تین کام کو فوقیت دیں نمبر ایک اپنے اپنے مدرسوں کی زمین کو مدرسے کے نام سے تبدیل کریں! اور دو نمبر پر ٹرسٹ یا سوسائٹی بنائیں اور نمبر تین مدرسے کی آمدنی اور خرچ کی اوڈٹ کرائیں!، تعمیراتی عمل کے اسٹیمیٹ کو نگر پریشد یا پنچایت سے پاس کرائیں! کیونکہ آپ کی خامی کی وجہ سے آپ کا ادارہ بند ہو سکتا ہے، ایسے کوئی مدرسہ بند نہیں ہوگا، مدرسوں کی آمدنی پبلک کی چیز ہے اور پبلک کی چیز کا حساب انہیں دینا ضروری ہے۔آپ نے یہ بھی کہا کہ عام طور پر مدرسوں کی مشترکہ بینک میں کھاتہ نہیں ہوتا ہے اس لئے اس جانب پہل کریں! اور جوائنٹ کھاتا کھلوائیں خاص کر سرحدی علاقے کے ارباب مدارس اپنے دستاویزات درست کر لیں اور ارباب مدارس جذبات سے نہیں حکمت سے کام کریں! ڈرنے اور خوف کھانےکی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ جمعیت علماء ضرورت پڑنے پر آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، آپ کی اعانت کے لئے ہر وقت تیار ہے اور رہے گی اوراس ورکشاپ کے مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدر آبادنے بھی مدارس کے کاغذات اور دستاویزات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی قانون کو ہلکے میں نہ لیں!، ورنہ بعد میں یہی آپ کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ فی الوقت ملک ہندوستان میں رائی کو پہاڑ اور پہاڑ کو رائی بنانے کا کام ہورہاہے۔ اس لئے مدارس کے ذمہ داران یہ بات نوٹ کر لیں کہ جس جس شعبے میں کمیاں اور کمزوریاں ہیں تو ان کمزوریوں کا ازالہ کریں! اور اپنی نافعیت برقرار رکھیں انشاءاللہ آپ خراب حالات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر لیں گے اور آپ کے ادارے کا بال بھی بانکا نہیں ہوگا۔ آپ نے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا مومنین کو یقین دلانا ہے کہ انہیں دنیاوی زندگی میں خوف، بھوک، مالی نقصانات، جانوں کے زیاں (شہادت یا موت) اور پیداوار کی کمی جیسی آزمائشوں سے گزارا جائے گا تاکہ صبر کرنے والے اور سچے ایمان والے الگ ہو سکیں۔ آپنے اخیر میں کہا جو ادارے صحیح نہج پر چلتے ہیں ان کے ساتھ خدا کی نصرت ہوتی ہے۔ آپ نے کہا جب آپ کا ادارہ نافعیت اور ثمر آور درخت کی طرح ہوگا تو یقینا نصرت خداوندی آپ کے ادارے پر ہوں گی ، اس لئے مدارس کی نافعیت کے ہمیشہ ملحوظ نگاہ رکھیں! آپ علماء کرام دین کے معمار ہیں اور آپ پرجو فرائض منصبی عائد ہیں، اس کی تکمیل ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ کریں! واضح رہے کہ ارریہ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر علمائے کرام کے لئے تعلیم اور قومی اتحاد پر ایک تاریخی تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس سے قبل مہمانوں کی شال پوشی کرکے انہیں اعزاز بخشا گیا پھر ورکشاپ کی شتہ اور ادبی انداز میں نظامت کے فرائض انجام دے رہے مولانا مفتی محمد اطہرالقاسمی نے مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی علمی، ادبی اور ملی خدمات پر مشتمل سپاس نامہ پڑھ کرسنایا اور ان کی ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ پھر اس ممتاز، منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کے نگران مولانا شاہد عادل قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمان خصوصی، مہمانانِ اعزازی اور ضلع کے تمات ارباب مدارس، ائمہ مساجد، حفاظ ومعلمین مکاتب اور مختلف اخبارات کے نمائندوں کا شاندار استقبال کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور آپ نے فرمایا کہ ارریہ کی سرزمین اپنے علماء، صلحا اور اکابرین کی بڑی قدر کرتی ہے اپنی قدر کی بقا کے لیے ہم علماء کو چاہیے کہ ہم اپنے وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیں آپ نے یہ بھی کہا کہ آج کا پروگرام اصلاحی پروگرام ہے ہم لوگ اپنی اصلاح کے لیے اکٹھا ہوئے اور ملک میں جمہوریت کی بقا اور اس کی سالمیت کے لئے ہم ہمیشہ پیش پیش رہیں
اس تاریخ ساز منفرد خصوصی تربیتی ورکشاپ کو کامیاب بنانے میں جمعیت علماء کے اراکین سمیت تمام رضاکاروں نے اہم کردار ادا کیا جن میں پونے سے تشریف فرما قاری ڈاکٹر محمد طالب صدیقی بانی و مہتمم المعہد الاسلامی مولوی ٹولہ ڈوریا سوناپور، مولانا اکبر صادق ندوی امام وخطیب جامع مسجد یتیم خانہ ارریہ، مولانا مبارک صدیقی، مفتی محمد خالد قاسمی، مفتی ہمایوں اقبال ندوی، مولانا مصور عالم ندوی، مولانا دانش احمد قاسمی، مولانا عمر فاروق قاسمی، مفتی محمد ثاقب قاسمی اور مولانا غلام مجتبیٰ رشادی،
مولانا محمد فاروق مظہری ،مولانا محمد فیروز نعمانی ،مولانا آس محمد مظاہری ،مولانا غیاث الدین نعمانی ،مولانا عبد الجبار ندوی ،مفتی نعیم الدین ندوی ،مفتی دلشاد احمد نعمانی ،مفتی جاوید اختر مظاہری ،قاری حسیب الرحمان رحمانی ،مولانا محمد سفیان قاسمی ،مولانا اکبر صادق ندوی ،ڈاکٹر محمد معیز عالم ،مولانا وثیق الرحمن قاسمی ،قاری امیتاز احمد کاشفی ،مولانا کاشف نسیم ،مولانا ارشد جمال سبیلی ،مفتی محمد نعمان ابراہیمی ،مولانا ہلال مفتاحی ،مولانا اکرام الدین نعمانی ،مفتی محمد ثاقب قاسمی، الحاج محمد اسعد، الحاج رضی احمد ،ماسٹر شاکر رضا ،مفتی محمد خالد قاسمی ،حافظ نعمان اسلم ،مولانا محمد آصف قاسمی ،مولانا دانش احمد قاسمی ،مولانا عامر قاسمی ودیگر جمعیت علماء کے ضلع، بلاک اور پنچایتوں کے تمام اراکین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
Continue Reading
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر8 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ