انٹر نیشنل
مستقبل سیاحت کے اگلے دور کیلئے ’ٹورائز‘کی افتتاحی تقریب منعقد
8 ہزار مندوبین کی شرکت درج ،ریاض میں عالمی سیاحت کاسہ روزہ آغاز
ڈاکٹر سید اصدر علی
اسپیشل رپورٹ
ریاض:مستقبل سیاحت کے اگلے دور کیلئے ’ٹورائز ‘کی افتتاحی تقریب کا سہ روزہ آغاز ہوا۔ٹورائز اجلاس میں تقریباً8ہزار مندوبین کی شرکت درج کرائی گئی ۔دلیرانہ عزائم کے ساتھ سفر کے قواعد، شاہی سرپرستی میں افتتاحی ٹورائز سمٹ عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد اوروزیراعظم کا آج سرکاری طور پر افتتاح H.E. احمد الخطیب، وزیرسعودی عرب کی سیاحت اور TOURISE کے چیئرمین۔ٹوریس عالمی سیاحت کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے، وزراء، مندوبین اوردنیا بھر سے بصیرت رکھنے والے ایک پریمیئر پلیٹ فارم کے طور پر جو کی تشکیل کے لیے وقف ہیں۔
عالمی سیاحت کا مستقبل50 ویں یونائیٹڈ کے فوراً بعد 11 سے 13 نومبر 2025 تک ہو رہا ہے۔نیشنز ٹورازم جنرل اسمبلی، ٹوریس سیکٹرز کے طریقہ کار کا از سر نو تصور کر رہی ہے۔ایسے مواقع تلاش کرنے کے لیے بات چیت کرتے ہیں جہاں سرمایہ کاری کرتے ہوئے حریف شراکت دار بن جاتے ہیں۔آپٹمائزڈ ہیں اور جہاں بکھرے ہوئے سائلو اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایونٹ کا مقصد جرات مندانہ ہونا ہے ۔ حقیقی دنیا کے حل میں خیالات اور تبدیلی کے اقدامات کو متحرک کرتے ہیں جو تشکیل دیں گے۔
آج اپنی افتتاحی تقریر کے دوران، H.E. احمد الخطیب نے نوٹ کیا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔شعبوں کی تشکیل کے لیے زیادہ ضروری یا مناسب لمحہ تھا۔عالمی سیاحت، جس کے ساتھ سیاحت کا شعبہ تاریخی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے۔بین الاقوامی آمد اور سرمایہ کاری وبائی مرض سے پہلے کی سطحوں کو پیچھے چھوڑتی ہے۔ تاہم، وہ خبردار کیا کہ ایک ہی وقت میں، اس شعبے کو بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے ۔اور تجربے سے چلنے والا سفر، اور اس کے سامنے لچک پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔اقتصادی اور ماحولیاتی غیر یقینی صورتحال اور اس کے ارد گرد بڑھتی ہوئی ۔
عزت مآب نے تسلیم کیا کہ ٹوریس اس موڑ پر پہنچی ہے، جب دنیا نئے ماڈلز، نئی شراکت داریوں اور نئے حل کی بھوکی ہے۔”ٹورائز ایک ایونٹ سے زیادہ ہے، یہ عمل کا ایک پلیٹ فارم ہے جہاں ہم حل کریں گے۔چیلنجز سب ایک ساتھ ہیں جنہوں نے طویل عرصے سے ان میں سیاحت کی مکمل صلاحیت کو محدود کر رکھا ہے۔ہنر، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، پائیداری، اور ڈیجیٹل میں چیلنجز ہیں۔تبدیلی یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم بہترین ڈیلیور کرنے ککلئےاتھ ملا کر کام کریں گے ۔ سب کے لیے نتائج: سرمایہ کاروں کیلئےمنافع؛ مزید قابل رسائی مقامات اورمسافروں کے لیے سستی تجربات؛ معاشروں کے لیے روزگار اور خوشحالی سفر کی مانگ میں اضافہ. ہم یہاں صرف خیالات پر بات کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ ہم یہاں ہیںعمل یہی وجہ ہے کہ TOURIS موجود ہے۔”اپنے تین دنوں کے دوران، TOURISE کئی کلیدی پینلز کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے۔
اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عالمی رہنماؤں پر مشتمل بات چیت۔ قابل ذکر عالمی مقررینشامل ہیںAriane Gorin، CEO، Expedia،سفیر پیٹریسیا ایسپینوسا، بانی، onepoint5، گلوریا گویرا، عبوری سی ای او، ورلڈ ٹریول ampٹورازم کونسل، شیخا ناصر النویس، آنے والے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سیاحت، لوئس ماروٹو، سی ای او، امادیوس، فرانسس سواریز، میئر، میامی،پال گریفتھس، سی ای او، دبئی ایئرپورٹس، لوسیا پینروڈ، شریک بانی اور مالک، نکی بیچ،سیباسٹین بازن، سی ای او، ایکور( Eduardo Santander، CEO، European Travel Commission (ETC، ہاروی گولڈسمتھ CBE، بانی، Nvisible Productions، تھامس وولڈ بائی، سی ای او، ہیتھرو ایئرپورٹ، سٹیو ہافنر، شریک بانی اور سی ای او، Kayak.comسپیکر لائن اپ دکھاتا ہے کہ کس طرح ٹورائز سیکٹرز کے لیڈروں کو شاذ و نادر ہی متحد کرتا ہے۔ایک ساتھ دیکھا، متضاد، حدود توڑنے والا تعاون تخلیق کرتا ہے۔ یہ ہم آہنگی صرف ناول نہیں ہیں؛ وہ نئے کاروباری ماڈلز کے لیے انجن ہیں،مسافروں کے بہتر تجربات، پائیدار منزل کی ترقی اور سرمایہ کاری ایسی حکمت عملی جو صرف اس طرح کے منفرد، کثیر سیکٹر پلیٹ فارم سے ابھر سکتی ہے۔
سربراہی اجلاس AI سے چلنے والے سفر کے مستقبل کی نئی وضاحت کرنے والے بڑے سوالات کا احاطہ کرے گا۔ تجربات اور منزل کے ڈیزائن، سرمایہ کاری اور دوڑ کے لیے بغیر رگڑ والی سرحدیںکل کے مسافروں کے لیے، اور انھیں اعلیٰ طاقت کے ذریعے عمل میں بدل دیں۔پہلے ٹورائز ایوارڈز کے فاتحین کا اعلان بھی آج شام کیا جائے گا،ان مقامات کو پہچاننا جو منزل کی فضیلت کی مثال دیتے ہیں اور ان کو پورا کرتے ہیں۔جدید مسافر کی توقعات کا ارتقاء۔سعودی وزارت سیاحت کے ذریعہ تقویت یافتہ، ٹوریس تین دن سے زیادہ ہے۔سربراہی اجلاس، یہ ہمیشہ جاری رہنے والا، عالمی پلیٹ فارم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بات چیت شروع ہوگئی ریاض تعاون اور کراس سیکٹر کے ذریعے سال بھر پلیٹ فارم جاری رکھے گا۔
انٹر نیشنل
سعود ی عرب کے امریکی بیس پر ایران کا بڑا حملہ،کئی امریکی فوجی ہلاک ،50سے زائد زخمی
(ایجنسیاں)
ریاض:مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئربیس پر بڑا حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ حملے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 50سے زائد فوجی زخمی ہوئے ہیں جبکہ فوجی طیاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے اس حملے میں میزائلوں کے ساتھ ڈرون کا بھی استعمال کیا۔حملے کے دوران امریکی فضائیہ کے ایندھن فراہم کرنے والے طیارے کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے آئندہ فوجی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔پریس ٹی وی کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں بوئنگ KC-135 اسٹریٹو ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے واضح نشانات بھی سامنے آئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس طیارے کو نقصان پہنچنے سے امریکی فضائی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی الخرج بیس پر ہوئے حملے میں ایرانی میزائل اور بغیر پائلٹ ڈرون استعمال کیے گئےہیں۔ وہیں26 سالہ آرمی سارجنٹ بینجمن این پیننگٹن کی یکم مارچ کوایئربیس پر ہوئے حملے میں زخمی ہونے کے چند روز بعد موت ہوگئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ اس جنگ میں اب تک اس کے 300 سے زائد فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی میزائل اور بغیر پائلٹ ڈرون حملے کے صرف ایک دن پہلے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پوری طرح تباہ ہوچکا ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ تاریخ میں کبھی کسی ملک کی فوج کو اتنی جلدی اور اتنی مؤثر طریقے سے بے اثر نہیں کیا گیا۔
وہیں ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بیان میں کہا کہ ’آپریشن وعدۂ صادق 4‘ کی 84 ویں لہر شروع کردی گئی ہے اور اس دوران امریکی ایندھن بھرنے والی متعدد گاڑیوں اور ان کے لاجسٹک سپورٹ بیڑے کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے خطے کے ایئربیسز کو جارحیت کیلئےاستعمال کیے جانے کے بعد پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے بحریہ کی مدد سے آپریشن کی 84 ویں لہر کے دوران ایک خصوصی مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا۔
آئی آر جی سی نے آگاہ کیا کہ ان کی فورسز نے دشمن کے اینٹی میزائل دفاعی نظام تباہ کردیا اور ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائلوں کے ساتھ الخرج بیس میں کامیابی سے داخل ہو کر وہاں موجود ایندھن بھرنے والے اور فضائی مدد فراہم کرنے والے بیڑے کو میزائلوں اور ڈرون کے بے دریغ حملوں سے نشانہ بنایا۔ایران کے جوہری توانائی ادارے نے بتایا کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر ایک بار پھر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ جوہری تنصیب خلیج کے کنارے واقع بوشہر شہر کے قریب موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تیسری مرتبہ ہے جب اس اہم جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے باوجود جوہری تنصیب کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا گیا ہے، تاہم سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے تل ابیب پر بھی میزائل حملہ کیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ چار افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ میزائل لانچ کا پتہ چلتے ہی فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔ ممکنہ حملوں کے پیش نظر اسرائیل بھر میں موبائل فون پر وارننگ پیغامات بھیجے گئے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام مسلسل میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔واضح رہے کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ جہاں بھی امریکی فوجی موجود ہوں گے، ان مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انٹر نیشنل
امریکہ ۔اسرائیل نے 24 گھنٹوں میں ایران پرگرائے 1200 بم ،سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید
(ایجنسیاں)
تہران :اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ روز امریکہ کے ساتھ مشترکہ حملے میں ایران پر 1200 سے زائد بم گرائے ہیں۔ ان حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں۔ہفتہ کے روز ان کے دفتر کے احاطے پر 30 میزائل داغے گئے۔ اس حملے میں ان کی بیٹی ،داماد،بہو اور پوتی سمیت کمپلیکس میں موجود 40 کمانڈر بھی مارے گئے۔ حملے کے وقت خامنہ ای کمانڈروں کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہفتہ کی دیر رات خامنہ ای کی موت کا اعلان کیا۔اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بھی ان کی موت کا دعویٰ کیا۔ ایران کی سرکاری میڈیا ایجنسی تسنیم اور فارس نے اتوار کی صبح اس کی تصدیق کی۔
ایران نے خامنہ ای کے انتقال کے بعد 40 روزہ سرکاری سوگ اور سات دن کی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا، ہم نے ایک عظیم رہنما کھو دیا ہےاور پوری قوم سوگوار ہے۔دریں اثناء ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ وہ اپنا سب سے خطرناک آپریشن شروع کر رہی ہے۔ حملہ کچھ دیر میں شروع ہو گا اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت 10 بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک اور 740 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ایک اسکول پر میزائل گرنے سے 148 طالبات جاں بحق اور 45 زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے بھی دوسرے ممالک کے خلاف جوابی حملے شروع کر دیئے ہیں۔ ایک میزائل ایک اسکول پر گرا، جس سے 148 طالبات ہلاک اور 45 زخمی ہوئیں۔ ایران نے بھی دوسرے ممالک کے خلاف جوابی حملے شروع کر دیے۔
انٹر نیشنل
مکہ سے مدینہ کا آخری سفر 42 ہندوستانی زائرین ایک ہی لمحے میں راہیٔ آخرت
رپورٹ: سید آصف امام کاکوی
-سعودی عرب کی وہ سیاہ رات ہمیشہ ان بے شمار گھروں کی زندگی میں ایک نہ مٹنے والا زخم بن کر رہے گی، جن کے پیارے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے روحانی سفر پر تھے۔ وہ لمحہ، وہ گھڑی رات کا تقریباً 1:30 بجے کا وقت جب ایک بس حادثہ اچانک 42 ہندوستانی زائرین کی جانیں لے اُڑا۔ یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا… یہ 42 خاندانوں کے چراغوں کے اچانک بجھ جانے کی قومی سانحہ ہے، ایک ایسی چیخ جو آنے والی کئی نسلوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ ان مرحومین میں اکثریت حیدرآباد کے افراد کی تھی۔ وہ لوگ جو ابھی چند گھنٹے پہلے خانۂ خدا کا دیدار کرکے لوٹے تھے، جنہوں نے کعبہ کے سائے میں سجدے کئے تھے، جن کی آنکھوں میں سکون تھا، چہروں پر نور تھا، اور دلوں میں رحمتِ الٰہی کی لطافت۔ کون جانتا تھا کہ مدینہ منورہ کی وہ روشن گلیاں جہاں وہ سلام پیش کرنے جا رہے تھے، وہیں پہنچنے سے پہلے ان کا سفر ہمیشہ کے لئے تھم جائے گا۔ عمرہ کوئی عام زیارت نہیں، روح کا سفر ہے۔ انسان اپنی جمع پونجی، اپنی دعائیں، اپنی ساری تمنائیں لے کر رب کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ یہ سفر دل کو نرم کرتا ہے، رُوح کو دھوتا ہے، ایمان کو تازہ کرتا ہے۔ مگر اس بار یہی مبارک سفر درجنوں خاندانوں کے لئے ہمیشہ کا روگ، ہمیشہ کا درد، اور ہمیشہ کا خلا بن گیا۔
حادثے کے بعد بس کا منظر دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ٹوٹے ہوئے شیشے، بکھرا ہوا سامان، اور وہ نشان جن میں چند ہی گھنٹے پہلے احرام میں لپٹے وہ لوگ تھے جو ہاتھ اٹھا کر دُعائیں کر رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لمحہ بھر میں 42 دھڑکتے دل رک گئے، 42 خواب بکھر گئے، 42 منزلیں ادھوری رہ گئیں۔ جیسے ہی یہ دل دہلا دینے والی خبر پہنچی، پوری فضا سوگوار ہوگئی۔ جس گھر میں فجر کی اذان کے بعد چائے بنانے کی خوشبو آنی تھی، وہاں آہ و بکا کی آوازیں بلند ہوئیں۔ کوئی ماں اپنے بیٹے کے نام کی تلاش میں بے حال کوئی بہن بھائی کی تصویر سینے سے لگائے ہوئے کوئی بوڑھا باپ آنکھوں میں نمی لئے صرف اتنا پوچھتا ہوا میرا بچہ واپس آجائے گا نا؟”وہ مائیں جن کی آخری ملاقات اپنے بیٹے سے ایئرپورٹ پر ہوئی تھی وہ بیویاں جو شوہروں کے لئے پسندیدہ کھانا بنانے کے منصوبے کرتی تھیں وہ ننھے بچے جنہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ “ابّو اللہ کے گھر گئے ہیں انہیں کون سمجھائے کہ ابّو اب واپس نہیں آئیں گے؟ یہ وہ درد ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتا، صرف دلوں میں ٹوٹتا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے فوراً سعودی عرب میں موجود بھارتی سفارت خانہ سے رابطہ کیا۔
سفارت خانہ نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے 24×7 کنٹرول روم قائم کیا ہے، تاکہ ہر متاثرہ خاندان کو معلومات تک فوری رسائی ہو۔ ہندوستانی حجاج کیلئے ہیلپ لائن نمبر:8002440003یہ محض ایک نمبر نہیں آج یہ سینکڑوں روتے ہوئے دلوں کا سہارا ہے، امید کی آخری کرن ہے۔ سفارت خانہ اپنی پوری توجہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے، مگر جو نقصان ہو چکا ہے اس کا مداوا دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔ یہ حادثہ بتا رہا ہے کہ موت نہ وقت دیکھتی ہے، نہ جگہ نہ عمر، نہ منزل جو لوگ اللہ کے گھر سے دلوں میں نور لئے لوٹ رہے تھے، وہ شاید دنیا کے دکھوں سے آزاد ہوکر اس مقام پر پہنچ گئے جہاں نہ تھکن ہے، نہ بیماری، نہ غم صرف رحمت ہی رحمت ہے۔ لیکن پیچھے رہ جانے والے لوگ؟ ان کے لئے یہ آزمائش زندگی کی سب سے بڑی چوٹ ہے۔ ان کے دل میں بس ایک ہی صدا گونج رہی ہے یا اللہ! یہ امتحان اتنا سخت کیوں؟ ہم اس وقت کوئی خبر نہیں لکھ رہے ہر لفظ ایک آنسو ہے، ہر جملہ ایک سسکی، اور ہر فقرہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی گواہی ہے۔ کسی کا بھائی کسی کا شوہر کسی کی بہن کسی کا جوان بیٹا یہ سب اس سفر میں اللہ کے حضور حاضر ہوگئے۔
سعودی عرب کی گرم ریت شاید برسوں تک ان 42 جانوں کی خوشبو اپنے اندر سنبھالے رکھے گی۔ مدینہ کی مقدس ہوائیں، شاید ان کی روحوں کے لئے دعا کرتی رہیں گی خاموش، آہستہ، مگر ہمیشہ۔ یا اللہ ان سب کی مغفرت فرما۔ ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ ان کے گناہوں کو معاف فرما۔ ان کی روحوں پر اپنی بے حساب رحمتیں نازل فرما۔ ان کے لواحقین کے دلوں کو تھام لے، انہیں وہ صبر عطا فرما جو تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہم سب اسی کے ہیں اور اُسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ