uttar pradesh
طلبہ اپنی صلاحیت کو پہچانے اور وقت کامثبت استعمال کریں: پروفیسر اسلم جمشید پوری
(پی این این)
میرٹھ:طالب علموں کی یہ عمر امنگوں،جوش اور ولولوں کی ہوتی ہے اور اس عمر میں ایک الگ طرح کا ان میں اعتماد اور چستی پھرتی ہوتی ہے اور ذہانت کے اعتبار سے بھی یہ دور طلبا کی بلندیوں پر ہوتا ہے بس ضرورت اس بات کی ہو تی ہے کہ وہ کسی طرح اپنی قابلیت کو سمجھ لے۔ صحیح فیصلہ لے کر اور خوب محنت کر کے کوئی بھی طالب علم آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔یہ الفاظ تھے صدر شعبہئ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری کے جو پریم چند سیمینار ہال میں منعقد طلبا کی الوداعی تقریب میں اپنے صدارتی خطبے کے دوران ادا کررہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس عمر میں زیادہ تر بچے خواہشات کا شکار ہو کر غلط راہوں کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں اور اپنا مستقبل خراب کر لیتے ہیں وہیں کچھ طالب ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف اپنے ٹارگیٹ پر نشانہ رکھتے ہیں اور کامیابی کے جھنڈے کاڑتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن میں آپ سے امید رکھتا ہوں کہ آپ یہاں سے جانے کے بعد سماج میں کسی قسم کی تفریق نہ کریں، ہر کسی کو برابر سمجھیں اور بہترین معاشرے کی تشکیل میں معاون ہوں۔ آپ لوگ خوب محنت کریں گے اور اپنا نہ صرف یہ امتحان اچھے نمبروں سے پاس کریں گے بلکہ زندگی کے ہر امتحان میں آپ کامیاب ہو کر اپنے اساتذہ، خاندان، یونیورسٹی اور ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہوئے بہترین اور شاندار مستقبل کی طرف گامزن ہوں گے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آ غاز بی۔ اے آنرزسال دوم کے طالب علم محمد عیسیٰ رانا نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ بعد ازاں ہد یہئ نعت محمد ساجدربّانی نے پیش کیا۔تقریب کی صدارت معروف ادیب و ناقد اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے اور مہمان خصوصی کے بطور معروف شاعر ڈاکٹر زکی طارق نے شر کت فرمائی اور خوبصورت نظا مت کے فرائض ایم اے سال اول کی طالبہ نمرہ نے ادا کیے۔شکریے کی رسم بی اے آنرز کے طالب علم محمد ندیم نے ادا کی۔ پروگرام میں محمد شعیب، فلک، مسکان،فبیہا،طیبہ تبسم،عظمیٰ ترنم،محمد نوشاد، کاشفہ، لمرا، نے مختلف پرو گرام پیش کیے۔ خصوصاً قوالی کی ٹیم، مہوش، نایاب،محمد عیسیٰ رانا، محمد زبیر کی پیش کش کو خوب سراہا گیا۔بچوں کی خواہش پر معروف شاعر ڈاکٹر زکی طارق نے اپنا بہترین کلام پیش کیا جس کو سامعین و ناظرین نے خوب سرا ہا۔
اس موقع پر اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہو ئے ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ آج کی یہ الوداعی تقریب بہت عمدہ رہی۔اس موقع پر انہوں نے اپنی یادیں ساجھا کیں اور بتایا کہ اپنے کلاس فیلو کو کبھی نہ بھولنا چاہئے خواہ آپ کتنے ہی اعلیٰ مقام پر پہنچ جائیں۔ ہمیشہ ایک دوسرے کے رابطے میں رہیں اگر آپ کے ساتھیوں کو آپ کی مدد درکار ہے تو کبھی بھی اپنے ساتھیوں سے منہ نہ موڑیں کیونکہ وہ آپ کے بہت خوبصورت دنوں کے ساتھی رہیں ہیں اس تعلق سے علامہ اقبال کا یہ شعر عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی آپ کی بھر پور رہنمائی کرے گا۔اقبال کے اس پیغام کو اپنی عملی زندگی میں اتار لیں تو یقینا کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔انسانیت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔آپ انسانیت کا خیال رکھیں۔یہ میری دعا بھی ہے اور خواہش بھی۔پروگرام کے آخر میں ایم اے سال دوم کے محمد شعیب،کو مسٹر فءئر ویل اورمہک کو مس فئیر ویل جب کہ بی اے[NEP] کے محمد زبیرکو مسٹر فیئر ویل اور منتہا کو مس فیئر ویل خطاب سے نوازا گیا۔اس موقع پر سیدہ مریم الٰہی، نزہت اختر، فر حت اختر، اطہر خان، سبحانہ،حیدر، فرحین، سمیت کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود رہے۔