دیش
دھار کی کمال مولیٰ مسجد مندر قرار،پوجا کی ملی اجازت،نماز پر لگی پابندی،سجد کی زمین کیلئے درخواست کرسکتا ہے مسلم فریق،ایودھیا کے طرز پر اندور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ،اضی شہر نے کیا سپریم کورٹ جانے کا اعلان
(پی این این)
اندور۔مدھیہ پردیش کے دھار واقع تاریخی بھوج شالہ تنازعہ پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایسا فیصلہ سنایا، جس نے مسلم فریق کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ عدالت نے بھوج شالہ کو مندر قرار دیا اور ساتھ ہی ہندو فریق کو پوجا کرنے کا حق بھی دے دیا۔ یہ ہندو فریق کی بہت بڑی جیت تصور کی جا رہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’ہم نے اخذ کیا ہے، اس جگہ پر ہندوؤں کی پوجا کبھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
ہم یہ بھی درج کرتے ہیں کہ تاریخی ادب یہ ثابت کرتا ہے کہ متنازعہ علاقہ بھوج شالہ کی شکل میں پرمار خاندان کے راجہ بھوج سے منسلک سنکرت تعلیم کے مرکز کی شکل میں جانا جاتا تھا۔‘‘یہ فیصلہ آج ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے سنایا ہے۔ عدالت کے سامنے خاص طور سے یہ سوال تھا کہ کیا یہ ایک ہندو مندر (واگ دیوی مندر) ہے؟ یا پھر مسلم مسجد (کمال مولا مسجد) ہے؟ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہم نے اے ایس آئی کے دستاویزات اور رپورٹ پر غور کیا، اور اس اصول پر بھی کہ آثار قدیمہ ایک سائنس ہے۔ ہم اے ایس آئی کے نتائج پر بھروسہ کرتے ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ ایک محفوظ عمارت ہے، یہ بالکل واضح ہے۔ اے ایس آئی کے پاس نگرانی کا پورا کنٹرول ہے اور تحفظ کا حق بھی ہے۔معاملے پر سماعت کے دوران عدالت نے مسلم فریق کے لیے یہ بات ضرور کہی کہ وہ مسجد کی زمین کے لیے درخواست کر سکتا ہے۔
ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی ایکٹ کے جائز التزامات کے ساتھ ساتھ ایودھیا معاملہ میں قائم مثال کی بنیاد پر، اور قدیم آثار پر مبنی ثبوتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے عدالت اے ایس آئی کے ذریعہ کیے گئے ایسے کثیر موضوعاتی اسٹڈی کے نتائج اور ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 و 26 کے تحت بنیادی حقوق پر تحفظاتی طور سے بھروسہ کر سکتی ہے۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جب یہ فیصلہ صادر ہوا، اس وقت بھوج شالہ (کمال مولا مسجد) میں نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ چونکہ آج جمعہ کا دن ہے، اس لیے مقرر کردہ اصول کے مطابق مسلم طبقہ بھوج شالہ میں نماز کر رہا تھا۔ سخت سیکورٹی کے درمیان پُرامن انداز میں نماز جمعہ مکمل ہوئی اور نمازی حضرات گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ عدالت کے فیصلہ سے قبل ہی شہر کے اہم مقامات پر ناکہ بندی کر دی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھی جا رہی تھی تاکہ کوئی افواہ گشت نہ کرے۔ تقریباً 1000 پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی اور خبروں کے مطابق کچھ شر پسند عناصر کی گرفتاری بھی ہوئی۔واضح رہے کہ بھوج شالہ تنازعہ میں مجموعی طور پر 3 فریقین شامل ہیں۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ گیارہویں صدی میں راجہ بھوج کے ذریعہ تیار سرسوتی مندر اور گروکل ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ یہاں مسلم سرگرمیوں پر روک لگائی جائے اور ہندوؤں کو مستقل پوجا کرنے کا مکمل حق دیا جائے۔ مسلم فریق (مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی) کا کہنا ہے کہ یہ صدیوں سے کمال مولا مسجد رہی ہے۔ انھوں نے اے ایس آئی کی سروے رپورٹ کو ’جانبدار‘ بتایا اور دلیل دی ہے کہ سروے کے دوران شفافیت نہیں رکھی گئی۔ تیسرا فریق جین طبقہ سے ہے۔
حال ہی میں جین سماج نے بھی ایک مداخلت عرضی داخل کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ بنیادی طور سے ایک جین گروکل اور مندر تھا، اور وہاں ملی واگ دیوی کی مورتی دراصل ’جین یکشنی امبیکا‘ ہے۔ اب عدالت کے فیصلے پرشہرقاضی وقارصادق نے ردعمل ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلے کو پڑھیں گے اور سمجھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم فریق سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔
واضح رہے کہ اس فیصلے سے پہلے دھارضلع میں دفعہ 163 نافذ کردی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی 5 سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پرپابندی لگا دی گئی ہے اورکسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرہ اورجلوس پر بھی روک لگائی گئی ہے۔