دلی این سی آر
عام آدمی پارٹی میں پھوٹ،سیسودیا کی کجریوال سے ملاقات
(پی این این )
نئی دہلی :راجیہ سبھا میں اپنی دو تہائی نشستیں کھونے کے بعد، جب عام آدمی پارٹی کے کئی اراکین پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئے، اب پارٹی نے نئی حکمتِ عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس صورتحال پر پارٹی قیادت کے درمیان مسلسل غور و خوض جاری ہے۔ گجرات کے دورے سے واپسی کے بعد سینئر رہنما منیش سسودیا نے پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
منیش سسودیا گجرات کے میونسپل انتخابات کے سلسلے میں راجکوٹ میں پارٹی کے لیے انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، دہلی واپس آنے کے بعد سسودیا سیدھے ایئرپورٹ سے پارٹی کنوینر اروندکجریوال کی رہائش گاہ پہنچے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان آدھے گھنٹے سے زائد وقت تک ملاقات ہوئی۔ اس دوران پارٹی میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کے ممکنہ اثرات اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب راگھو چڈھا نے کہا کہ انہوں نے، عام آدمی پارٹی کے چھ دیگر راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ، قواعد کے مطابق ایوان کے چیئرمین کو پارٹی چھوڑنے کی اطلاع دے دی ہے۔ اب عام آدمی پارٹی بھی اس معاملے پر راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ ایوانِ بالا کے چیف وِپ این ڈی گپتا، راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک متل کے خلاف راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط جمع کرائیں گے۔
گپتا کے خط میں انسدادِ انحراف قانون کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ تینوں رہنما عوامی سطح پر بی جے پی میں شامل ہوتے نظر آئے ہیں، جبکہ باقی چار کو اس طرح عوامی طور پر شامل ہوتے نہیں دیکھا گیا۔ اسی لیے چیف وِپ ان تین اراکین کے خلاف شکایت درج کریں گے جنہیں بی جے پی کے دفتر میں دیکھا گیا۔عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما سنجے سنگھ نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ راجیہ سبھا کے چیئرمین کو خط لکھیں گے اور آئین کے دسویں شیڈول کے تحت ان تین اراکین کی نااہلی کا مطالبہ کریں گے، جس میں پارٹی چھوڑنے کی بنیاد پر نااہلی کی شقیں درج ہیں۔
دلی این سی آر
جامعہ کے4 طلبہ بجاج اسکالرشپ برائے خواتین کیلئے منتخب
نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلایہ کے فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کی چار طالبات بجاج آٹو لمٹیڈ کی پہل موقر روپا راہل بجاج اسکالر شپ برائے خواتین کے لیےمنتخب ہوئی ہیں۔ اس کا مقصداہم تکنیکی علوم میں ا نجیئرنگ کی تعلیم کو جاری رکھنے میں ہونہار طالبات کو بااختیار ب بنانا ہے۔اسکالرشپ پروگرام میں چار سال میں آٹھ لاکھ کی مالی اعا ت کی فراہمی اس کے ساتھ ساتھ صنعت کودیکھنے سمجھنے کے مواقع،مینٹورنگ کے مواقع،ز ندگی کی مہارتوں کی تربیت اور مینوفیچکرنگ ٹکنالوجی کو سمجھنا شامل ہے۔یہ پہل ہندوستان کی مینوفیکچرنگ اور متعلقہ شعبوں میں خواتین ماہرین کی شرکت کو مضبوطی فراہم کر انا چاہتی ہے۔ درج ذیل طالبات نے انتہائی مقابلہ جاتی اور باوقار اسکالرشپ حاصل کی ہے: ایک۔ادیبہ فاطمہ،ڈپارٹمنٹ آف الیکٹریکل ا نجینئرنگ۔ چھتیس ہزار چھپن روپے دو۔ صوفیہ ا نصاری،ڈپارٹمنٹ آف الیکٹرانکس (وی ایل ایس آئی ڈیزائن اینڈ ٹکنالوجی) ایک لاکھ باو ہزار آٹھ سو پچھہترروپے۔ تین۔ ہباصالحہ ،ڈپارٹمنٹ آف میکانیکل انجینئرنگ۔پچاس ہزار سات سو پچیس روپے۔ چار۔ صوفیہ سید، ڈپارٹمنٹ آف الیکٹریکل ا نجینئرنگ ۔ ا یس ہزار دوسو پچیس روپے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ سے طلبہ کا منتخب ہونا ،یو نیور سٹی کے فیکلٹی آف انجیئرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں علمی فضیلت اور صلاحیتوں کے نشو ونما اور انہیں پروا ن چڑھانے کی مخلصا نہ کوششوں کا غماز ہے۔یونیورسٹی ا نتظامیہ منتخب طالبات کو مبارک باد دی ہے اورا ن کے علمی و پیشہ ورا نہ زندگی میں مزید کامیابیوں کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیاہے۔
دلی این سی آر
MCD میں بھی گھر سے کام اور کارپولنگ کی تجویز
نئی دہلی :ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ شرما نے میونسپل کمشنر کو خط لکھ کر انتظامی اصلاحات کا مشورہ دیا ہے۔ اس نے حکام اور ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایندھن کی بچت، آلودگی کو کم کرنے اور ٹریفک کی بھیڑ سے نمٹنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اور کار پولنگ کو اپنائیں۔ اس نے ڈیجیٹل ورک فلو کو فروغ دینے اور غیر ضروری سفر اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو کم کرنے کے لیے گھر سے کام کرنے اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ شرما نے میونسپل کمشنر کو ایک خط لکھا ہے جس میں جامع انتظامی اصلاحات کا مشورہ دیا ہے۔ خط میں انہوں نے واضح کیا کہ میونسپل حکام اور ملازمین پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ مزید برآں، جہاں بھی ممکن ہو کار پولنگ کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ شرما نے دفتر پہنچنے کے لیے میٹرو سے سفر کرکے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی اور سرکاری گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال کم کیا جائے۔ اس سے نہ صرف ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ ٹریفک کی بھیڑ بھی کم ہوگی۔ یہ وقت ایندھن کی بچت، آلودگی پر قابو پانے، اور ٹریفک کی بھیڑ کے لیے اجتماعی ذمہ داری لینے کا ہے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے گھر سے کام کا نظام اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو ایسے کاموں کے لیے گھر سے کام کرنے کی لچک دی جانی چاہیے جو ڈیجیٹل طریقے سے کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ زیادہ تر ملاقاتیں ویڈیو کانفرنسنگ، ویڈیو کالز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے کی جائیں۔
قابل ذکر ہے کہ ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ شرما کی طرف سے دی گئی مندرجہ بالا تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دہلی حکومت نے ایندھن کی بچت اور آلودگی کو کم کرنے کے لیے ‘مائی انڈیا، مائی کنٹریبیوشن مہم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب سرکاری ملازمین ہفتے میں دو دن گھر سے کام کریں گے اور زیادہ تر میٹنگز آن لائن ہوں گی۔ حکومت نے نجی کمپنیوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو ہفتے میں دو دن گھر سے کام کرنے دیں۔
دلی این سی آر
ڈی ڈی اے پارکس میں ہوگا صبح 10 بجے تک داخلہ مفت: ایل جی
دہلی میں صبح کی سیر، جاگنگ اور فٹنس سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہے۔ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے راجدھانی کے کئی بڑے پارکوں، گرین ایریاز اور ہیریٹیج سائٹس میں صبح 10 بجے تک صبح کی سیر کرنے والوں کے لیے مفت داخلہ کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سردار ترنجیت سنگھ سندھو کی ہدایت پر لیا گیا ہے۔
ڈی ڈی اے کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ قدم وزیر اعظم نریندر مودی کی ‘فٹ انڈیا موومنٹ’ کو آگے بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کو صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دی جائے گی اور فٹنس میں عوام کی شرکت بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
ڈی ڈی اے کے مطابق، پارکس اور سائٹس جو پہلے انٹری فیس وصول کرتے تھے اب صبح 10 بجے تک صبح کی سیر کرنے والوں، جوگرز اور فٹنس کے شوقین افراد کے لیے فیس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اس سے ہزاروں لوگوں کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔
اس فیصلے کے دائرہ کار میں کئی مشہور پارکس اور گرین سپاٹس کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں مہرولی آرکیالوجیکل پارک، بنسیرا، آسیتا، کرانتی ادیان، واٹیکا، اٹل سدبھاونا پارک، واسودیو گھاٹ، ویشنوی پارک، سیکٹر 16 ڈی دوارکا میں ڈی ڈی اے گرین، امرت بائیو ڈائیورسٹی پارک، لالہ ہردیو لال پارک (جسولا) اور نریلا میں اسمرتی وین شامل ہیں۔
ڈی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس پہل کا مقصد دہلی والوں کو صبح کے وقت کھلے اور ہرے بھرے ماحول میں صحت کی سرگرمیوں کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس کا مقصد شہر میں فٹنس کی ثقافت اور صحت مند طرز زندگی کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ دیگر تمام ڈی ڈی اے پارکس عوام کے لیے پہلے کی طرح مفت کھلے رہیں گے۔
دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اس وقت دارالحکومت میں 16,000 ایکڑ سے زیادہ گرین اسپیس کا انتظام کرتی ہے۔ اس میں 700 سے زیادہ پارکس، بائیو ڈائیورسٹی زون، شہر کے جنگلات، علاقائی پارکس، اور پڑوس کے باغات شامل ہیں۔ یہ سبز علاقے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے اور لوگوں کو صاف ستھرا اور قدرتی ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
