Connect with us

دیش

وکیل تبسم ظفر بنیں گی جموں وکشمیر کی پہلی خاتون جج، کولیجیئم نے کی سفارش

Published

on

(پی این این )
سری نگر:جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے کولیجیئم نے عدالتِ عالیہ میں ججوں کی تقرری کے لیے 11 ناموں کی سفارش کی ہے، جن میں پہلی بار ایک کشمیری خاتون وکیل کا نام بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق تجویز کردہ افراد میں 10 وکلاء اور ایک عدالتی افسر شامل ہیں۔ ان ناموں میں اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل، ڈپٹی سالیسٹر جنرل اور سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جیسے سینئر قانونی ماہرین بھی شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ فہرست میں شامل خاتون وکیل تبسم ظفر ہیں، جن کی تقرری کی منظوری کی صورت میں وہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی پہلی کشمیری خاتون جج بن جائیں گی۔ دیگر سفارش کردہ وکلاء میں وشال شرما، نامگیال وانگچک، جہانگیر اقبال گنائی، پون کمار کنڈل، طاہر مجید شمسی، انوپم رائنا، وکرم کمار شرما، امیت گپتا اور پرونَو کوہلی شامل ہیں، جبکہ یش پال بورنی واحد عدالتی افسر ہیں جنہیں اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس انتخابی عمل میں میرٹ، دیانتداری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور بار میں مقام کو بنیادی معیار بنایا گیا، جبکہ علاقائی اور سماجی نمائندگی کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ہائی کورٹ اپنی منظور شدہ تعداد کے مقابلے میں ججوں کی کمی کا سامنا کر رہا ہے، اور ان تقرریوں سے خالی آسامیوں کو پُر کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

کمال مولیٰ مسجد میں 700سال کے درمیان پہلی بار نہیں ہوئی نماز جمعہ کی ادائیگی،مسلمانوں میں غم کا ماحول

Published

on

(پی این این)
دھار۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد معروف تاریخی مسجد مولا کمال عرف بھوج شالہ میں 700 سال کے بعد پہلا جمعہ ہے جس کی ادائیگی نہیں ہوسکی۔ مسلمانوں کو انتہائی غم کا سامنا ہے۔ انھوں نے آج بازوئوں پر کالی پٹی باندھی اور دکان بند رکھی۔ جبکہ پوجا کرنے والوں نے جشن منایا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پہلے جمعہ پر دھار میں سخت سیکورٹی نافذ کی گئی ہے۔ اور پورے شہر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ مولا کمال مسجد کے اطراف کو پولیس چھائونی میں بدل دیا گیا ہے۔

Continue Reading

دیش

بنگلہ دیشی دراندازسیدھا ہوں گے بی ایف ایف کےحوالے۔سوبھیندو ادھیکاری

Published

on

(پی این این)
کولکاتہ۔مغربی بنگال سرکار غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کو کورٹ کے بجائے سیدھا بی ایس ایف کو سونپے گی۔ یہ اعلان مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوبھیندو ادھیکاری کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ نیا ضابطہ 20 مئی سے نافذ ہوگیا ہے ، اس سلسلے میں بنگال کے وزیر اعلیٰ نے مزید کہا ہے کہ غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے بارے میں پولیس کمشنر اور ریلوے پروٹیکشن فورس (آرپی ایف) کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
نئے ضابطے کے مطابق جو لوگ غیر قانونی شہری پائے جائیں گے اور شہری ترمیمی قانون (سی اے اے) کے تحت وہ شہریت پانے کے حقدار نہیں ہوں گے۔ واضح ہو کہ سی اے اے میں پاکستان ، بنگلہ دیش، افغانستان سے آئے غیر مسلم رفیوجیوں کو شہریت ملنے کا اختیار ہے۔ 31 دسمبر 2024 سے قبل پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے مذہبی بنیاد پر شکار ہونے والے غیر مسلم ہندوستان آئے جن میں ہندو، سکھ ،بودھ ، جین ، پارسی اور عیسائی طبقے کو شہریت دی جائے گی۔
ان تینوںمذکورہ بالا ملکوں کو ہی شہریت ملے گی۔ سی اے اے کا تعلق ہندوستانی شہریوں سے نہیں ہے۔آئین کے تحت ہندوستانیوں کو شہریت کا اختیار ہے۔ سی اے اے کا قانون اسے چھین نہیں سکتا۔ سرکار نے وضاحت کی ہے کہ شہریت کے لئے درخواست آن لائن کرنا ہوگا۔ عرضی دہندہ کو بتانا ہوگا کہ وہ کب ہندوستان آیا۔ عرضی دہندہ پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویز نہ ہونے کے باوجود بھی عرضی ڈال سکے گا۔ اس کے تحت ہندوستان میں اس کے رہنے کی مدت پانچ سال سے زائد رکھی گئی ہے۔
اور جو مسلم گیارہ سال سے ہندوستان میں مقیم ہیں اسے بھی عرضی ڈالنے کی سہولت دی گئی ہے۔ بہرحال سوبھیندو ادھیکاری کے ذریعہ اس اعلان کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے۔ سوبھیندو ادھیکاری نے کہا ہے کہ بنگال میں اب قانونی عمل شروع ہوچکا ہے۔ سی اے اے کے تحت آنے والے سات طبقات اور 31 دسمبر 2024 تک ہندوستان آئے لوگوں کو شہریت قانون کا فائدہ ملے گا ، پولیس انھیں حراست میں نہیں لے سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ سی اے اے کے دائرے میں نہیں آتے وہ گھس پیٹھیئے ہیں ، ریاستی پولیس انھیں گرفتار کرکے بی ایس ایف کو سونپے گی۔ کولکاتہ میں بی ایس ایف کو زمین دینے کے معاملے میں مٹنگ میں انھوں نے اعلان کیا کہ یہ صرف آغاز ہے۔ زمین کا عمل دو ہفتوں میں پورا ہوجائے گا۔

Continue Reading

دیش

کاکروچ جنتا پارٹی نے بی جے پی کو پچھاڑا،5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔’کاکروچ جنتا پارٹی‘نام کا ایک انسٹا گرام کا اکائونٹ جو 16 مئی سے وائرل ہے۔ اس کے محض 5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میں وہ بی جے پی سے بھی آگے ہوگیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کو لیکر نوجوانوں میں ایک جوش ہے۔ اور غم وغصہ بھی ہے۔ غورطلب ہے کہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تعبیر کیا تھا۔ جس کا ملک پر بہت گہرا اثرا ہوا۔
اسی دوران اب یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ کہ محض پانچ دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کے زین جی طبقے کے ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔ جو ایک دن انقلاب کا باعث بن سکتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network