دیش
پنجاب چنائو کو لیکر پنجاب کے مسلمانوں کی بڑی سیاسی میٹنگ مطالبات پورے نہ ہونے پر عام آدمی پارٹی کے بائیکاٹ کا اعلان:ایڈووکیٹ نعیم خان
جالندھر: پنجاب میں 2027 اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر مسلم سماج کی سیاسی اور سماجی شمولیت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے مسلم سنگٹھن پنجاب کا ایک اہم اجلاس سرکٹ ہائوس جالندھر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت تنظیم کے صدر ایڈووکیٹ نعیم خان نے کی۔اس اجلاس میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سماجی، سیاسی، مذہبی اور تعلیمی نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں پنجاب سرکار سے ہر ضلع میں مسلم کمیونٹی ہال، مسلم آڈیٹوریم اور مسلم ایجوکیشن کالج قائم کرنے کے مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ تعلیم اور سماجی ترقی کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ممکن نہیں، اس لیے حکومت کو مسلم سماج کی بنیادی ضروریات پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔مسلم تنظیم پنجاب کے جنرل سیکرٹری ایم. عالم مظاہری نے اجلاس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس پنجاب کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ان کے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کی اہم کوشش ہے۔ انہوں نے تمام شرکا کا تعارف بھی کرایا۔اس موقع پر مسلم سنگٹھن پنجاب کے صدر ایڈووکیٹ نعیم خان نے کہا کہ گزشتہ10 برسوں میں کسی بھی سیاسی جماعت نے پنجاب کے مسلمانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا، جس کے باعث مسلم سماج پنجاب سرکار سے خود کو نظر اندازمحسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی مرتبہ عام آدمی پارٹی کے اعلیٰ لیڈر شپ اور وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے ملاقاتیں کی گئیں، لیکن ہر بار صرف یقین دہانیاں ملیں اور وعدے پورے نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مسلم سماج کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا، مگر اب مسلم سماج اپنے حقوق اور وجود کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کرے گی۔ ایڈووکیٹ نعیم خان نے واضح کیا کہ اگر عام آدمی پارٹی نے مسلم سماج کے مطالبات پورے نہ کئے تو آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم سماج اب صرف انہی سیاسی جماعتوں کی حمایت کرے گا جو ان کے مسائل کو ترجیح دے کر ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی پنجاب بھر کے مسلمانوں کا ایک بڑا اجتماع عیدگاہ جالندھر میں منعقد کیا جائے گا، جس میں آئندہ سیاسی حکمت عملی اور اجتماعی فیصلوں کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ اجلاس میں پنجاب بھر کے مسلم نمائندوں سے مشورے لیے گئے ہیں اور اگلے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اجلاس میں سابق اقلیتی کمیشن رکن حمید مسیح، مسلم سنگٹھن پٹھانکوٹ کے صدر محمد جمال، حاجی عابد حسن سلمانی، ایاز میکس سلمانی، مولانا انور امرتسری، شمشاد ٹھیکیدار نکودر، غلام سرور صبا پھگواڑہ، قاری غیور احمد لدھیانہ، مسلم سنگٹھن نواں شہر کے پردھان محمد نظام، جنرل سیکرٹری محمد شاہد سلمانی، عالمگیرگوجر آدم پور، مدرسہ دارِ ابی ایوب کے ناظم مولانا امان اللہ مظاہری، خوشی محمد کپور تھلہ، عبد الحمید سلطانپور لودھی، واحد کرتارپور، علائوالدین چاند، عبد المنان خان، مانک علی، مفتی شاہ عالم چترویدی امرتسر، مولانا طالب حسین، حیدر حسین، ریاض خان ہوشیارپور، قیوم خان جالندھر کینٹ، شکیل خان، عمران خان، دائود عالم، عتیق احمد، اقصیٰ آپٹیکل کے ایم ڈی محمد نہال، منظور حسین سلمانی بٹھنڈہ، عاقب جاوید سلمانی، ڈاکٹر ناصر خان، سرفراز، سکندر شیخ، اسلم خان، ارمان شیخ، حافط اطہر آزاد ،خاص صاحب شاہکوٹ سمیت بڑی تعداد میں نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔