اتر پردیش
مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود نہیں کر سکتی انتظامیہ : الہ آباد ہائی کورٹ
(پی این این)
پریاگ راج :الہ آباد ہائی کورٹ نے مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے پر سنبھل کے ڈی ایم اور ایس پی کو پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ انتظامیہ مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود نہیں کر سکتی۔ اگر ڈی ایم راجندر پنسیا اور ایس پی کے کے وشنوئی کو لگتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہیں، تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے یا ٹرانسفر کا سامنا کرنا چاہیے۔ امن و امان کو ہر حال میں برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس اتل شریدھرن اور سدھارتھ نندن کی ایک ڈویژن بنچ نے کہا کہ یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر کمیونٹی مخصوص عبادت گاہوں پر پرامن طریقے سے عبادت کر سکے۔ اگر جگہ نجی ملکیت ہے تو ریاست سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ ریاستی مداخلت صرف اس وقت ضروری ہے جہاں سرکاری زمین پر نماز یا مذہبی سرگرمیاں منعقد کی جائیں۔
درخواست گزار منظیر خان کے مطابق حیات نگر تھانے کے پولیس افسران گزشتہ سال فروری میں آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد میں صرف 20 لوگ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ایک وقت میں صرف 5 سے 6 لوگ نماز پڑھیں۔ اس کے بعد 18 جنوری 2026 کو ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس کی پہلی سماعت 27 فروری کو ہوئی، یہ حکم آج (ہفتہ) ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا گیا۔ اس معاملے پر اگلی سماعت 16 مارچ کو ہوگی۔
ہائی کورٹ میں درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ “رمضان کے دوران مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے، رمضان چل رہا ہے، اس لیے احاطے کے اندر بڑی تعداد میں لوگ نماز ادا کرنے آ سکتے ہیں”۔ دریں اثنا، حکومتی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کے خدشے کے پیش نظر نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکومتی وکیل کے دلائل کو مسترد کر دیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ آپ نے ابھی تک مسجد یا جائے نماز کی کوئی تصویر جمع نہیں کرائی۔ درخواست گزار نے وقت کی استدعا کی۔ اس کے بعد عدالت نے انہیں جائے نماز کی تصاویر اور ریونیو ریکارڈ پیش کرنے کی اجازت دے دی۔ اب، وہ اسے 16 مارچ سے پہلے جمع کرائیں گے۔
حیات نگر گاؤں میں 2700 سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ یہاں 450 مربع فٹ کی مسجد ہے جس کا نام غوثیہ ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ زمین پلاٹ نمبر 291 ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ یہ زمین سکھی سنگھ کے بیٹوں موہن سنگھ اور بھوراج سنگھ کے نام ہے۔
uttar pradesh
جمعیۃ علماءضلع مظفرنگر کی خصوصی میٹنگ منعقد۔
اتر پردیش
اے ایم یو کے ویمنس کالج میں شجر کاری مہم کا انعقاد
اتر پردیش
پورے علاقہ میں امن و سکون برقرار رکھناہماری پہلی ترجیح : کوتوالی انچارج کپل دیو
(پی این این)
دیوبند:پریس کلب دیوبند کے صدر ممتاز ملک کی قیادت میں شہر کے صحافیوں نے کوتوالی دیوبندمیں تبادلہ ہوکر آنے والے نئے کوتوالی انچارج کپل دیو سے ملاقات کی اور انہیں نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ گفتگو کے دوران صحافیوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ نئے کوتوالی انچارج کپل دیو دیوبند اور آس پاس کے علاقوںکا نظم و نسق مزید بہتر طریقے سے قائم رکھیں گے تاکہ جرائم پر قابو پایا جاسکے۔
صحافیوں نے کہا کہ دیوبندقدیم بستی ہونے کے ساتھ حساس مقامات میں شمار ہوتا ہے اس لئے یہاں پولیس کی فعالیت اور سرگرمی بے حد اہم ہوتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نو آمد انسپکٹر کپل دیو غیرجانب دارانہ اور سخت اقدامات کے ذریعہ سے اس پورے علاقہ کو جرائم سے پاک رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔ کوتوالی انچارج کپل دیو نے سبھی مہمانوںاور صحافیوں کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ شہر کے عوام اور صحافیوں کے تعاون سے اس پورے علاقے میں امن و سکون برقرار رکھنا ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جرائم اور شرپسندعناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور عوامی مسائل کو ترجیحی بنیاد پر سنا جائے گا۔ اس ملاقات کے دوران شاہ الرٹ کے ضلع بیورو چیف سکندر علی ، راج کمارجاٹو، اوم ویر سنگھ، حسنین گوڑ، ڈاکٹر مہتاب آزاد سمیت دیگر صحافی موجود رہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
