Bihar
امام گنج:روٹی کم بنانےکولے کرشادی شدہ خاتون کا قتل
(پی این این)
امام گنج (گیاجی) : بہار کے گیا ضلع کے امام گنج تھانہ علاقہ سے انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا ایک دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں محض “چار روٹی کم بنانے” کے تنازع میں ایک شادی شدہ خاتون کے مبینہ قتل کا الزام اس کے سسرال والوں پر لگا ہے۔ متوفیہ کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹی کو پہلے طعنے دیے گئے، پھر رات میں گلا دبا کر قتل کر دیا گیا اور صبح کرنٹ لگنے سے موت کی کہانی گھڑ دی گئی۔ واقعہ کے بعد پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔متوفیہ کی شناخت وشرام پور گاؤں باشندہ 26 سالہ رینا دیوی کے طور پر ہوئی ہے۔ رینا کی شادی سال 2019 میں ساگر وشوکرما سے ہوئی تھی، جو فی الحال چنئی میں رہ کر کام کرتا ہے۔ شادی شدہ خاتون اپنے ساس، سسر اور نندوں کے ساتھ گاؤں میں رہتی تھی۔
متوفیہ کے والد دلیپ مستری نے بتایا کہ سنیچر کی رات ان کی بیٹی نے فون کر روتے ہوئے بتایا تھا کہ کھانے میں چار روٹی کم پڑ گئی، جس سے گھر میں تنازع شروع ہو گیا۔ ساس، سسر اور دونوں نندیں اسے مسلسل طعنے دے رہی تھیں۔والد کے مطابق، رینا نے فون پر کہا تھا کہ گھر کا ماحول انتہائی کشیدہ ہے۔ انہوں نے بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ صبح آ کر بات کریں گے، لیکن رات گزرنے سے پہلے ہی اس کی زندگی ختم ہو گئی۔
گھر والوں کے مطابق اتوار کی صبح چنئی سے داماد ساگر وشوکرما کا فون آیا۔ اس نے بتایا کہ رینا کی موت کرنٹ لگنے سے ہو گئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی میکے والے وشرام پور پہنچے، لیکن وہاں کا منظر دیکھ کر ان کے ہوش اُڑ گئے۔متوفیہ کے والد کا الزام ہے کہ جب وہ پہنچے تو گھر والوں نے ارتھی تیار کر رکھی تھی اور لاش کو جلدی جلدی آخری رسومات کے لیے لے جانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اسی بات سے خاندان کا شک مزید گہرا ہو گیا۔
رینا کے والد نے صاف طور پر الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کا قتل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہیز کو لے کر پہلے بھی رینا کو ہراساں کیا جاتا تھا۔ کئی بار پنچایت اور سمجھوتے کے ذریعے معاملہ کو پرسکون کرایا گیا، لیکن سسرال والوں کا رویہ نہیں بدلا۔انہوں نے الزام لگایا کہ سنیچر کی رات روٹی کو لے کر ہوئے تنازع کے بعد ساس، سسر اور دونوں نندوں نے مل کر رینا کا گلا دبا دیا اور بعد میں کرنٹ سے موت کا بہانہ بنا کر معاملہ دبانے کی کوشش کی۔
واقعہ کے بعد وشرام پور اور آس پاس کے دیہات میں طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لوگ اس بات سے حیران ہیں کہ گھریلو تنازع اتنا بھیانک رخ اختیار کر سکتا ہے۔ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد اور جہیز کے لیے ہراسانی کو لے کر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔پوسٹ مارٹم رپورٹ پر ٹکی پولیس کی نظرامام گنج تھانہ پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ امام گنج ایس ایچ او امت کمار نے بتایا کہ معاملہ کی ہر زاویے سے جانچ کی جا رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔پولیس کا کہنا ہے کہ میکے والوں کی درخواست کی بنیاد پر آگے کی قانونی کارروائی کی جائے گی اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔