Bihar

ملک کے اندر کی غریبی اور مسائل پربات کیوں نہیں کرتے ہیں وزیراعظم؟،روہنی اچاریہ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ہندوستان سے متعلق ہنگر کی رپورٹ پربنایا شدید تنقید کا نشانہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی ہے۔ نیدرلینڈس میں دیے گئے ان کے ایک خطاب پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے روہنی آچاریہ نے وزیرِ اعظم کو اپنے ہی ملک کی صورتحال پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ اپنے ملک کی غربت کو نظر انداز کرکے وزیرِ اعظم دنیا کو غریبی کے بحران سے خبردار کر رہے ہیں۔
روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے وزیرِ اعظم پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک پر تو 26 مئی 2014 سے ہی بحران کے بادل منڈلانے شروع ہوگئے تھے اور آج حالات اس قدر خوفناک اور سنگین ہوچکے ہیں کہ یہ ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کی مہربانی سے ملک میں غربت کا عالم یہ ہے کہ 81.35 کروڑ لوگ ہر ماہ ملنے والے پانچ کلو راشن کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کی بڑی آبادی خطِ غربت کے نیچے یا اس کے آس پاس زندگی بسر کر رہی ہے۔روہنی آچاریہ نے مزید کہا کہ اعداد و شمار کی بازیگری کے ذریعے حکومت کچھ اور تصویر پیش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ 26 مئی 2014 کو نریندر مودی نے پہلی بار وزیرِ اعظم کے طور پر حلف لیا تھا۔
روہنی آچاریہ نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر وزیرِ اعظم دنیا کو غربت کے بحران سے خبردار کرنے سے پہلے ورلڈ بینک اور نیتی آیوگ کے اعداد و شمار پر بھی نظر ڈال لیتے، جن کے مطابق ہندوستان میں تقریباً 27 کروڑ لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، یعنی ملک کا ہر پانچواں شخص غریب ہے۔انہوں نے کہا کہ شاید وزیرِ اعظم کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ عالمی بھوک اشاریہ میں ہندوستان 127 ممالک میں 105ویں مقام پر ہے، جبکہ گلوبل ہنگر رپورٹ 2024 میں ملک کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
روہنی آچاریہ نے کہا کہ عالمی پلیٹ فارمز پر وزیرِ اعظم کو غربت کی بات کرتے دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور ہنسی بھی آتی ہے، کیونکہ ملک کے اندر وہ کبھی کسی اسٹیج یا فورم پر غربت کا ذکر کرتے نہ دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی اپنی انتخابی ریلیوں میں اس موضوع پر بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم بیرونِ ملک جاکر غربت اور بھوک پر کھل کر گفتگو کرتے ہیں، لیکن ملک کے اندر ان مسائل پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نیدرلینڈس کے دارالحکومت دی ہیگ میں کہا کہ دنیا اس وقت بے مثال چیلنجز کے سلسلے کا سامنا کر رہی ہے۔ پہلے کورونا وبا آئی، پھر جنگوں کا آغاز ہوا اور اب توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دہائی دنیا کے لیے آفات کی دہائی بنتی جا رہی ہے۔ اگر جنگیں نہ رکیں تو حالات مزید خراب ہوں گے اور دنیا کی ایک بڑی آبادی غربت کے دلدل میں پھنس جائے گی۔اپنے پانچ ممالک کے دورے کے دوران نیدرلینڈس میں ہندوستانی تارکینِ وطن سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی نے خبردار کیا کہ اگر ان حالات کو تیزی سے نہ بدلا گیا تو گزشتہ کئی دہائیوں میں حاصل کی گئی عالمی کامیابیاں ختم ہو جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network